نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے نیشنل سی ایس آر سمٹ 2026 سے بھارت منڈپم میں خطاب کیا


یکسر  تبدیلی کے لیے حکومت، صنعت اور سماج کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے: نائب صدر کا نیشنل سی ایس آر سمٹ میں اظہارِ خیال

نائب صدرنے زور دیا کہ سی ایس آر کو ’ملک کی تعمیر کا مرکز ‘ بننا چاہیے

نائب صدر نے کارپوریٹ انڈیا پر زور دیا کہ منافع کو مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے

نیشنل سی ایس آر سمٹ میں نائب صدر نے کہا کہ’’جب آپ کوئی عہد کریں تو اسے پورا کریں‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 FEB 2026 2:05PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھاکرشنن، نے آج نئی دلّی میں بھارت منڈپم میں منعقدہ نیشنل سی ایس آر سمٹ 2026 سے خطاب کیا، جس کا اہتمام دی ٹائمس آف انڈیا گروپ  نے کیا تھا۔

نائب صدر نے دی ٹائمس آف انڈیا گروپ کو اس سمٹ کے انعقاد اور قیادت، افکار اور عملی اقدام  کو یکجا کرنے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جب ادارے مل کر کام کرتے ہیں تو معاشرہ اورملک  اجتماعی طور پر آگے بڑھتے ہیں اور بھارت کے اس انقلابی مرحلے میں ایسی ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ دہائی کے دوران بھارت کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ بھارت دنیا کی دسویں بڑی معیشت سے چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور تیسری بڑی معیشت بننے کی سمت گامزن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ساختی اصلاحات، ہمہ گیر توسیع، ڈیجیٹل کنکٹی ویٹی ، مالی شمولیت اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ  کے نتیجے میں 25 کروڑ سے زائد شہری شدید غربت سے باہر آئے ہیں اور ملک کے مختلف خطوں اور طبقات میں نئی امنگیں پیدا ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی کے درمیان مزید گہری شراکت داری درکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) اب اتنی اہمیت کی حامل نہیں لیکن  ملک کی  ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے مطابق سی ایس آر وہ مقام  ہے جہاں کاروبار کاہمدردی سےسنگم ہوتا ہے، بیلنس شیٹس انسانی کہانیوں سے منسلک ہوتی  ہیں اور ترقی کو مقصد حاصل ہوتا ہے۔

بھارت کے وژن ’’آتم نربھر بھارت‘‘ اور ’’وکست بھارت @ 2047‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ترقی وسیع بنیادوں پر ہونی چاہیے، خوشحالی سب کے لیے ہو اور پائیداری ناقابلِ سمجھوتہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آرسرکاری تعلیم کو مضبوط بنانے، دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات بہتر کرنے، صنعت سے ہم آہنگ مہارتوں کی تربیت کو فروغ دینے، خواتین کی قیادت میں کاروبار کی حمایت کرنے اور قابلِ تجدید توانائی و ماحولیاتی استحکام کے اقدامات کے ذریعے ماحول کے لیے سازگار  منتقلی کو تیز کرنے میں تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

نائب صدر نے زور دیا کہ سی ایس آرصرف قانونی تقاضوں کی تکمیل نہیں بلکہ ملک  سے وابستگی کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایماندار ٹیکس دہندگان سب سے زیادہ محب وطن شہریوں میں شامل ہیں، اور جب کارپوریٹ انڈیا کمیونٹیز، پائیداری، نوجوانوں اور جدت میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو وہ سماجی سرمائے کو مضبوط بناتا اور طویل مدتی ترقی کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی کو اپنانے والے ملک سے جدت پیدا کرنے والے ملک کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اسے ایسی اختراعات کرنی چاہئیں جنہیں دنیا اپنائے۔

کاروبار کرنے میں آسانی ، ڈیجیٹل حکمرانی اور جی ایس ٹی جیسی پالیسی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے نظام میں اعتماد اور شفافیت کو مضبوط کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف پالیسیاں کسی ملک  کو تبدیل نہیں کر سکتیں؛ حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب حکومت، صنعت اور سول سوسائٹی ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں—جو اس سمٹ کی اصل روح ہے۔

ذمہ دار سرمایہ داری پر گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ منافع اور مقصد کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی فلاح وبہبود کے عزم کے ساتھ حاصل کیا گیا جائز منافع ضروری ہے، اور جدت و شمولیت نیز ترقی و پائیداری کو ایک دوسرے کو تقویت دینی چاہیے۔

انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ سمٹ نئی وابستگیوں اور ریاستوں و شعبوں میں قابلِ تقلید ماڈلز کو جنم دے گی۔ انہوں نے کارپوریٹ قائدین پر زور دیا کہ وہ جرات مندانہ سوچ اپنائیں، حکمتِ عملی کے ساتھ سرمایہ کاری کریں، اثرات کی سختی سے پیمائش کریں اور سی ایس آرکو خرچ نہیں بلکہ ملک کی تعمیر کا مرکز سمجھیں۔

نائب صدر نے میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ترقیاتی کہانیوں کے لیے زیادہ جگہ مختص کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مؤثر جمہوریت میں عوام مرکز میں ہونے چاہئیں اور نظام پر ان کا اعتماد مثبت پیش رفت کی کہانیوں کے ذریعے مضبوط ہونا چاہیے۔ انہوں نے انتخابی عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا اور رائے دی کہ ’’ون نیشن، ون الیکشن‘‘ کے تصور پر عمل درآمد مضبوط فیصلہ سازی اور طویل مدتی پالیسی توجہ کو ممکن بنائے گا۔

***

(ش ح –اع خ ۔ ر ا)

U.No:2843


(ریلیز آئی ڈی: 2231196) وزیٹر کاؤنٹر : 12