وزارت دفاع
وزیر اعظم اور فرانس کےصدر نے کرناٹک کے ویمگل میں ایچ-125 لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر کی فائنل اسمبلی لائن کا ورچوئل افتتاح کیا
ایچ-125 کی فائنل اسمبلی لائن بھارت-فرانس اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم سنگِ میل ہے: وزیرِ دفاع
‘‘حکومت اہم ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے ذریعے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرنے کیلئے پُرعزم ہے’’
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 FEB 2026 10:16PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے17 فروری 2026 کو ممبئی سے ورچوئل طریقے سے کرناٹک کے ویمگل میں واقع ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز کے ایئر بس ایچ-125 لائٹ یوٹیلٹی ہیلی کاپٹر کی فائنل اسمبلی لائن کا افتتاح کیا۔ورچوئل افتتاح کے دوران فائنل اسمبلی لائن کے کمپلیکس میں وزیرِ دفاع جناب راجناتھ سنگھ، فرانس کی مسلح افواج اور سابق فوجیوں کی امور کی وزیر کیتھرین واؤ ٹَرن، مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر جناب کے آر نائیڈو اور کرناٹک حکومت کے بڑے اور درمیانے درجے کے صنعت کےوزیر ایم بی پاٹل بھی موجود تھے۔


اپنے خطاب میں وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے ایچ-125ہیلی کاپٹروں کی فائنل اسمبلی لائن کو بھارت اور فرانس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک سنگِ میل قرار دیا۔انہوں نے کہا: ‘‘فرانس کے ساتھ ہمارا تعاون لا محدود ہے، جہاں ہماری باہمی فائدے والی شراکت داری کے لیے آسمان بھی کوئی حد نہیں ہے۔’’انہوں نےایچ -125منصوبے کے لیے ٹی اے ایس ایل اور ایئر بس ہیلی کاپٹرز کو مبارکباد دی، جو ان کے پہلے کے تعاون کے بعد بھارت میں سی-295ٹرانسپورٹ طیارے بنانے کے منصوبے کی پیروی کرتا ہے۔انہوں نے اس منصوبے کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ بھارت کس طرح بین الاقوامی اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز کے ساتھ تعاون کر کے میک اِن انڈیا وژن میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ میک ان انڈیا اور آتم نربھر بھارت 2014 سے بھارت کی اقتصادی پالیسی کے بنیادی ستون رہے ہیں اور انہوں نے اس اقدام کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی اس عزم کی بڑی جھلک قرار دیا کہ اہم ٹیکنالوجیز میں خود کفالت حاصل کی جائے اور دوستانہ ممالک کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے ذریعے اعلیٰ درجے کی مصنوعات اور سازوسامان تیار کیے جائیں۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ ایچ-125 پروگرام میں سرمایہ کاری کی توقع ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہے اور یہ ہنر مند اور محنتی نوجوانوں کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہے۔انہوں نے ایچ-125 ہیلی کاپٹروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جو اپنی غیر معمولی قابلِ بھروسہ کارکردگی، کثیر المقاصد صلاحیت اور مختلف عملی حالات میں بہترین مظاہرے کے لیے مشہور ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘ایچ-125دنیا بھر میں سب سے مؤثر اور قابلِ اعتماد سنگل انجن ہیلی کاپٹروں میں سے ایک ثابت ہوئی ہے۔’’

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے زور دیا کہ بھارت گزشتہ ایک دہائی سے تیز صنعتی ترقی کا راستہ اختیار کر رہا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر، اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے متعدد اسکیموں جیسے کہ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) کے ذریعے سرمایہ کاری شامل ہے، اس کے علاوہ سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے ایک لبرلائزڈ نظام بھی فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توجہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی حمایت اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے پر بھی رہی ہے۔ انہوں نے کہا: “مجموعی طور پر ہمارا مقصد جامع صنعتی ترقی کو یقینی بنانا ہے جو نہ صرف ہمارے ملکی تقاضوں کو پورا کرے بلکہ دیگر ممالک کی ضروریات کو بھی پورا کرے۔’’
جناب راج ناتھ سنگھ نے وزارت دفاع کی جانب سے کیے گئے اصلاحات کی تفصیل بیان کی جو پرائیویٹ سیکٹر کے دفاعی صنعتی نظام میں کردار کو بڑھانے کے لیے کی گئی ہیں، جن میں آرڈیننس فیکٹریوں کی کارپوریٹائزیشن، لبرلائزڈ سرمایہ کاری اسکیمیں اور دفاعی صنعتی کوریڈورز کا قیام شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تاریخی طور پر بھارت کی دفاعی پیداوار زیادہ تر پبلک سیکٹر پر مبنی تھی، جس کی وجوہات میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت اور طویل پیداواری مدت شامل تھی، جس کے نتیجے میں پرائیویٹ سیکٹر کی پیداوار اور برآمدات میں شراکت کم رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے سبب پرائیویٹ سیکٹر کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہو گیا ہے، اور دفاعی برآمدات کئی گنا بڑھ گئی ہیں، جس نے بھارت کو دنیا کے اعلیٰ دفاعی برآمد کنندگان میں شامل کر دیا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ اس ترقی کی رفتار نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) اور معاون شعبوں کو بے پناہ فروغ دیا ہے، جو آج 16,000 سے زائد کی تعداد تک پہنچ گئی ہیں، اور بہت سی غیر ملکی کمپنیاں اب اپنے متعدد اجزاء بھارتی ایم ایس ایم ای سے حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط کریں، بامعنی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے اور جدید حل پیش کر کے دیگر ممالک کی سکیورٹی کی ضروریات کو بھی پورا کریں۔
چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، وزیرِ دفاع کے سکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ، سکریٹری (ڈیفنس پروڈکشن) جناب سنجیو کمار اور دیگر سینئر افسران بھی اس تقریب میں موجود تھے۔
ایچ 125 ایم کو ایک ہائی الٹی ٹیوڈ کے فورس ملٹی پلائر کے طور پر مختلف اہم مشنز میں خدمات فراہم کرنے کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔ یہ کثیر المقاصد پلیٹ فارم ٹیکٹیکل ریکانائسنس اور نگرانی میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے کم صوتی اور حرارتی سگنیچرز کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ مزید برآں، ایچ 125 ایم بلند مقام پر لاجسٹکس میں فیصلہ کن برتری فراہم کرتا ہے، دور دراز فرنٹ لائن آؤٹ پوسٹس تک ضروری سامان کی ترسیل کو یقینی بناتا ہے اور سرچ اینڈ ریسکیو یا میڈیکل ایویکوایشن آپریشنز کے لیے تیز ردعمل کے وسائل کے طور پر کام کرتا ہے۔
ایچ 125تاریخ کا واحد ہیلی کاپٹر ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر اترا ہے ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کارکردگی کی حد موجودہ لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر بیڑے سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ ہندوستانی فوج کے لیے ، جو دنیا کے سب سے مشکل اونچائی اور اعلی درجہ حرارت والے ماحول میں کام کرتی ہے ، یہ غیر معمولی کارکردگی ایک اہم فیصلہ کن برتری فراہم کر سکتی ہے ۔
یہ ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز اور ایئر بس کے درمیان دوسرا بڑا صنعتی تعاون ہے، جس کا آغاز سی295 فوجی ٹرانسپورٹ کی فائنل اسمبلی لائن کے بعد ہوا اور اس نے بھارت میں ایک جامع فوجی ایروسپیس ایکو سسٹم کو مستحکم کیا ہے۔
****
(ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن)
U- 2788
(ریلیز آئی ڈی: 2230761)
وزیٹر کاؤنٹر : 33