الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ماہرین نے کہا کہ اے آئی وسائل کو  بالکل واضح عوامی مفادات  کے حامل نتائج کی  جانب مرکوز کیا جانا چاہیے


مساوات، شمولیت اور عوامی مفاد اے آئی کی تبدیلی کے مستقبل کے رخ کا تعین کریں گے

صارفین اور تخلیق کاروں کے لیے اے آئی کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کو ایک اہم پالیسی چیلنج قرار دیا گیا

ایشیا میں مہارتوں کے فرق کو دور کرنے  کو اے آئی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 2:42PM by PIB Delhi

 انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے حصے کے طور پر’’عوامی مفادات کے حامل اے آئی کو تیار کرنا:  کمپیوٹ وسائل تک منصفانہ رسائی کے لیے تحریک فراہم کرنے والی فنڈنگ ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس، میں’’نئے اے آئی مستقبل کے لیے کمپیوٹیشنل وسائل تک رسائی کو وسعت دینا ‘‘کے موضوع پر ورکنگ رپورٹ  جاری کی گئی۔ اس رپورٹ کا اجرا  ءاعداد وشمار اور پروگراموں پر عمل درآمد کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ نے کیا۔ اس مباحثے میں سینئر سرکاری قائدین، فلاحی اداروں اور عالمی اے آئی ماہرین نے شرکت کی، جہاں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ  تحریک فراہم کرنے والی  فنڈنگ  سے نئے ادارہ جاتی ماڈلز اور  جنوب –جنوب  تعاون کے ذریعے عالمی خطہ  جنوب کے لیے جدید کمپیوٹ وسائل کو کس طرح قابلِ رسائی اور کم لاگت بنایا جا سکتا ہے۔

 گفتگو کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ اب سوال صرف ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش بڑھانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ان وسائل کو صحت، تعلیم اور زراعت جیسے شعبوں میں واضح عوامی مفاد کے  حامل نتائج حاصل کرنے کے لیے  مؤثر طور پر استعمال کیا جائے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مانگ کو یکجا کرنا، مشترکہ  بنیادی ڈھانچے ، مہارتوں کے فروغ اور مشن پر مبنی حکمرانی کے فریم ورک ایسے کلیدی عناصر ہوں گے جو کمپیوٹ تک رسائی کو اسٹارٹ اپس، محققین اور سماجی شعبے کی تنظیموں کے لیے عملی اور مؤثر استعمال میں تبدیل کریں گے۔

 اعداوشمار اور پروگراموں پر عمل درآمد کی  وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ نے  عالمی اے آئی منتقلی میں مساوات کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی پیش رفت کا پیمانہ اس کا عوامی مقصد سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب کی متفقہ رائے ہے کہ اے آئی دنیا کو بدل دے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی منصفانہ، جامع اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہوگی؟ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو اس وقت عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے۔‘‘

اے آئی کولیبریٹو  کے سی ای او، جناب مارٹن ٹیسنے نے خبردار کیا کہ اگر صلاحیت کی تخلیق کے ساتھ اس کا مؤثر استعمال نہ ہو تو  بنیادی ڈھانچہ اور  اثرات کے درمیان خلا بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہ خدشہ ہے کہ دو سال بعد ہم ایسی دنیا میں ہوں جہاں کئی ممالک، بشمول عالمی جنوب، میں کمپیوٹنگ صلاحیت تو موجود ہو، مگر ڈیٹا سینٹرز مؤثر طور پر استعمال ہی نہ ہو رہے ہوں۔‘‘

پیٹرک جے میک گورن فاؤنڈیشن کے صدر  جناب ویلاس دھر نے پالیسی، سرمایہ اور عملی نفاذ کو بڑے پیمانے پر جوڑنے کے لیے نئے ادارہ جاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ رسائی کو صرف منڈی کی قوتوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اے آئی کو صارفین اور تخلیق کاروں کے لیے ایک قابلِ توسیع خدمت میں بدلنا صرف مصنوعات کا چیلنج نہیں بلکہ پالیسی کا چیلنج بھی ہے۔ یہ پیش رفت نہ تو صرف نجی منڈی کے ذریعے ممکن ہے اور نہ ہی محاذِ اول پر کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں کو ڈویلپر بنا کر۔ آئندہ ب12 مہینے  میں ہماری توجہ ایسے اداروں کی تشکیل پر ہونی چاہیے جو مختلف عناصر کو جوڑ کر اس تبدیلی کو وسیع پیمانے پر ممکن بنا سکیں۔‘‘

قہلا  کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شیکوہ گیتاؤ نے اس بات پر زور دیا کہ کمپیوٹ کی مانگ کو واضح ترقیاتی نتائج سے منسلک ہونا چاہیے اور اسے بین ملکی تعاون سے تقویت ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف جی پی یو کی فراہمی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ دیکھنا اہم ہے کہ جی پی یو کس مقصد— صحت، تعلیم اور زراعت جیسے مسائل کے حل کے لیے استعمال ہو رہا ہے ۔ جب واضح استعمال کے مواقع موجود ہوں تو جی پی یو کی مانگ ایک فطری امر بن جاتی ہےاور خلا کو پُر کرنے کے لیے حکمرانی کا فریم ورک بھی زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔‘‘

فلانتھراپی ایشیا فاؤنڈیشن   کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرشان سیو نے مانگ کو یکجا کرنے، رعایتی رسائی کے ماڈلز اور مہارتوں کے فروغ کو  جدید کمپیوٹنگ تک رسائی بڑھانے کے اہم ذرائع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب آپ نئے کلاؤڈ ماڈلز یا ’جی پی یو بطور سروس‘ کے ابھار پر غور کرتے ہیں تو یہ پیش رفت سماجی اثرات اور معاشی مواقع کے لیے اے آئی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ اسے اسٹارٹ اپس اور اثر انگیز تنظیموں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی کیسے بنایا جائے؟ اس کے لیے پورے ایکو سسٹم پر غور کرنا ہوگا۔ ایشیا میں مہارتوں کا  فرق بہت بڑا ہے، اور یہی عنصر ہمیں اس طاقت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے سے روک سکتا ہے۔‘‘

اجلاس میں ایک ایسا لائحۂ عمل پیش کیا گیا جس کے تحت اہم  سرکاری اور فلاحی سرمایہ، مشترکہ کمپیوٹ انفراسٹرکچر اور باہمی طور پر مربوط حکمرانی کے فریم ورک مل کر اے آئی کو ایک عالمی عوامی فلاحی اثاثہ بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

****

)ش ح –    م ع-  م ذ(

U.N. 2784


(ریلیز آئی ڈی: 2230716) وزیٹر کاؤنٹر : 13