وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم کی سیوا تیرتھ میں اے آئی اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ
’16 اے آئی اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور بانیان نے اپنے نظریات اور کام پیش کیے
یہ اسٹارٹ اپس بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرنے کے لیے صحت، زراعت، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق اور سماجی بااختیاری جیسے متنوع شعبوں میں کام کر رہے ہیں
وزیر اعظم نے اثر انگیز حل تیار کرنے پر اختراع کاروں کی تعریف کی اور ہندوستان کی ضروریات کے مطابق حل تیار کرنے پر زور دیا
وزیر اعظم نے دیگر شعبوں کے علاوہ زراعت، ماحولیاتی تحفظ اور مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے جیسے مختلف شعبوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت پر تبادلۂ خیال کیا
اسٹارٹ اپس نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کی ستائش کرتے ہوئے اسے اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر ہونے والی گفتگو میں ملک کے بڑھتے ہوئے مقام کا اظہار قرار دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 FEB 2026 12:27PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج صبح سیوا تیرتھ میں اے آئی اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز کے ساتھ ایک راؤنڈ ٹیبل میٹنگ کی۔
راؤنڈ ٹیبل میں شریک اسٹارٹ اپس کلیدی شعبوں میں بڑے پیمانے پر درپیش چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں، وہ جدید تشخیص، جین تھراپی اور مریضوں کے ریکارڈ کے مؤثر انتظام کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں تک معیاری دیکھ بھال پہنچائی جا سکے۔ زراعت میں، وہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جیو اسپیشل اور زیرِ آب انٹیلی جنس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس گروپ میں سائبر سکیورٹی، اخلاقی اے آئی، خلائی تحقیق، مقامی زبانوں کے ذریعے انصاف اور تعلیم تک رسائی کے ذریعے سماجی بااختیاری اور کاروباری پیداواری صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے پرانے نظاموں کو جدید بنانے پر توجہ مرکوز کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسے ایکو سسٹم کی عکاسی کرتے ہیں جو مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جدت طرازی میں عالمی قیادت بھی فراہم کر رہا ہے۔
اے آئی اسٹارٹ اپس نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اس شعبے کی تیز رفتار توسیع اور اس میں بے پناہ غیر مستعمل صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی جدت طرازی اور تعیناتی کا عالمی رخ تیزی سے ہندوستان کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اب اے آئی کی ترقی کے لیے ایک سازگار اور متحرک ماحول فراہم کر رہا ہے، جس نے عالمی اے آئی منظر نامے پر اپنی موجودگی کو مضبوطی سے قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کی بھی ستائش کی اور اسے اے آئی کے گرد عالمی بات چیت کی تشکیل میں ملک کے بڑھتے ہوئےمقام کا اظہار قرار دیا۔
وزیر اعظم نے بڑے خطرات مول لینے اور اثر انگیز حل تیار کرنے پر اختراع کاروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے زراعت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مختلف شعبوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت پر تبادلۂ خیال کیا، جس میں مٹی کی صحت کے تحفظ کے لیے فصلوں کی پیداواری صلاحیت اور کھاد کے استعمال کی نگرانی بھی شامل ہے۔ ہندوستانی زبانوں اور ثقافت کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے اے آئی ٹولز کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے ڈیٹا کی مضبوط گورننس کی ضرورت پر زور دیا، غلط معلومات کے تعلق سے خبردار کیا اور ہندوستان کی ضروریات کے مطابق حل تیار کرنے کی ترغیب دی۔ یو پی آئی کو سادہ اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والی ڈیجیٹل جدت طرازی کے ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، انہوں نے ہندوستانی کمپنیوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور مقامی مصنوعات پر بھروسہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے خلائی شعبے میں نجی شراکت داری کو بڑھانے کے بارے میں بھی بات کی اور ہندوستانی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی کا ذکر کیا۔
ا س میٹنگ میں ابرِج، عدالت اے آئی، برین سائیٹ اے آئی، کریڈو اے آئی، ایکا کیئر، گلین، انوگلی، ان ویڈیو، میکو، اوریجن، پروفیز، راسن ، روبرک، سیٹ شور، سپر نووا اور سائفا اے آئی کے سی ای اوز اور بانیان نے شرکت کی۔ اس موقع پر پرنسپل سکریٹری جناب پی کے مشرا، پرنسپل سکریٹری-2 جناب شکتی کانت داس اور وزیر مملکت جناب جتن پرساد بھی موجود تھے۔
******
ش ح۔ک ح
U. No. 2772
(ریلیز آئی ڈی: 2230653)
وزیٹر کاؤنٹر : 19
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Bengali
,
Assamese
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam