الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں فن لینڈ اور بھارت کے درمیان توسیع پذیر اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا گیا
فن لینڈ اور بھارت، عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر، مضبوط، پائیدار اور انسان پرمرکوز ٹیکنالوجی کی ترقی کی قیادت کر سکتے ہیں:فن لینڈ کے وزیر پیٹری اُورپو
فن لینڈ اور بھارت کے درمیان تال میل مشترکہ جدت طرازی اور ڈیپ ٹیکنالوجی کے حل کو عالمی سطح پر نافذ کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتاہے
یہ اجلاس مشترکہ عزم، عملی نتائج پر توجہ اور مضبوط و خودمختار ڈیپ ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2026 3:29PM by PIB Delhi
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ‘‘مستحکم مستقبل کے لیے خودمختار ڈیپ ٹیکنالوجی کی تعمیر’’ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں بشمول مصنوعی ذہانت، خلاء، کوانٹم کمپیوٹنگ اور اگلے سلسلے کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں فن لینڈ اور بھارت کے درمیان توسیع پذیر اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا گیا۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تحقیق، انجینئرنگ اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ میں فن لینڈ کی مہارتیں، بھارت کی رفتار، صلاحیت اور اپلی کیشن ایکو نظام کے ساتھ مل کر مشترکہ جدت طرازی اور ڈیپ ٹیکنالوجی کے حل کو عالمی سطح پر نافذ کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
مقررین نے سائنسی دریافت کو تیز کرنے اور اسے تجارتی اور سماجی نتائج میں تبدیل کرنے میں سرکاری و نجی شراکت داری ، مشترکہ تحقیقی ڈھانچے اور کھلے اختراعی فریم ورک کے کردار پر زور دیا۔ بات چیت کے دوران ٹیکنالوجی کی خودمختاری کو پائیدار ترقی، سرکلر اکانومی کے حل، ماحولیاتی اقدامات اور انسان پرمرکوز ڈیزائن سے بھی جوڑا گیا اور خلائی ٹیکنالوجی، جدید کنیکٹیویٹی اور ہائبرڈ کمپیوٹنگ کو طویل مدتی استحکام کے اہم عوامل کے طور پر شناخت کیا گیا۔

اپنے خطاب میں فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹریو اورپو، نے کہا کہ جیسے جیسے کمپیوٹنگ کی طاقت کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے، یہ یقینی بنانا نہایت ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور کاروباری شعبہ دونوں سپرکمپیوٹنگ کی صلاحیت تک رسائی حاصل کریں۔ سرکاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری فن لینڈ میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور اپلی کیشن کو اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے یکجا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فن لینڈ کا اختراعی نظام دہائیوں پر محیط مضبوط سرکاری ونجی پالیسی اور تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے مزید اجاگر کیا کہ ایک پائیدار اور مستحکم ٹیکنالوجیکل مستقبل بنانے کے لیے ہمیں پوری ویلیو چین اور اس کے سماجی اثرات کو سمجھنا ہوگا۔ ایک اختراعی سرکاری ونجی شراکت داری کے ساتھ، مصنوعی ذہانت پائیدار ترقی کو تیز کر سکتی ہے۔ اس سے مدوّر معیشت کے حل فروغ پائیں گے، ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور اجتماعی فلاح و بہبود میں بہتری آئے گی۔انہوں نے اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فن لینڈ اور بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر، استحکام، پائیداری اور انسان پرمرکوز ٹیکنالوجی کی ترقی میں قیادت کرنے کے قابل ہوں گے۔
فن لینڈ کے رکن پارلیمنٹ ٹیمو ہرکّا نے کہا کہ آج کے دور میں مستحکم ٹیکنالوجی کی تعمیر انسان مرکوز اختراع، مضبوط مہارتوں اور ذمہ دارانہ حکمرانی رکھنے والے لوگوں سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ فن لینڈ اور بھارت ایک ایسے ٹیکنالوجی کے وژن کو بانٹتے ہیں جو قابلِ اعتماد، اخلاقی اور معاشرتی فوائد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہو۔انہوں نے مزید زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور خلائی نظام سے لے کر اگلے سلسلے کی کنیکٹیویٹی اور کوانٹم ٹیکنالوجیز تک، بھارت-فن لینڈ شراکت داری ظاہر کرتی ہے کہ مقابلہ آرائی اور استحکام تب بڑھتے ہیں جب ہم کھلے معیارات، محفوظ بنیادی ڈھانچے اور بین الاقوامی تعاون میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی ٹیکنالوجیکل خودمختاری اکیلے میں نہیں، بلکہ اس قابلِ اعتماد تعاون میں ہے جو اختراع کے مرکز میں انسان، ماحول اور ترقی کو رکھتا ہے۔

اس اجلاس میں فن لینڈ کے انوویشن فنڈ سیترا کے صدر اٹے جاسکیلینن ، ریوربٹ کے سی ای او اور بانی سیتو سیوڈا سوونم ، انفوسس سینٹر فار ایمرجنگ ٹیکنالوجی سولیوشنز کے اے وی پی اور پرنسپل ریسرچ اینالسٹ منجوناتھا ککورو ، اسٹریٹجک پارٹنرشپ اینڈ ایکوسسٹم کے سینئر نائب صدر پاسی ٹویوانن اور سی ایس سی آئی ٹی سینٹر فار سائنس میں ریسرچ آرگنائزیشن کولیبریشن اینڈ اکیڈمک پارٹنرشپ کے ڈائریکٹر ماری والز نے شرکت کی ۔
اس اجلاس میں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کھلے ، محفوظ اور قابل اعتماد تکنیکی ایکو نظام کی تعمیر کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کی گئی ، جس میں تحقیق کو حقیقی دنیا کے اثرات میں تبدیل کرنے اور خودمختار اور پائیدار ڈیپ ٹیک صلاحیتوں کے ذریعے طویل مدتی استحکام کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
********
ش ح۔م ع۔ ص ج
U NO: 2642
(ریلیز آئی ڈی: 2229672)
وزیٹر کاؤنٹر : 13