خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مالی سال 27-2026 کے صنفی بجٹ بیان میں خواتین اور لڑکیوں کی بہبود کے لیے 5.01 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ مالی سال 26-2025 کے 4.49 لاکھ کروڑ روپے کے جی بی ایس مختص بجٹ کے مقابلے میں 11.55 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے


مالی سال 27-2026 کے صنفی بجٹ بیان میں چار نئی وزارتوں/محکموں نے اپنے بجٹ کی تفصیلات بتائیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 FEB 2026 11:33AM by PIB Delhi

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے یکم فروری 2026 کو پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 27-2026 پیش کیا۔ کل مرکزی بجٹ میں صنفی بجٹ  کے حصے کا تناسب مالی سال 26-2025 کے 8.86فیصد سے بڑھ کر مالی سال 27-2026 میں 9.37 فیصد ہو گیا ہے۔

مالی سال 27-2026 کے صنفی بجٹ بیان میں خواتین اور لڑکیوں کی بہبود کے لیے 5.01 لاکھ کروڑ روپے مختص کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ مالی سال 26-2025 کے 4.49 لاکھ کروڑ روپے کے جی بی ایس مختص بجٹ کے مقابلے میں 11.55 فیصد کا اضافہ ہے۔

اس سال کل 53 وزارتوں/محکموں اور 5 مرکز کے زیر انتظام علاقوں  نے بجٹ مختص کرنے کی رپورٹ دی ہے، جبکہ مالی سال 26-2025 میں یہ تعداد 49 وزارتیں/محکمے اور 5 مرکز کے زیر انتظام علاقے تھی۔ جی بی ایس کے آغاز سے اب تک وزارتوں/محکموں کی جانب سے رپورٹ کی گئی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ چار نئی وزارتوں/محکموں نے مالی سال 27-2026 کے جی بی ایس میں بجٹ مختص کیا ہے۔

ان 53 وزارتوں/محکموں اور 05 مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے صنفی بجٹ بیان کے حصہ اے، حصہ بی  اور حصہ سی میں بجٹ مختص کرنے کے بارے میں بتایا ہے۔ 09 وزارتوں/محکموں اور 01 مرکز کے زیر انتظام علاقے کی جانب سے حصہ اے (100 فیصد خواتین کے لیے مخصوص اسکیمیں) میں 1,07,688.42 کروڑ روپے (کل جی بی ایس مختص بجٹ کا 21.50 فیصد) رپورٹ کیے گئے ہیں؛ 28 وزارتوں/محکموں اور 01 مرکز کے زیر انتظام علاقے کی جانب سے حصہ بی (خواتین کے لیے 30-99 فیصد مختص بجٹ) میں 3,63,412.37 کروڑ روپے (72.54 فیصد) رپورٹ کیے گئے ہیں اور 37 وزارتوں/محکموں اور 05 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے حصہ سی (خواتین کے لیے 30فیصد سے کم مختص بجٹ) میں 29,777.94 کروڑ روپے (5.95فیصد) رپورٹ کیے گئے ہیں۔

مالی سال 27-2026 کے صنفی بجٹ میں اپنی مختص رقم کا 30 فیصد سے زیادہ رپورٹ کرنے والی ٹاپ 11 وزارتیں/محکمے یہ ہیں: خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت(81.73فیصد)، محکمۂ دیہی ترقی (69.92فیصد)، شمال مشرقی خطہ کی ترقی کی وزارت (48.60فیصد)، پینے کا پانی اور صفائی ستھرائی کا محکمہ(48.04 فیصد)، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کا محکمہ (46.34فیصد)، صحت اور خاندانی بہبود کا محکمہ (40.44فیصد)، نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت (39.05فیصد)، محکمۂ اعلیٰ تعلیم (32.25فیصد)، پنچایتی راج کی وزارت (30.93فیصد)، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت (30.22فیصد) اور اسکولی تعلیم اور خواندگی کا محکمہ(30.10فیصد)۔

********

(Release ID: 2229460)

ش ح۔ک ح۔ م ش

U. No. 2618


(ریلیز آئی ڈی: 2229517) وزیٹر کاؤنٹر : 13