زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
دہلی میں جاری اے آئی سربراہ اجلاس کے دوران، مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے راجستھان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی اسکیم ’بھارت وستار‘ لانچ کی
کاشتکاروں کی موجودگی پروگرام کےد وران، اے آئی – بھارتی نے حیرت انگیز طور پر زراعت سے متعلق سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے
جناب شیوراج سنگھ نے حزب اختلاف کے رہنما جناب راہل گاندھی سے سابقہ یو پی اے دورِ حکومت میں زراعت کے معاملات بے ضابطگیوں کے بارے میں پانچ سوالات پوچھے
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اناج، ناداری، اور خوراک سلامتی کے موضوعات پر حزب اختلاف پر سخت تنقید کی اور وزیر اعظم مودی کے راشن ماڈل کو اجاگر کیا
بھارت وستار: ’’سوال پوچھئے اور راست طور پر جواب حاصل کیجئے، 155261 نمبر ہر کاشتکار کے لیے ‘‘: مرکزی وزر شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 FEB 2026 7:01PM by PIB Delhi
زراعت کاشتکاروں کی فلاح و بہبود ، اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان آج راجستھان کے شہر جے پور میں ’بھارت وِستار‘ اسکیم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما بھی موجود تھے۔ پروگرام کے دوران جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کاشتکاروں پر مرتکز اے آئی ہیکاتھون اور ایگری کوش اے آئی حکمت عملی روڈ میپ کی بھی رونمائی کی۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد کاشتکاروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے محکمے نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ’بھارت وستار‘ اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد کاشتکاروں کو تکنالوجی کی مدد سے زراعت سے متعلق مختلف معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے کسان اپنے اسمارٹ فون یا عام موبائل فون کا استعمال کرکے اپنے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی جارہی مختلف اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ’بھارت وستار‘ اسکیم کے تحت کسان 155261 نمبر ڈائل کریں گے، اپنے مسائل بتائیں گے اور فوری حل حاصل کریں گے۔ اسی نمبر کا استعمال ملک بھر کی مختلف منڈیوں سے بازار کی قیمتیں معلوم کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت وستار‘ اسکیم یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ کسی کے سوال پوچھنے پر مقامی زبان میں فوری جوابات مل سکتے ہیں۔ یہ اسکیم ہندی اور انگریزی زبانوں میں شروع کی گئی ہے۔ جلد ہی کاشتکار 11 زبانوں میں بات چیت کر سکیں گے۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ ’بھارت وستار‘ اسکیم کے تحت کاشتکار شناختی کارڈ (آئی ڈی) بھی بنایا جا رہا ہے۔ اس میں کاشتکاروں کے بارے میں تمام معلومات موجود ہوں گی۔ فی الحال، اس اسکیم میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا اور سوائل ہیلتھ کارڈ سمیت کچھ اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ مستقبل میں کاشتکاروں کے لیے تمام اسکیموں کی جانکاری اس کے ذریعے دستیاب ہوگی۔ پورے زرعی نظام کو ’بھارت وستار‘ اسکیم سے جوڑنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
حزب اختلاف کی جماعت پر نشانہ لگاتے ہوئے زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے مرکزی وزیر نے کہا کہ حزب اختلاف کے رہنما جناب راہل گاندھی کو بتانا چاہئے کہ سابقہ یو پی اے حکومتوں نے عدالت میں حلف نامہ داخل کرکے لاگت پر 50 فیصد منافع شامل کرکے ایم ایس پی(کم از کم امدادی قیمت) کا تعین کرنے کی سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارش کو قبول کرنے سے کیوں انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کاشتکاروں کے مفاد میں لاگت پر 50 فیصد منافع جوڑ کر ایم ایس پی کا تعین کرنے کے فیصلے کو زمین پر نافذ کیا۔ 2009-10 کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے شدید سیاسی حملے کیے اور کہا کہ اس وقت ملک کے غریب شہری 20 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور تھے، لیکن پابندی کے باوجود وہی آٹا باہر 12.51 روپے فی کلو کے حساب سے برآمد کیا جاتا تھا، جب کہ گھریلو ضروریات پوری نہیں ہوتی تھیں۔
راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما نے بھی پروگرام سے خطاب کیا اور کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ترقی یافتہ کسانوں کا ہونا ضروری ہے۔ 2047 تک، جب ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا، ہندوستانی کاشتکاروں کا کردار اہم ہوگا۔ یہ ہمارے ملک کے لیے فخر کی بات ہے کہ کاشتکاروں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے ’بھارت وستار‘ اسکیم شروع کی گئی ہے۔ زراعت میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تکنالوجی کی مدد سے کسانوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔ ’بھارت وستار‘ اسکیم کے ذریعے کسان خود کفیل ہوں گے۔ کسانوں کو موبائل فون کی مدد سے زراعت سے متعلق کوئی بھی معلومات فوری طور پر مل جائیں گی۔ زراعت کے لیے ضرورت کے مطابق مٹی کی جانچ، بیج، کھاد اور پانی کے بارے میں معلومات دستیاب ہوں گی۔
زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے محکمہ کے سکریٹری جناب دیویش چترویدی نے پروگرام سے خطاب کیا اور کہا کہ ’بھارت وستار‘ اسکیم کسانوں کو مختلف پلیٹ فارم کے بجائے ایک پلیٹ فارم پر ان کی مقامی زبان میں تمام معلومات فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ سب سے پہلے ہندی اور انگریزی میں معلومات شروع کی جا رہی ہیں۔ جلد ہی کاشتکاروں کو ’بھارت وستار‘ اسکیم کے تحت دیگر مقامی زبانوں میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔
اس پروگرام میں، ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، ڈائریکٹر جنرل، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) نے کہا کہ 'بھارت وستار' ایک تاریخی لانچ ہے جو ہندوستانی زراعت کو مربوط کرتا ہے اور مکمل طور پر کسانوں پر مرکوز ہے۔ پروگرام کے دوران، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری، جے پور سے ایم پی شریمتی منجو شرما؛ شری وی سری نواس، چیف سکریٹری، راجستھان حکومت؛ اس موقع پر راجستھان حکومت کی پرنسپل سکریٹری محترمہ منجو راجپال موجود تھیں۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ملک کی مختلف ریاستوں کے وزیر زراعت بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ ’بھارت وستار‘ اسکیم کا بنیادی مقصد کسانوں کی زراعت سے متعلقہ ضروریات کے لیے ہندوستان کے بڑے اے آئی سے چلنے والے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کا استعمال کرنا ہے۔ 'بھارت وستار' ایک کثیر لسانی اے آئی پر مبنی بات چیت کا مشاورتی نظام فراہم کرتا ہے، جو ایگری اسٹیک، آئی سی اے آر، مختلف زرعی اسکیموں، ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی)، منڈی کی قیمتوں، اور ریاستی نظاموں کے وسائل کو ایک ڈیجیٹل نظام میں ضم کرتا ہے۔ ’بھارت وستار‘ اسکیم کے تحت، کسانوں کو خدمات، منڈی کی قیمتیں، قرض، بیمہ، اور سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات فراہم کرکے، یہ ان کی پیداوار بڑھانے اور خطرات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
لانچ کی اہم جھلکیاں
یہ تقریب جے پور میں منعقد ہوئی جس میں مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان اور راجستھان کے وزیر اعلی جناب بھجن لال شرما سمیت اہم شخصیات نے افتتاح کی قیادت کی۔ اے آئی ہیکاتھون نے کسانوں پر توجہ مرکوز کی، اور ایگری کوش اے آئی اسٹریٹیجی روڈ میپ کی بھی رونمائی کی گئی، جس میں زرعی چنوتیوں کے لیے اختراعی حل پر زور دیا گیا۔ یہ پہل قدمی تکنالوجی پر مبنی کاشتکاروں کی اختیاردہی کے لیے مرکزی حکومت کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔
’بھارت-وِستار‘ اسکیم کی اہم خصوصیات
کاشتکار اپنے سوالات کے لیے 155261 ڈائل کر سکتے ہیں اور اپنی مقامی زبان میں فوری حل حاصل کر سکتے ہیں، یہ ہیلپ لائن ہندی اور انگریزی میں آغاز کے بعد، جلد ہی 11 زبانوں میں دستیاب ہوگا۔ ہیلپ لائن بھارت بھر میں مختلف منڈیوں سے ریئل ٹائم منڈی قیمتیں فراہم کرتا ہے۔ ایک کلیدی جزو کسان کی شناخت، یا کسان شناختی کارڈ ہے، جو کسانوں کا جامع ڈیٹا ذخیرہ کرے گا اور پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا اور سوائل ہیلتھ کارڈ جیسی اسکیموں سے لنک کرے گا، جس میں تمام زرعی اسکیموں کے مکمل انضمام کے منصوبے ہیں۔
وزیر کی تصوریت اور تنقید
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مصنوعی ذہانت کے ذریعہ کاشتکاروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے حکومت کے مقصد کو دوہرایا۔ انہوں نے حزب اختلاف خصوصاً حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور ان کے سامنے یوپی اے دور اقتدار میں زراعت کے شعبے ہوئی بے ضابطگیوں کے بارے میں پانچ سوال پوچھے۔ خصوصی حوالوں میں عدالتی حلف نامے کے ذریعہ ایم ایس پی سے متعلق سوامی ناتھن کمیٹی کی تجاویز کو مسترد کرنا اور 2009-10 میں گھریلو قلت کے درمیان آٹے کی برآمدات کا اسکینڈل شامل ہے۔ ان حالات کے برعکس انہوں نے وزیر اعظم مودی کے لاگت پلس 50 فیصد ایم ایس پی کے نفاذ کا حوالہ بھی دیا۔
دیگر قائدین کے بیانات
راجستھان کے وزیر اعلیٰ جناب بھجن لال شرما نے زور دیا کہ ترقی یافتہ کسان (وکست کسان) 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے لیے ناگزیر ہیں، انہوں نے مٹی کی جانچ، بیج، کھاد اور پانی کے بارے میں اے آئی سے چلنے والے مشورے کے ذریعے خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے ’بھارت وستار‘ کی تعریف کی۔ جناب دیویش چترویدی نے مقامی زبان تک رسائی کے لیے متحد پلیٹ فارم کے نقطہ نظر پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے اسے ہندوستانی زراعت کا ایک تاریخی، کسان مرکوز انضمام قرار دیا۔
حاضرین اور وسیع تر پس منظر
پروگرام میں جناب بھاگیرتھ چودھری، محترمہ منجو شرما، جناب وی سری نواس، اور محترمہ منجو راجپال نے ویڈیو کے ذریعے ریاستی وزرائے زراعت کے ساتھ شرکت کی۔ دہلی کے اے آئی سمٹ کے دوران یہ لانچ زراعت میں اے آئی کے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ 'بھارت وستار' کثیر لسانی مشاورتی خدمات فراہم کرنے، قرضوں، بیمہ اور اسکیم کی معلومات کے ذریعے پیداواری صلاحیت اور خطرات کو کم کرنے کے لیے ایگری اسٹیک، آئی سی اے آر، آئی ایم ڈی، اور ریاستی نظاموں کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:2603
(ریلیز آئی ڈی: 2229320)
وزیٹر کاؤنٹر : 5