الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈی ایل آئی اسکیم کی حمایت یافتہ چِپ ڈیزائن اسٹارٹ اپس مسلسل سرکردہ سرمایہ کاروں کومتوجہ کر رہے ہیں


سی 2 آئی سیمی کنڈکٹرز نے پیک XV پارٹنرزکی قیادت میں 15 ملین امریکی ڈالر کی سیریز اے فنڈنگ حاصل کی - یہ کسی ہندوستانی سیمی کنڈکٹر اسٹارٹ اپ  کے ذریعہ حاصل کردہ  سب سے بڑا فنڈنگ مرحلہ ہے

توانائی کے مؤثر استعمال اور قابلِ اعتماد اعلیٰ کارکردگی کمپیوٹنگ سسٹمز کے لیے سی 2 آئی ایک ذہین پاور مینجمنٹ چِپ ڈیزائن کر رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 FEB 2026 10:05AM by PIB Delhi

ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن ماحولیاتی نظام مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جہاں ڈیزائن سے منسلک مراعات (ڈی ایل  آئی) اسکیم کے تحت معاونت حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مرکز بن رہے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر منصوبے عموماً طویل ترقیاتی مدت، تحقیق و ترقی میں بھاری سرمایہ کاری اور آمدنی کے آغاز سے قبل زیادہ تکنیکی خطرات پر مشتمل ہوتے ہیں، جس کے باعث ابتدائی مرحلے کے سرمایہ کار محتاط رہتے ہیں-اور اسی وجہ سے 2021 سے قبل ہندوستان میں اس شعبے میں صنعت شروع کرنے والے  اثاثے (وینچر کیپیٹل) کی سرمایہ کاری محدود رہی۔

حکومتِ ہند کی ڈی ایل آئی اسکیم، جس کا اعلان 2022 میں کیا گیا، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ابتدائی خطرات کو کم کرتی ہے۔ یہ اسکیم مالی معاونت، جدید ای ڈی اے ٹولز، آئی پی کورز تک رسائی اور سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن کے حوالے سے ایکو سسٹم میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔ اسٹارٹ اپس کو ایک سخت جانچ اور تشخیصی عمل کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے، جس کی نگرانی ایک باصلاحیت ماہرین کی کمیٹی کرتی ہے جو تکنیکی اور صنعتی ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے، تاکہ قابلِ اعتماد ڈیپ ٹیک کمپنیوں کو ہی معاونت ملے۔ یہ منظم اقدام سرمایہ کاروں کے اعتماد اور تجارتی افادیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار فعال طور پر ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت معاونت یافتہ اسٹارٹ اپس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

سی 2 آئی سیمی کنڈکٹرز

مورخہ5 جون 2024 کو بنگلورو میں جس بانی ٹیم کے ذریعہ اس کو قائم کیا گیا ،اس میں ٹیکساس انسٹرومنٹس، نیشنل سیمی کنڈکٹر اور میکسم انٹیگریٹڈ جیسے عالمی ادارے شامل ہیں ،جنہیں  کئی دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔ بعد ازاں،سی 2 آئی کو منظوری دی گئی،جو یکم نومبر 2024 سے نافذ العمل ہے۔اس کا مقصد ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت مالی معاونت اور جدید چِپ ڈیزائن ٹولز تک رسائی فراہم کرناہے۔

سیمی کنڈکٹر صنعت کے تجربہ کار رہنما گنپتی سبرامنیم (فاؤنڈنگ مینیجنگ پارٹنر، یالی کیپیٹل) کی بورڈ میں شمولیت کے ساتھ، سی 2 آئی اگلے سلسلے کے اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کے لیے پاور مینجمنٹ سیمی کنڈکٹر حل تیار کر رہی ہے۔

اپنی انجینئرنگ ٹیم کو تیزی سے بڑھاتے ہوئے 65 انجینئرز تک لے جانے کے بعد، سی 2 آئی حالیہ مہینوں میں ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت چِپ اِن سنٹر کے مرکزی ای ڈی اے ٹول گرڈ کے ذریعے فراہم کردہ ٹولز استعمال کرنے والی 100 کمپنیوں میں سرفہرست تین صارفین میں شامل ہو چکی ہے۔

چیلنج - جدید ڈیٹا سینٹرز میں توانائی محدود کرنے والا عنصر بن رہی ہے:

جیسے جیسے اے آئی ورک لوڈز میں اضافہ ہو رہا ہے، جدید ڈیٹا سینٹرز کوبہت زیادہ اور انتہائی مستحکم بجلی کی فراہمی درکار ہوتی ہے۔ پرانے پاور سسٹمز مسلسل ہائی ڈینسٹی کمپیوٹنگ کے لیے ڈیزائن نہیں کیے گئے تھے، جو توانائی کے نقصان سے زیادہ گرمی کی اعتمادیت کے چیلنجوں اوربنیادی ڈھانچے میں توسیع میں  دشواری کا باعث بنتا ہے ۔

اختراع - گرڈ سے کور تک بجلی کے بہاؤ کی ازسرِنو تشکیل

سی 2 آئی سیمی کنڈکٹرز سرور کے اندر بجلی کے بہاؤ کو آنے والے پاور سورس سے لے کر پروسیسر چِپ تک گرڈ ٹو کورطریقۂ کار کے ذریعے ازسرِنو ڈیزائن کر رہی ہے۔ انفرادی اجزاء کو بہتر بنانے کے بجائے کمپنی ایک اسمارٹ اور قابلِ ترتیب پاور پلیٹ فارم تیار کر رہی ہے جو حقیقی وقت میں بجلی کی ترسیل کو خودکار طور پر منظم اور بہتر بناتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی بھاری اے آئی ورک لوڈز کے دوران بھی مستحکم بجلی فراہم کرتی ہے، توانائی کی بچت کو بہتر بناتی ہے، گرمی کی شدت اور خامیوں کو دور کرتی ہے، آلات کی میعاد میں اضافہ کرتی ہے، سرور ڈیزائن کو آسان بناتی ہے، تیز تر تنصیب کو ممکن بناتی ہے اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر کی توسیع کی حمایت کرتی ہے۔

آسان الفاظ میں- اے آئی بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک ذہین توانائی کا نظام

سی 2 آئی کی ٹیکنالوجی ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک ذہین پاور کنٹرول سسٹم کے طور پر کام کرتی ہے، جو اعلیٰ کارکردگی کے حامل اے آئی سسٹمز کو قابلِ اعتماد، مؤثر اور مسلسل طور پر اگلے سلسلے کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکو چلانے میں مدد دیتی ہے۔ سی 2 آئی کو توقع ہے کہ اس کے ابتدائی سلیکون ڈیزائن سال کے وسط تک فیبریکیشن کے بعد واپس آ جائیں گے، جس کے بعد کارکردگی کی جانچ (تصدیق) کی جائے گی۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد- ہندوستان سے ڈیپ ٹیک اختراع کی حمایت

سی 2 آئی کے انقلابی حل کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے،پیک XV پارٹنرس (سابقہ سیکوئیا کیپٹل انڈیا اینڈ  ایس ای اے) نے 15 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کےمرحلے کی قیادت کی، جس کا مقصد اگلے سلسلےکے، ہائی ڈینسٹی اور انتہائی قابلِ اعتمادتوانائی کی ترسیل کی سطح کے نظام کے حل کی تیاری کو تیز کرنا ہے۔ اس سے قبل 2024 میں  یالی کیپٹل کی قیادت میں 4 ملین امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی گئی تھی، جس کے بعد اب تک مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 170 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، اس کے علاوہ ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی معاونت بھی شامل ہے۔

راجن آنندن، منیجنگ ڈائریکٹر، پیک XV ، نے کہا کہ سی 2 آئی کا توانائی کاانتظام  سے متعلق طریقۂ کار جی پی یو کی  میعاد میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے اور صنعت کو اربوں ڈالر کی بچت دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پالیسی ہم آہنگی-ہندوستان کے ڈیزائن پر مبنی سیمی کنڈکٹر وژن کی حمایت

سرکردہ سرمایہ کاری اداروں کا یہ اعتمادمرکزی وزیر جناب  اشونی ویشنو کے پیش کردہ وژن سے ہم آہنگ ہے، جس کے مطابق ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر پروگرام ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ دونوں کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں گھریلو دانشورانہ ملکیت کی تخلیق اور عالمی سطح پر مسابقتی پروڈکٹ کمپنیوں کی تشکیل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہندوستان کے پاس پہلے ہی چِپ ڈیزائن میں ہنرمندی کی مضبوط قابلیت موجود ہے اور حکومت کا کردار ڈیزائن سے متعلق مراعات، جدید ڈیزائن ٹولز، آئی پیز اور ایکو سسٹم سپورٹ کے ذریعے اسٹارٹ اپس کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ عالمی ٹیکنالوجی رہنما بن سکیں اور بھارت کو دنیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیمی کنڈکٹر پارٹنر کے طور پر قائم کیا جا سکے۔

********

 (ش ح ۔م ش ۔ف ر)

U. No. 2503


(ریلیز آئی ڈی: 2228576) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi