وزیراعظم کا دفتر
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کا ای ٹی نَو گلوبل بزنس سمٹ 2026 سے خطاب
متعدد خلل کے باوجود یہ دہائی بھارت کے لیے بے مثال ترقی کی دہائی ثابت ہوئی ہے، جس میں مضبوط نتائج کی فراہمی اور ہماری جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوششیں نمایاں رہیں: وزیرِ اعظم
اکیسویں صدی کی اس دہائی میں بھارت ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ پر سوار ہے: وزیرِ اعظم
ہم نے بجٹ کو صرف آؤٹ لے پر مرکوز نہیں رکھا بلکہ اسے نتائج پر مبنی بھی بنایا ہے: وزیرِ اعظم
گزشتہ دہائی میں ہم نے ٹیکنالوجی اور اختراع کو ترقی کے بنیادی محرکات کے طور پر دیکھا ہے: وزیرِ اعظم
آج ہم دنیا کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں داخل ہو رہے ہیں کیونکہ آج کا بھارت پُراعتماد اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے: وزیرِ اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 FEB 2026 9:31PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں ای ٹی نَو گلوبل بزنس سمٹ 2026 سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے گلوبل بزنس سمٹ میں موجود تمام شرکاء کو مبارکباد دی اور سمٹ کے موضوع ’’ایک دہائی کی ہلچل، ایک صدی کی تبدیلی‘‘ پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کی گزشتہ دہائی میں بے مثال خلل دیکھنے میں آیا، جس میں عالمی وبا، مختلف خطّوں میں کشیدگی اور جنگیں اور سپلائی چین میں ایسے تعطل شامل ہیں جنہوں نے عالمی توازن کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بحران کے وقت کسی قوم کی حقیقی طاقت سامنے آتی ہے اور انہوں نے فخر کا اظہار کیا کہ ان تمام خلل کے باوجود بھارت کی یہ دہائی قابلِ ذکر ترقی، غیر معمولی نتائج کی فراہمی اور جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوششوں سے عبارت رہی ہے۔ جناب مودی نے یاد دلایا کہ جب گزشتہ دہائی شروع ہوئی تھی تو بھارت دنیا کی گیارہویں بڑی معیشت تھا اور اس ہنگامہ خیز ماحول میں یہ خدشات تھے کہ بھارت مزید نیچے جا سکتا ہے، لیکن آج بھارت تیزی سے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’صدی کی تبدیلی‘‘ کی بنیاد بڑی حد تک بھارت پر قائم ہوگی۔ جناب مودی نے بتایا کہ اس وقت بھارت عالمی ترقی میں 16 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے اور یقین ظاہر کیا کہ یہ حصہ ہر آنے والے سال میں مسلسل بڑھتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی ترقی کو رفتار دے گا اور دنیا کی معیشت کا نیا انجن بن کر ابھرے گا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا تھا، لیکن سات دہائیوں کے بعد وہ نظام ٹوٹ رہا ہے اور دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور وضاحت کی کہ پہلے نظام کی بنیاد ’’ایک ہی پیمانہ سب کے لیے‘‘ کے تصور پر تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ عالمی معیشت کا مرکز ’’کور‘‘ میں رہے گا، سپلائی چین مضبوط اور قابلِ اعتماد رہیں گی اور قوموں کو محض اس ڈھانچے کے اندر تعاون کرنے والے عناصر کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اب اس ماڈل کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور یہ اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے اور اب ہر ملک یہ سمجھ رہا ہے کہ اسے اپنی لچک خود بنانی ہوگی۔
جناب مودی نے کہا کہ جس پر دنیا آج بحث کر رہی ہے، بھارت نے اسے 2015 میں ہی اپنی پالیسی کا حصہ بنا لیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب دس سال پہلے نیتی آیوگ قائم کیا گیا تو اس کے بانی دستاویز میں بھارت کا ویژن واضح طور پر درج تھا—کہ ملک بیرونِ ملک سے ایک بھی ترقیاتی ماڈل درآمد نہیں کرے گا بلکہ اپنی ترقی کے لیے اپنا ہی طریقۂ کار اپنائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس پالیسی نے بھارت کو یہ اعتماد دیا کہ وہ اپنے تقاضوں اور اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ خلل کی اس دہائی میں بھی بھارت کی معیشت کمزور نہیں ہوئی بلکہ مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔
وزیرِ اعظم نے کہا: ’’اکیسویں صدی کی اس دہائی میں بھارت ریفارم ایکسپریس پر سوار ہے‘‘ اور بتایا کہ اس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اصلاحات مجبوری کے تحت نہیں بلکہ یقین اور عزم کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود ماہرین اور اقتصادی قائدین نے 2014 سے پہلے کا دور دیکھا ہے، جب اصلاحات صرف بحران یا مجبوری کے وقت کی جاتی تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1991 کی اصلاحات اس وقت کی گئیں جب ملک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار تھا اور اسے اپنا سونا گروی رکھنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتیں بھی اسی طرز پر چلتی تھیں، اصلاحات صرف اُس وقت کی جاتیں جب مجبور کیا جاتا۔
جناب مودی نے مزید مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ 26/11 کے دہشت گرد حملے کے بعد این آئی اے کی تشکیل ہوئی، بجلی کے گرڈ فیل ہونے کے بعد ہی پاور سیکٹر میں اصلاحات کی گئیں اور فوڈ سکیورٹی ایکٹ اس وقت لایا گیا جب مہنگائی میں اضافہ ہوا اور قبائلی علاقوں میں بھوک پھیلنے لگی، لیکن اُس کے باوجود اس کا نفاذ کمزور رہا۔ وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ مجبوری سے پیدا ہونے والی اصلاحات کبھی بھی قوم کے لیے درست نتائج نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے فخر کا اظہار کیا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں اصلاحات پورے یقین کے ساتھ کی گئی ہیں—پالیسی میں، عمل میں، نتائج کی فراہمی (ڈیلیوری) میں اور حتیٰ کہ ذہنیت میں بھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پالیسی بدل جائے مگر عمل اور ذہنیت وہی رہیں تو اصلاحات صرف کاغذ پر رہ جاتی ہیں، اسی لیے ان کی حکومت نے پورے نظام کو بدلنے کے لیے کام کیا۔
جناب مودی نے عمل میں اصلاحات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کابینہ نوٹس کی مثال دی، جنہیں پہلے تیار کرنے میں ہفتوں یا مہینوں لگ جاتے تھے، جس سے ترقی کی رفتار سست ہو جاتی تھی۔ ان کی حکومت نے فیصلہ سازی کو وقت کی پابندی والا اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنا دیا، اس بات کو یقینی بنایا کہ فائلیں غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا نہ رہیں اور آج اس کے نتائج واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے ریلوے اوور برج کی منظوری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک اوور برج کی منظوری لینے میں کئی سال لگ جاتے اور متعدد کلیئرنس درکار ہوتی تھیں، لیکن اب یہ عمل آسان بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر تیزی سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے سرحدی انفراسٹرکچر پر بھی روشنی ڈالی، یاد دلاتے ہوئے کہ پہلے سرحدی علاقوں میں ایک سادہ سڑک بنانے کے لیے بھی دہلی سے اجازت درکار ہوتی تھی، جس سے مقامی فیصلہ سازی میں رکاوٹ پیدا ہوتی تھی۔ 2014 کے بعد ان کی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو بااختیار بنایا، جس کے نتیجے میں سرحدی انفراسٹرکچر میں تیز رفتار ترقی ہوئی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک ایسی اصلاح جس نے عالمی سطح پر اثر ڈالا، وہ ہے یو پی آئی، بھارت کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام، جو محض ایک ایپ نہیں بلکہ پالیسی، عمل اور نتائج کی فراہمی کا امتزاج ثابت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی آئی نے ان شہریوں تک بینکنگ اور مالی خدمات پہنچائیں، جنہوں نے کبھی اس تک رسائی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا، ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور جن دھن-آدھار-موبائل کی تثلیث محض مجبوری سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ یقین کے ساتھ اس ویژن کے تحت لائی گئی کہ ایسے شہری شامل کیے جائیں جو پہلے نظر انداز کیے گئے تھے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آج بھی حکومت اسی یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کا نیا نظریہ بجٹ میں بھی جھلکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے بجٹ پر گفتگو صرف آؤٹ لے یعنی مختص رقم، سستی یا مہنگی ہونے والی چیزیں اور نئی ٹرینوں کی تعداد تک محدود ہوتی تھی اور یہ کبھی نہیں پوچھا جاتا تھا کہ ان اعلانات کے نتائج کیا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کو نہ صرف آؤٹ لے بلکہ نتائج پر مبنی بھی بنایا ہے۔ جناب مودی نے بجٹ میں ایک اور بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ 2014 سے پہلے ’’بجٹ سے باہر قرضے‘‘ کی بحث زیادہ تھی، جبکہ اب توجہ ’’آف بجحٹ ریفارم‘‘ پر ہے۔ انہوں نے بجٹ کے باہر کی اصلاحات جیسے کہ اگلی نسل کی جی ایس ٹی، پلاننگ کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ کی تخلیق، دفعہ 370 کی منسوخی، تین طلاق کے خلاف قانون اور ناری شکتی وندن قانون کا ذکر کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ چاہے بجٹ میں اعلان ہوں یا اس کے باہر، ریفارم ایکسپریس مسلسل رفتار پکڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف پچھلے ایک سال میں بندرگاہوں اور بحری شعبے میں اصلاحات کی گئیں، جہاز سازی کی صنعت کے لیے اقدامات کیے گئے، جن وشواس ایکٹ کے تحت اصلاحات آگے بڑھائی گئیں، توانائی کے تحفظ کے لیے شانتی ایکٹ نافذ کیا گیا، لیبر قوانین میں اصلاحات کی گئیں، بھارتیہ نیائے سنہتا متعارف کرائی گئی، وقف قوانین میں اصلاحات کی گئیں اور دیہی روزگار پیدا کرنے کے لیے نیا وکسِت بھارت جی-رام جی بل لایا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کی متعدد اصلاحات پورے سال مسلسل کی جاتی رہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سال کے بجٹ نے ریفارم ایکسپریس کو مزید آگے بڑھایا ہے اور دو اہم عوامل’’سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی‘‘ پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے برسوں کی طرح اس بجٹ میں بھی انفراسٹرکچر پر خرچ تقریباً 17 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے اور کیپیکس کے نمایاں ’’ملٹی پلائر ایفیکٹ‘‘ سے ملک کی پیداواری صلاحیت، استعداد اور مختلف شعبوں میں روزگار پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ کی تعمیر، ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں کے لیے سٹی اکنامک ریجنز کی ترقی اور سات نئے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے اعلانات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ حقیقی معنوں میں نوجوانوں اور ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔
وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ گزشتہ دہائی میں ٹیکنالوجی اور اختراع کو ترقی کے بنیادی محرکات کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اسٹارٹ اپ اور ہیکاتھون کلچر کو فروغ دیا گیا۔ جناب مودی نے کہا کہ بھارت میں اب دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کو خطرہ مول لینے کی حوصلہ افزائی کی اور اختراع کو انعام دیا اور نتائج واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سال کا بجٹ ان ترجیحات کو مزید مضبوط کرتا ہے، خاص طور پر بایوفارما، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں کے لیے اہم اعلانات کے ساتھ۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ جیسے جیسے بھارت کی اقتصادی طاقت بڑھی ہے، حکومت نے ریاستوں کو بھی بااختیار بنایا ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کیے کہ 2004 سے 2014 کے درمیان ریاستوں کو ٹیکس کی تقسیم کے تحت تقریباً 18 لاکھ کروڑ روپے ملے، جبکہ 2014 سے 2025 تک ریاستوں کو 84 لاکھ کروڑ روپے دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے بجٹ میں تقریباً 14 لاکھ کروڑ روپے شامل کیے جانے کے بعد، ان کی حکومت کے دور میں ریاستوں کو ٹیکس کی تقسیم کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 100 لاکھ کروڑ روپے مل جائیں گے، جس سے ریاستی حکومتیں ملک بھر میں ترقیاتی کام آگے بڑھا سکیں گی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں پر عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر بحث اور تجزیہ ہو رہا ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر اہم روشنی ڈالی کہ 2014 سے پہلے ایسے معاہدے کیوں ممکن نہیں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملک، نوجوان قوت اور حکومتی نظام وہی تھا، تو پھر ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ جامع تجارتی معاہدے پہلے کیوں نہیں ہو سکے؟ انہوں نے وضاحت کی کہ تبدیلی حکومت کے ویژن، پالیسی، نیت اور بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھارت کو فریجائل فائیو معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا، پالیسی جمود کا شکار اور گھوٹالوں سے گھرا ہوا تھا، تو کوئی ملک بھارت پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جناب مودی نے کہا کہ 2014 سے پہلے بھارت کی مینوفیکچرنگ بنیاد کمزور تھی اور پچھلی حکومتیں اس بات سے ڈرتی تھیں کہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے مارکیٹ پر قبضہ اور پروڈکٹ ڈمپنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یاس ماحول میں پچھلی حکومت نے صرف چار جامع تجارتی معاہدے کر پائے۔ اس کے برعکس، گزشتہ دہائی میں بھارت نے مختلف خطّوں میں 38 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کیے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ آج کا بھارت پُراعتماد ہے، عالمی مقابلے کے لیے تیار ہے اور گزشتہ گیارہ برسوں میں مضبوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی طاقت اور بااختیاری دنیا کا اعتماد جیتنے کی بنیاد بنی اور یہ بھارت کی تجارتی پالیسی میں پیراڈائم شفٹ کی بنیاد ہے، جو ترقی یافتہ بھارت کے سفر کا ایک اہم ستون ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت پوری حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ ہر شہری ترقی میں شریک ہو اور جو پیچھے رہ گئے ہیں انہیں ترجیح دی جا رہی ہے۔ جناب مودی نے بتایا کہ پچھلی حکومتیں صرف معذور افراد کے لیے اعلانات کرتی تھیں، لیکن ان کی حکومت نے انڈین سائن لینگویج کو ادارہ جاتی شکل دے کر حقیقی حساسیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی طویل عرصے سے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھی اور ان کی حکومت نے ایسا قانون بنایا جس نے انہیں وقار اور تحفظ دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ گزشتہ دہائی میں لاکھوں خواتین کو تین طلاق کے رجعت پسند عمل سے آزاد کیا گیا اور لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن یقینی بنایا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومتی مشینری کی سوچ بھی بدل گئی ہے اور زیادہ حساس ہو گئی ہے، جو مفت راشن اسکیم جیسے اقدامات میں واضح ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کی کہ وہ اس اسکیم کا مذاق اڑاتی ہے اور بتایا کہ اگرچہ 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں، مفت راشن اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نئی مڈل کلاس دوبارہ غربت میں نہ پھسلے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس اسکیم پر لاکھوں کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، جس سے غریبوں اور نئی مڈل کلاس کو بے پناہ سہارا ملا ہے۔
وزیرِ اعظم نے ویژن میں فرق کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہ 2047 اور ترقی یافتہ بھارت کی بات کیوں کرتے ہیں اور اسے غیر یقینی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آزادی کے رہنماؤں نے ایسا ہی سوچا ہوتا، تو بھارت کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم سب سے پہلے ہو، تو ہر فیصلہ اور پالیسی ملک کے لیے ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کا ویژن واضح ہے—ہمیں مسلسل کام کرتے رہنا ہے تاکہ بھارت ترقی یافتہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے آج کی نسل 2047 تک موجود نہ رہے، ملک اور اس کی آنے والی نسلیں موجود رہیں گی، اس لیے موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ اپنا حال وقف کرے تاکہ مستقبل محفوظ اور روشن ہو۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ دنیا کو اب ہلچل اور عدم استحکام کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا اور وقت کے ساتھ ان کی نوعیت بدلتی رہے گی مگر نظام تیزی سے تبدیل ہوں گے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پہلے سے موجود خلل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت مزید انقلابی تبدیلیاں لائے گا، جس کے لیے بھارت تیار ہے۔ جناب مودی نے اعلان کیا کہ چند دنوں میں بھارت میں گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ ہوگا، جس میں دنیا کے متعدد ممالک اور ٹیکنالوجی کے قائدین شریک ہوں گے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ ہم سب مل کر بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور اسی اعتماد کے ساتھ انہوں نے سمٹ کی کامیابی کے لیے نیک تمنائیں پیش کیں۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2440
(ریلیز آئی ڈی: 2227970)
وزیٹر کاؤنٹر : 11