خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے لڑکیوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی   طور پر بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے کثیرجہتی حکمت عملی اپنائی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 FEB 2026 3:01PM by PIB Delhi

حکومت لڑکیوں کی حفاظت، سلامتی اور بااختیار بنانے کے لیے ملک میں انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے، حکومت نے لڑکیوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی  طور پربااختیار بنانے سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم 22 جنوری 2015 کو شروع کی گئی تاکہ بچوں کے جنسی تناسب(سی ایس آر) اور لڑکیوں اور خواتین کی بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کو پوری زندگی کے دورانیے میں حل کیا جا سکے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم ایک پالیسی اقدام سے قومی تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے، جس میں مختلف شراکت داروں کو متحرک کیا گیا، جن میں سرکاری ادارے، کمیونٹیز، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام شامل ہیں۔ اس تحریک کا مقصد صرف جنسی تناسب اور صنفی امتیاز سے متعلق فوری مسائل کو حل کرنا نہیں بلکہ لڑکی کی قدر و اہمیت کو بڑھانے اور اس کے حقوق و مواقع کو یقینی بنانے کے لیے ثقافتی تبدیلی کو فروغ دینا بھی ہے۔ اسکیم تمام  شراکت داروںکو مطلع کرنے، متاثر کرنے، حوصلہ افزائی کرنے، مشغول کرنے اور بااختیار بنانے کے ذریعے لڑکیوں کے متعلق سوچ اور رویے میں تبدیلی پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔

لڑکیوں اور خواتین، خاص طور پر دیہی علاقوں میں زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے، سوچھ بھارت مشن کے تحت 11.8 کروڑ سے زائد بیت الخلاء تعمیر کیے گئے ہیں۔ سکنیا سمردھی یوجنا (ایس ایس وائی) ایک چھوٹی بچت کی اسکیم ہے جو لڑکیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے وضع کی گئی ہے اور اس پر اعلیٰ شرح سود فراہم کیا جاتا ہے۔ سمگرشِکشا ایک مربوط اسکیم ہے جو پری اسکول سے کلاس بارہویں تک اسکول کی تعلیم کو  مدد فراہم کرتی ہے، قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ 2009 کے نفاذ کی حمایت کرتی ہے۔ یہ اسکیم ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم، بنیادی خواندگی اور ہندسہ نگاری، ہمہ جہتی اور جامع نصاب، تعلیمی نتائج میں بہتری، سماجی اور صنفی فرق کو کم کرنے اور تمام تعلیمی سطحوں پر مساوات اور شمولیت کو یقینی بنانے پر زور دیتی ہے۔

کستوربا گاندھی بالیکا وِدیا لیہ (کے جی بی وی) اسکیم لڑکیوں کے لیے رہائشی اسکولنگ کی سہولیات فراہم کر کے اسکول کی تعلیم میں صنفی اور سماجی فرق کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس میں کلاس بارہویں تک تعلیم شامل ہے۔ اس اسکیم کے تحت، 10-18 سال کی عمر کی لڑکیاں جو شیڈیول کاسٹ(ایس سی) ، شیڈیول ٹرائب (ایس ٹی) ، دیگر پسماندہ طبقات(او بی سی) ، اقلیتی کمیونٹی اور بی پی ایل خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں، شامل کی گئی ہیں۔

نوعمر لڑکیوں کے لیے اسکیم(ایس اے جی) کو یکم اپریل 2022 سے مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت شامل  کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہدف شدہ مستفیدین 14 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیاں ہیں، جو  خواہشمند اضلاع اور شمال مشرقی ریاستوں میں شامل ہیں۔

و گیان جیوتی پروگرام لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ ایس ٹی ای ایم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی) کے شعبوں میں تعلیم اور کیریئر اختیار کریں تاکہ صنفی توازن بہتر ہو۔ اس کا ہدف نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک کی میرٹ  حاصل کرنے والی  لڑکیاں ہیں اور اس میں طلبہ و والدین کی مشاورت، کیریئر کاؤنسلنگ، اضافی تعلیمی سپورٹ کلاسز، ٹِنکرنگ سرگرمیاں، خصوصی لیکچرز، سائنسی اداروں، لیبارٹریز، صنعتوں اور سائنس کیمپ اور ورکشاپس کے دورے شامل ہیں۔

لڑکیوں، بشمول واحد لڑکی بچوں، کی معاشی آزادی کو یقینی بنانے کے مقصد کے تحت حکومت نے اسکل انڈیا مشن شروع کیا ہے تاکہ جامع ہنر مندی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا سکے۔ حکومت نے پردھان منتری کوشل وِکاس یوجنا کے تحت   ملک بھر میں پردھان منتری کوشل کیندر قائم کیے ہیں۔ پردھان منتری کوشل وِکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے تحت خواتین کو ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

 اس کے علاوہ،   پی ایم کے وی وائی 4.0میں ان منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے اور خصوصی توجہ دی گئی ہے جو خواتین کو بنیادی مستفیدین کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ جامع نقطۂ نظر ملک بھر میں ہنر مندی کے تربیتی پروگراموں میں خواتین کی نمائندگی اور فوائد کو یقینی بناتے ہیں ۔

دین دَیال انتیودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہُڈز مشن(ڈی اے وائی –این آر ایل ایم) کے تحت خواتین کی  اپنی مدد آپ گروپس(سی ایچ جی) دیہی علاقوں میں روزگار اور خود روزگار کے مواقع بدل رہی ہیں۔ اسی طرح نیشنل اربن  لاؤلی ہُڈز مشن(این یو ایل ایم) شہری علاقوں کے لیے ہے۔  اس کے علاوہ، اسکیمیں جیسے اسٹینڈ اپ انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا، پردھان منتری اسٹریٹ وینڈرز آتم نربھر ندھی (پی ایم ایس وی اے ندھی)، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (ایم جی این آر ای جی ایس) ، روزگار/خود روزگار اور قرض کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہیں۔ ان اسکیموں کے تحت زیادہ تر مستفیدین خواتین ہیں۔

 سال 2017 میں، میٹرنٹی بینیفٹ ایکٹ میں ترمیم کی گئی تاکہ پہلے دو بچوں کے لیے پیڈ( معاوضہ شدہ )میٹرنٹی چھٹی 12 ہفتوں سے بڑھا کر 26 ہفتے  تک کی جا سکے۔ اس ایکٹ کے تحت خواتین کارکنوں کو پیڈ میٹرنٹی چھٹی اور تمام اداروں میں جہاں پچاس یا اس سے زائد ملازمین ہوں، متعین فاصلے پر کریچ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم 5 اپریل 2016 کو شروع کی گئی تھی جس کا مقصد یہ ہے کہ شیڈیولڈ کمرشل بینک (ایس سی بی) سے کم از کم ایک شیڈیول کاسٹ (ایس سی)یا شیڈیول ٹرائب (ایس ٹی) قرض لینے والی اور ہر بینک برانچ میں ایک خواتین قرض لینے والی کے لیے 10 لاکھ سے 1 کروڑ روپے کے درمیان قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ مینوفیکچرنگ، سروسز یا ٹریڈنگ سیکٹر میں گرین فیلڈ انٹرپرائز قائم کی جا سکے، بشمول زرعی سرگرمیوں کے۔ اس اسکیم کو 2025 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، پردھان منتری مُدرا یوجنا اور پردھان منتری ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام (پی ایم ای جی پی) جیسی اسکیمیں خواتین کو اپنے کاروبار قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔

خواتین کو دیہی سطح پر سیاسی قیادت کے مرکزی دھارے میں لانے کے لیے، حکومت نے آئین میں 73 ویں ترمیم کے ذریعے  پنجایتی راج اداروں (پی آر آئی) میں خواتین کے لیے کم از کم 33 فیصدنشستیں مخصوص کی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، پی آر آئی میں منتخب شدہ خواتین نمائندگان (ای ڈبلیو آرز کی تعداد 12.06 لاکھ سے زیادہ ہے، جو کُل منتخب نمائندگان کا تقریباً 49.75 فیصد ہے۔

ملک میں خواتین کی بااختیاری اور اعلیٰ سیاسی عہدوں میں خواتین کی نمائندگی کے لیے سب سے بڑا قدم 28 ستمبر 2023 کو حکومت کی جانب سے ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023 (آئین کی ایک سو چھٹویں ترمیم) ایکٹ، 2023 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے اٹھایا گیا، جس میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں بشمول دہلی کےاین سی ٹی اسمبلی میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔

مشن شکتی کا مقصد خواتین کی حفاظت، سلامتی اور بااختیاری کے لیے مداخلت کو مضبوط بنانا ہے۔

مشن شکتی دو شعبوں پر مشتمل ہے: ’سمبل‘ — خواتین کی حفاظت اور سلامتی کے لیے، جس میں ون اسٹاپ سینٹر (او ایس سی)، خواتین ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل)، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی)، اور ناری عدالت شامل ہیں؛’سامرتھیہ‘ — خواتین کوبااختیار بنانے کے لیے، جس میں شکتی سدن،  سکھی نیواس، پردھان منتری ماترتو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی)،  پالنااور سنکَلپ: خواتین کے بااختیاری کا مرکز (ایس این کے اے ایل پی: ایچ ای ڈبلیو) شامل ہیں۔

حکومت ہند نے لڑکیوں اور خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی امتیاز ختم کرنے کے لیے جامع اور مربوط نقطۂ نظر اپنایا ہے، جو وسیع پیمانے پر اسکیموں اور اقدامات کے ذریعے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات مجموعی طور پر خواتین کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے، روزگار کے مواقع بہتر بنانے، کاروبار کو فروغ دینے اور خواتین کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ہیں۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود(این او ایچ ایف ڈبلیو) کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم(ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، قومی سطح پر پیدائش کے وقت جنسی تناسب (ایس آر بی ) 2014-15 میں 918 سے بڑھ کر 25-2024 میں 929 ہو گیا ہے۔

 اس کے علاوہ پری-کونسیپشن اور پری-نیٹل ڈایگنوسٹک ٹیکنیکس (جنسی انتخاب کی ممانعت) ایکٹ، 1994 کو وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو منظم کیا جا سکے جو جنین کی جنس کا پتہ لگانے اور ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس ایکٹ کا مقصد حاملہ ہونے سے پہلے یا بعد میں جنسی انتخاب کی ممانعت اور جینیاتی خرابیوں، میٹابولک ڈس آرڈرز، کروموزومل خرابیوں، بعض پیدائشی نقائص اور متعلقہ یا ضمنی امور یا جنس سے منسلک بیماریوں کا پتہ لگانے کے لیے پری-نیٹل ڈایگنوسٹک ٹیکنیکس کے استعمال کو منظم کرنا اور ان کے غلط استعمال کو روکنا ہے تاکہ خواتین کے حمل کے خاتمے سے بچاؤ ہو سکے ۔

پی سی این ڈی ٹی ایکٹ (پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ) ایک مرکزی قانون ہے جو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں یکساں طور پر نافذ کیا گیا ہے تاکہ جنس کی بنیاد پر انتخابی اسقاطِ حمل کی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور صنفی حساس پالیسیوں، آگاہی پیدا کرنے اور قانونی اقدامات کے ذریعے لڑکی کے لیے مثبت ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔

حکومت کی جانب سے پری-کونسیپشن اور پری-نیٹل ڈایگنوسٹک ٹیکنیکس ایکٹ (پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی) کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات  اٹھائے گئے ہیں:

  • ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو پی سی این ڈی ٹی ایکٹ (پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ) کے حوالے سے حساسیت پیدا کرنے اور صلاحیت سازی کے لیے مدد فراہم کرنا۔
  • نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت، وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے تاکہ پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے نفاذ کو مضبوط کیا جا سکے۔
  • صنفی مساوات کو فروغ دینے اور رویوں میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے معلومات، تعلیم اور مواصلات(آئی ای سی) اور وکالت کی سرگرمیوں کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
  •  ایم او ایچ ایف ڈبلیونے عدلیہ کی ہدایات کے مطابق ایک ’نوڈل ایجنسی‘ قائم کی ہے تاکہ قانون کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والے آن لائن اشتہارات کی نگرانی اور انہیں ہٹانے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
  • مرکز، ریاستیں اور اضلاع باقاعدہ جائزہ اور تشخیص کرتے ہیں، جس میں مختلف ادارہ جاتی طریقہ کار جیسے کہ کامن ریویو مشن وزٹس،  جائزہ اور مانیٹرنگ وزٹس شامل ہیں، تاکہ  پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے زمینی سطح پر نفاذ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

پی سی پی این ڈی ٹی سے متعلق تفصیلی معلومات وزارت صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کی سالانہ رپورٹ 25-2024میں دستیاب ہے، جسے درج ذیل لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:

https://mohfw.gov.in/?q=en/publications-12

یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں وزیرِ مملکت برائے خواتین و اطفال کی ترقی، محترمہ ساوتری ٹھاکر کی جانب سے فراہم کی گئیں۔

****

(ش ح۔ ش ت ۔ ش ب ن)

U- 2353


(ریلیز آئی ڈی: 2227548) وزیٹر کاؤنٹر : 10