وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی ویزجناب دھرمیندر پردھان نے نئی دہلی میں تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے والے 10 نئے دور کے ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے بانیوں کے ساتھ گول میز کانفرنس کی صدارت کی


وزارت تعلیم 12-13 فروری 2026 کو بھارت بودھن اے آئی کانکلیو 2026  کا انعقاد کرے گی تاکہ تعلیم کی تبدیلی میں اے آئی کے اسٹریٹجک کردار پر غوروخوض کیا جا سکے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 FEB 2026 8:58PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے آج آئی آئی ٹی دہلی میں تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) استعمال کرنے والے 10 نئی نسل کے بھارتی اسٹارٹ اپس کے بانیوں کے ساتھ ایک گول میز اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پرتعلیم اورشمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیرِ مملکت جناب سوکانتا مجومدار اور تعلیم و اسکل ڈیولپمنٹ و انٹرپرینیورشپ کےوزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، جناب جینت چودھری بھی موجود تھے۔

image0014QYQ1.jpg

یہ گول میز اجلاس پالیسی سازوں، تعلیمی رہنماؤں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے وابستہ کاروباری افراد کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکیا، جہاں اس بات پر غوروخوض کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو کس طرح بھارت کے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور اسے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وزارتِ تعلیم کی اُن مسلسل کاوشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔گول میز اجلاس میں بھارتی اسٹارٹ اپس کی ایک نئی نسل کو نمایاں کیا گیا جو کے-12 تعلیم، امتحانات کی تیاری، اپ اسکلنگ، زبان سیکھنے اور ہنرمندی کی تعلیم کے شعبوں میں اے آئی پر مبنی حل تیار کر رہی ہے، خصوصاً اُن طلبہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جو کم دستیاب سہولیات والے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والی اسٹارٹ اپس میں اریویہن، فرمی اے آئی، خرے ڈاٹ اے آئی، سیکھو، اسپیک ایکس، سپرکلام، سپر نووا، ویدانتو، کنوی جینئیس اور ویروہن شامل تھے۔

یہ تبادلۂ خیال آئندہ منعقد ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ سے قبل ایک تمہیدی سرگرمی کے طور پر منعقد کیا گیا تھا۔ گول میز اجلاس سے حاصل ہونے والی آرا اور نکات انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں پالیسی سازی اور ایکو سسٹم سے متعلق مباحث کو رہنمائی فراہم کریں گے، جہاں تعلیم وتربیت سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال، حفاظتی اقدامات اور اثرات کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے راستوں پر توجہ دی جائے گی۔

اس گول میز اجلاس کے بعد 12 تا 13 فروری 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں دو روزہ پروگرام “بھارت بودھن اے آئی کانکلیو” منعقد کیا جائے گا۔ اس کانکلیو میں مرکز اور ریاستوں کے اعلیٰ پالیسی ساز، محققین، تعلیمی ادارے اور صنعتی قائدین شرکت کریں گے، جہاں اختراع، قابلِ توسیع نفاذ اور قومی صلاحیت سازی پر توجہ کے ساتھ ساتھ بھارت کے تعلیمی نظام کی تبدیلی میں مصنوعی ذہانت کے اسٹریٹجک کردار پر غور و خوض کیا جائے گا۔

جناب دھرمیندر پردھان نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ انہیں اُن مقامی اسٹارٹ اپ بانیوں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کا موقع ملا جو ’’انڈیا سے دنیا تک‘‘اورخصوصاً تعلیمی منظرنامے کو بدلنے اور ازسرِنو سمت متعین کرنے کے لیےاندرون ملک اور اے آئی سے تقویت یافتہ حل تیار کر رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے اس امر پر بھی اطمینان ظاہر کیا کہ یہ تمام بانی متوسط طبقے اور ٹئیر-III شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے اختراعی حل اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر انضمام سے متعلق گہری بصیرت، نیز زمینی حقائق اور بھارت مرکوز تعلیمی چیلنجز کے حل کے لیے مؤثر اقدامات مستقبل کے حوالے سے بھرپور اعتماد پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ٹیکنالوجی بااختیار بنانے اور شمولیت کو فروغ دینے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، جو امید اور مواقع کے درمیان حائل خلا کو پُر کر سکتی ہے۔ انہوں نے وِکست بھارت @ 2047 کے وژن کو آگے بڑھانے میں مصنوعی ذہانت کے مرکزی کردار کو بھی اجاگر کیا۔

جناب دھرمیندر پردھان نے ان بانی افراد کو ترغیب دی کہ وہ ایسے تخلیقی حل تیار کریں جو بھارتی اقدار، زبانوں، مقامی تناظر اور ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور ساتھ ہی عالمی سطح پر بھی مؤثر اور موزوں ہوں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قومی تعلیمی اور ہنرمندی ترجیحات کے حصول، بھارت کی تکنیکی و ڈیجیٹل خودمختاری کے استحکام اور تعلیم کے شعبے میں مؤثر ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر (ڈی پی آئی) کی تشکیل کے لیے مصنوعی ذہانت کی انقلابی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

image0025YYI2.jpg

بھارت کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں طویل عرصے سے سرمایہ کاری کرنے والے جناب اشوتوش شرما نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی ٹیکنالوجی کو محض قلیل مدتی تجارتی موقع کے بجائے ایک قومی صلاحیت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی طورپرٹیکنالوجی ہی وہ واحد قابلِ توسیع حل ہے جو بھارت میں تعلیم کے فرق کو کم کر سکتی ہے اور مصنوعی ذہانت ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جو جغرافیائی حالات یا آمدنی کی قید سے بالاتر ہو کر معیاری تعلیم کو ہر طالب علم تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس گول میز اجلاس میں شریک سینئر افسران اور اہم اسٹیک ہولڈرز میں جناب سنجے کمار، سیکریٹری، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی؛ ڈاکٹر وِنت جوشی، سیکریٹری، محکمۂ اعلیٰ تعلیم؛ جناب رنگن بنرجی، ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی دہلی؛ پروفیسر وی کاماکوٹی، ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی مدراس؛ جناب اشوتوش شرما، سربراہ سرمایہ کاری و انضمام و حصول (ایم اور اے)، بھارت و جنوب مشرقی ایشیا، پروسس؛ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی)، آئی ٹی اسکل سیکٹر کونسل، نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروس کمپنیز (این اے ایس ایس سی او ایم) اور نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی) کے سربراہان؛ نوودیہ ودیالیہ سمیتی (این وی ایس) کے کمشنر؛ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے چیئرمین؛ کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (کے وی ایس) کے کمشنر؛ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس) کے چیئرمین؛ نیز وزارتِ تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت کے دیگر معزز شراکت دار اور اعلیٰ افسران شامل تھے۔

******

 

ش ح ۔ م م ع ۔ م ا

Urdu No-2231


(ریلیز آئی ڈی: 2226870) وزیٹر کاؤنٹر : 7