سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
بسوں میں حفاظتی معیارات اور آگ لگنے کے واقعات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2026 8:16PM by PIB Delhi
حکومت نے جیسلمیر سے جودھپور اور کرنول سے بنگلورو روٹس پر سلیپر بسوں میں پیش آنے والی حالیہ مہلک آتش زدگی کے واقعات کا نوٹس لیا ہے۔ حکومت نے تمام ریاستوں/مرکز زیر انتظام علاقوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت اور فٹنس معائنہ کے دوران سنٹرل موٹر وہیکل رولز، 1989 کے قاعدہ 62 کے مطابق AIS:052 اور AIS:119 کی تعمیل یقینی بنائی جائے۔
جیسلمیر سے جودھپور روٹ پر سلیپر کوچ میں لگنے والی آگ کے واقعے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ بس کی لمبائی مقررہ حد سے زیادہ تھی، ہنگامی دروازے کم از کم مقررہ ابعادی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے تھے، مسافروں کی نشستیں ہنگامی دروازے تک راستے میں رکاوٹ بن رہی تھیں، دو کی بجائے صرف ایک چھت کا ایمرجنسی ہیچ فراہم کیا گیا تھا، چھت پر سامان رکھنے کے کیریئر کے ساتھ سیڑھی لگی ہوئی تھی، ڈرائیور کیبن میں علیحدگی کی دیوار موجود تھی اور سنٹرل موٹر وہیکل رولز 1989 کے تقاضوں کے مطابق فائر ڈیٹیکشن اینڈ سپریشن سسٹم نصب نہیں تھا۔ یہ تبدیلیاں ریاستی حکومت کے مقامی ٹرانسپورٹ افسران کو گاڑی کی تصدیق کے وقت معلوم ہو جانی چاہئیں تھیں۔
6 فروری 2026 تک رجسٹرڈ سلیپر کوچز کی کل تعداد 49,616 ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 886 بس باڈی بلڈرز کو منظوری دی جا چکی ہے۔
کرنول–بنگلورو روٹ پر سلیپر کوچ میں آتش زدگی کے واقعے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ بس کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں صرف ”نشستوں کی گنجائش“ درج تھی۔
یہ معلومات سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن جے رام گڈکری جی نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں دی۔
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 2217
(ریلیز آئی ڈی: 2226754)
وزیٹر کاؤنٹر : 4