زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
بھارت–امریکہ تجارتی معاہدہ تاریخی ہے اور اس سے بھارتی معیشت کو نئی بلندی اور نئی رفتار ملے گی: جناب شیوراج سنگھ چوہان
بھارت کی پالیسی سمجھوتے نہیں بلکہ پختہ عزم پر مبنی ہے
یہ تجارتی معاہدہ سفارت کاری، ترقی اور وقار کی علامت ہے
بھارتی زرعی مصنوعات کو امریکہ میں زیرو ٹیرف (بلا محصول) کے ساتھ منڈی تک رسائی حاصل ہوگی
اس تجارتی معاہدے میں کوئی بھی ایسی شئے شامل نہیں جو بھارتی کسانوں کے لیے نقصان دہ ہو
یہ معاہدہ کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے خوابوں کو نئی پرواز دے گا
اس طرح کے معاہدے آتم نربھر اور وکست بھارت کی تعمیر کی سمت اہم سنگِ میل ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 FEB 2026 7:34PM by PIB Delhi
بھارت کے مرکزی وزیرِ زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے بھوپال میں اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے کو ’’تاریخی اور بے مثال‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارتی معیشت کو نئی رفتار دینے اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تجارتی معاہدہ محض ایک کاروباری سمجھوتہ نہیں بلکہ بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی وقار کی علامت بھی ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف بھارتی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ اسے ایک نئی سمت بھی فراہم کرے گا۔ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ پوری دنیا کے لیے بھی ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا، ’’یہ معاہدہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ بھارت کی پالیسی سمجھوتے کی نہیں بلکہ پختہ عزم کی پالیسی ہے۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ ملک کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت عالمی سطح پر ایک متوازن اور مثبت حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم سودے بازی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ متوازن نقطۂ نظر اپناتے ہیں اور مثبت مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد اور مضبوط شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔
سفارت کاری، ترقی اور وقار
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ سفارت کاری، ترقی اور وقار کی ایک بہترین مثال ہے۔ سفارت کاری کا مطلب ہے قوم سب سے پہلے—اور اس معاہدے میں بھارت کے قومی مفادات کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ ترقی سے مراد ایک ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کی جانب اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں، اور یہ معاہدہ اس مقصد کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وقار سے مراد کسانوں کا وقار ہے، اور مجھے فخر ہے کہ اس معاہدے میں کسانوں کے وقار کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی زراعت اور کسانوں سے متعلق ملک میں پائے جانے والے تمام خدشات کو اس تجارتی معاہدے میں دور کر دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ ہمارے کسانوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ محض تحفظ تک محدود نہیں بلکہ نئی مواقع کے دروازے بھی کھولتا ہے۔ اس تجارتی معاہدے کے ذریعے ہماری زرعی مصنوعات کو عالمی منڈی میں نئے مواقع میسر آئیں گے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں یہ اہم کردار ادا کرے گا۔ یہی آتم نربھر اور وکست بھارت کی مضبوط بنیاد ہے۔
امریکہ میں بھارتی زرعی مصنوعات پر زیرو ٹیرف
مرکزی وزیر نے کہا کہ اب بھارتی کسانوں کی کئی زرعی مصنوعات زیرو ٹیرف (بلا محصول) کے ساتھ امریکہ برآمد کی جائیں گی۔ تاہم امریکی کسانوں کی زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈی میں یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ زراعت اور ڈیری کے شعبے میں بھارت کے مفادات کو پوری طرح محفوظ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے زرعی شعبے میں متعدد مصنوعات پر محصولات میں نمایاں کمی کی ہے۔ وہ محصولات جو پہلے کئی زرعی اشیا پر 50 فیصد تک تھے، اب امریکہ نے انہیں صفر کر دیا ہے۔ ان مصنوعات میں مصالحہ جات، چائے، کافی، ناریل، ناریل کا تیل، سپاری، کاجو، ویجیٹیبل ویکس، ایووکاڈو، کیلا، امرود، آم، کیوی، پپیتا، انناس، مشروم اور بعض اناج بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2024-25 میں بھارت کی زرعی برآمدات 4.45 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مصالحہ جات کی برآمدات میں 88 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اب اس تجارتی معاہدے کے بعد ہمارے مصالحہ جات کو امریکہ میں بھی ایک نئی اور بڑی منڈی میسر آئے گی۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ عالمی مصالحہ جاتی منڈی میں بھارت پہلے ہی ایک مضبوط مقام رکھتا ہے۔ بھارت دنیا بھر کے تقریباً 200 مقامات پر مصالحہ جات اور ان سے تیار شدہ مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ یہ معاہدہ مصالحہ جات اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات کو مزید تیز رفتاری دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی منڈی کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ اگر غیر ملکی زرعی مصنوعات بھارتی زرعی منڈی میں داخل ہوں گی تو انہیں محصولات ادا کرنے ہوں گے۔ ہمارے کسانوں کو مکمل آزادی اور مکمل تحفظ حاصل ہے۔ یہی اس تجارتی معاہدے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
تمام حساس اشیا معاہدے سے خارج
مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ بھارت–امریکہ تجارتی معاہدے میں زراعت اور زرعی مصنوعات کے معاملے میں بھارتی کسانوں کے مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے، اور کوئی بھی ایسی شئے معاہدے میں شامل نہیں کی گئی جو کسانوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ تمام حساس اشیا کو اس معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے۔ مرکزی وزیرِ زراعت نے واضح کیا کہ سویابین، مکئی، چاول، گیہوں، چینی، موٹے اناج، پولٹری، ڈیری، کیلا، اسٹرابیری، چیری، ترش پھل، ہرے مٹر، چنا، مونگ، تلہن، ایتھنول اور تمباکو جیسی مصنوعات پر کسی بھی قسم کی ٹیرف رعایت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا خدشہ ملک کے اہم اناج کے حوالے سے تھا، اور اصل تشویش یہی تھی کہ ہمارے بڑے اناج مکمل طور پر محفوظ رہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ تمام اناج پوری طرح محفوظ رکھے گئے ہیں۔ امریکہ کے لیے بڑے اناج، بڑے پھلوں اور ڈیری مصنوعات کے دروازے نہیں کھولے گئے ہیں۔ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ امریکہ کی بہت سی زرعی مصنوعات بھارتی منڈی میں داخل نہیں ہو سکیں گی۔ چھلے ہوئے اناج، آٹا، گیہوں، مکئی، چاول، باجرہ، آلو، پیاز، مٹر، لوبیا، کھیرا، مشروم، دالیں، منجمد سبزیاں، سنگترے، انگور، لیموں، اسٹرابیری اور ڈبہ بند سبزیاں بھارت نہیں آئیں گی۔ ڈیری مصنوعات کے حوالے سے بھی انہوں نے واضح کیا کہ مائع دودھ، دودھ کا پاؤڈر، کریم، دہی، چھاچھ، مکھن، گھی، بٹر آئل، پنیر اور چیز—ان میں سے کسی کو بھی بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ زراعت اور ڈیری کے علاوہ بھارت امریکہ سے کالی مرچ، لونگ، خشک ہری مرچ، دارچینی، دھنیا، زیرہ، ہیونگ، ادرک، ہلدی، اجوائن، میتھی، کیسیا، سرسوں، سرسوں کے بیج، بھوسی اور دیگر پسی ہوئی مصالحہ جات بھی درآمد نہیں کرے گا۔ مطلب بالکل واضح ہے: ہمارے مصالحہ جات اور ہمارے کسان مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع
مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارتی کسانوں، خواتین اور بالخصوص نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ ہمارے کئی شعبوں، مثلاً ٹیکسٹائل کے شعبے میں، اب ہماری ٹیرف شرح مقابلہ کرنے والے ممالک کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً 18 فیصد رہ گئی ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل برآمدات کو نئی رفتار اور نئی سمت ملے گی۔ مرکزی وزیرِ زراعت نے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات کا براہِ راست فائدہ کسانوں تک بھی پہنچے گا۔ ٹیکسٹائل کا مطلب ہے کسانوں کے لیے فائدہ، خاص طور پر کپاس اگانے والے کسانوں کے لیے۔ اس کے ساتھ ہی جواہرات و زیورات، آٹو پرزہ جات، انجینئرنگ مصنوعات اور ایم ایس ایم ایز جیسے شعبوں میں بھی کاروبار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ہماری سیلف ہیلپ گروپ کی بہنوں کی زندگیوں میں بھی خوش حالی آئے گی، کیونکہ وہ متعدد مصنوعات کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ معاہدہ ان کی محنت اور مہارت کو عالمی سطح پر شناخت دلائے گا۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں اب تک نو آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) مکمل کیے جاچکے ہیں۔ امریکہ کے علاوہ متحدہ عرب امارات، عمان، نیوزی لینڈ اور برطانیہ سمیت 27 ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے پر دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام معاہدوں سے ملک کو وسیع پیمانے پر فوائد حاصل ہوں گے۔ ان معاہدوں کے ثمرات بھارتی معیشت، کسانوں، مزدوروں، غریبوں، برآمد کنندگان اور صنعت کاروں تک پہنچیں گے۔ ان معاہدوں کے ذریعے ہم 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے عزم کو پورا کریں گے۔ یہ معاہدہ اور اس نوعیت کے دیگر تمام معاہدے آتم نربھر اور وکست بھارت کی تعمیر میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ اس کے لیے میں وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی جی کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 1921
(ریلیز آئی ڈی: 2225209)
وزیٹر کاؤنٹر : 11