الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
یو آئی ڈی اے آئی کی جانب سے اسکولی بچوں کے لیے ایک کروڑ لازمی بایومیٹرک اپڈیٹس (ایم بی یو) مکمل
یو آئی ڈی اے آئی کے علاقائی دفاتر اور ریاستی تعلیمی محکموں نے مشن موڈ میں کام کرتے ہوئے صرف پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں 83 ہزار اسکولوں میں ایم بی یو کیمپ منعقد کیے
7 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے لازمی بایومیٹرک اپڈیٹ کو یکم اکتوبر 2025 سے ایک سال کی مدت کے لیے مفت کیاگیا تھا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 FEB 2026 2:43PM by PIB Delhi
اپنی جاری مشن موڈ مہم کے تحت ایک نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے، بھارت کی منفرد شناختی اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) نے ملک بھر کے 83 ہزار اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کے لیے ایک کروڑ سے زائد لازمی بایومیٹرک اپڈیٹس (ایم بی یوز) مکمل کرنے کا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
یو آئی ڈی اے آئی نے اسکولی بچوں کے لیے یہ خصوصی ایم بی یو مہم ستمبر 2025 میں اس وقت شروع کی، جب یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (یو ڈائس پلس) ایپلی کیشن کے ساتھ کامیاب تکنیکی انضمام عمل میں آیا، جس کے ذریعے اسکولوں میں بچوں کے ایم بی یو اسٹیٹس کی نگرانی ممکن ہوئی۔ اس اہم پیش رفت کے نتیجے میں یو آئی ڈی اے آئی اور اسکولوں کو مشترکہ طور پر اُن بچوں کی نشاندہی میں مدد ملی جن کے ایم بی یو واجب تھے، اور اسی بنیاد پر اسکولوں میں کیمپ منعقد کر کے بایومیٹرک اپڈیٹس مکمل کی گئیں۔
یو آئی ڈی اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناب بھونیش کمار نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز کو خط لکھ کر یو آئی ڈی اے آئی کی اس پہل سے آگاہ کیا اور اسکولوں میں مخصوص ایم بی یو کیمپس کے انعقاد کے لیے ان کے تعاون کی درخواست کی۔ ملک کے آٹھ مقامات پر قائم یو آئی ڈی اے آئی کے علاقائی دفاتر نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران تمام متعلقہ فریقین، یعنی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے تعلیمی محکموں، ضلعی سطح کی انتظامیہ، یو آئی ڈی اے آئی رجسٹرارز اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے انتھک محنت کی۔ یہ مشن موڈ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک کے تمام اسکولوں کا احاطہ نہیں کر لیا جاتا۔ اس اقدام سے اب تک 83 ہزار اسکولوں میں ایک کروڑ بچوں کو فائدہ پہنچ چکا ہے اور آئندہ اس سے مزید لاکھوں بچوں کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔
پانچ سال سے کم عمر بچے کا آدھار میں اندراج تصویر، نام، تاریخِ پیدائش، صنف ، پتہ اور پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے آدھار اندراج کے دوران ان کے فنگر پرنٹس اور آئیرس (آنکھ کی پتلی) سے متعلق بایومیٹرک معلومات درج نہیں کی جاتیں، کیونکہ اس عمر میں ان میں مکمل طور پر پختگی نہیں آتی ۔ اسی لیے پانچ اور پندرہ سال کی عمر عبور کرنے کے بعد لازمی بایومیٹرک اپڈیٹ (ایم بی یو) کے عمل کے تحت فنگر پرنٹس اور آئیرس کی معلومات فراہم کرنا بچوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ آدھار میں ایم بی یو نہ ہونے کی صورت میں مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت فوائد حاصل کرنے ، مسابقتی اور نیٹ (این ای ای ٹی)، جے ای ای (جے ای ای)، سی یو ای ٹی (سی یو ای ٹی) وغیرہ جیسے یونیورسٹی امتحانات میں رجسٹریشن کے دوران مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بچوں کو لازمی بایومیٹرک اپڈیٹ (ایم بی یو) مکمل کرنے کی ترغیب دینے اور اس سہولت کو سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے کے مقصد سے، یو آئی ڈی اے آئی نے 7 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایم بی یو پر عائد فیس یکم اکتوبر 2025 سے ایک سال کی مدت کے لیے معاف کر دی تھی۔ مزید یہ کہ 5 سے 7 سال اور 15 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایم بی یو بدستور بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔
اسکولوں میں منعقد کیے گئے کیمپس کے علاوہ، بچے ملک بھر میں قائم کسی بھی آدھار اندراج مرکز یا آدھار سیوا کیندر میں بھی اپنا ایم بی یو مکمل کروا سکتے ہیں۔ اسی مدت کے دوران ان مراکز پر آنے والے بچوں کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ ایم بی یو لین دین بھی مکمل کیے جا چکے ہیں۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 1912
(ریلیز آئی ڈی: 2225146)
وزیٹر کاؤنٹر : 9