پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی بجٹ 27-2026 مضبوط، لچکدار اور تیزی سے ترقی کرتے بھارت کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے: ہردیپ سنگھ پوری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 FEB 2026 3:58PM by PIB Delhi

 تیل و قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری نے آج دہرادون میں یونین بجٹ 27-2026 کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کی اور کہا کہ یہ بجٹ اس معیشت کے اعتماد اور پختگی کی عکاسی کرتا ہے جس نے 2014 کے بعد بنیادی سطح پر یکسر تبدیلی کا مشاہدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ترقی کو فروغ دینے اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے درمیان ایک محتاط توازن قائم کرتا ہے اور بھارت کے اس سفر کو اجاگر کرتا ہے جس میں وہ ’’فرجائل فائیو‘‘ کی صفوں سے نکل کر دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت اور ایک سب سے زیادہ قابل اعتماد عالمی ترقی کی داستان  بن گیا ہے۔بجٹ کو مستقبل پر مبنی اور استحکام پر مرکوز قرار دیتے ہوئے، جناب پوری نے کہا کہ یہ گزشتہ دہائی میں قائم کی گئی بنیادوں کا احاطہ کرتا  ہے اور بھارت کو عالمی قیادت کے اگلے مرحلے کے لیے تیار کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے لیے بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.4 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جس میں کھپت اور سرمایہ کاری اہم عنصر ہیں اور یہ بھارت کو مسلسل چوتھے سال کے لیے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشت کے طور پر مستحکم کرتا ہے، جبکہ عالمی شرح نمو تقریباً 3 فیصد کے آس پاس ہے۔

قیمتوں کے استحکام کے حوالے سے وزیرموصوف نے 2014 کے بعد نمایاں بہتری کو اجاگر کیا اور بتایا کہ 2025 میں بھارت نے بڑی معیشتوں کے درمیان مجموعی افراطِ زر میں  سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی، جو تقریباً 1.8 فیصد رہی۔انہوں نے کہا کہ اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران مہنگائی اوسطاً تقریباً 1.7 فیصد رہی، جس میں خاص طور پر سبزیوں اور دالوں کی کم قیمتیں مددگار ثابت ہوئیں۔ وزیر موصوف نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کی مہنگائی کی سطح کئی ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

سرمایہ کاری کی قیادت والی شرح نمو کی جانب فیصلہ کن رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، جناب پوری نے کہا کہ مالی سال 27-2026 میں کل سرمایہ خرچ تقریباً12.2 لاکھ کروڑ روپئےہے، جو 14-2013 کے مقابلے میں 430 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ قومی شاہراہوں کے لیے مختص رقم میں تقریباً 500 فیصد اضافہ، دفاع میں 210 فیصد سے زائد، صحت و خاندانی بہبود میں تقریباً 176 فیصد اور تعلیم میں 110 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے  کی سرمایہ کاری ایک اہم ترقیاتی انجن بن گئی ہے، اورقومی شاہراہوں  کی ہر ایک روپے کی سرمایہ کاری  سےجی ڈی پی  میں 3.2  روپئے کا اضافہ ہوتا ہے۔

دفاعی اورکلیدی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 2014 کے بعد مسلسل سرمایہ کاری نے درآمدات پر انحصار کم کیا اور آتم نربھارتا کے وژن کے مطابق گھریلو دفاعی پیداوار کو تیز کیا۔

وزیرموصوف نے  افرادی قوت کے فروغ کو  گزشتہ دہائی میں بھارت کی ترقی کی مرکزی حکمت عملی قرار دیا۔2014 کے بعد آئی آئی ٹی کی تعداد 16 سے بڑھ کر 23، آئی آئی ایمز 13 سے 21، اے آئی آئی ایم ایس 7 سے 23 اور میڈیکل کالجز 387 سے بڑھ کر 819 ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب زنجبار اور ابو ظہبی میں بین الاقوامی آئی آئی ٹی کیمپس کے ساتھ اپنی تعلیمی شناخت  کو عالمی سطح پر تسلیم کروا رہا ہے۔

بنیادی ڈھانچے  کی توسیع سے ملک بھر میں کنیکٹیویٹی اور روزمرہ زندگی میں یکسر تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔ قومی شاہراہوں  کی لمبائی 2014 میں تقریباً 91,000 کلومیٹر سے بڑھ کر 2026 میں تقریباً 1.46 لاکھ کلومیٹر ہو گئی ہے، جبکہ میٹرو نیٹ ورک 248 کلومیٹر سے بڑھ کر 1,000 کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ہوائی اڈوں کی تعداد تقریباً 70 سے بڑھ کر 160 ہو گئی ہے۔ پچھلے پانچ سال میں ہی 57,000 کلومیٹر سے زیادہ قومی شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں، جس سے سالانہ تقریباً 33 کروڑدونوں کا روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ 164 سے زیادہ وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں چل رہی ہیں اور 260 سلیپر ٹرین سیٹس منصوبہ بندی کے تحت ہیں۔ سات نئے ہائی اسپیڈ ریل کارڈرز میں مقامی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔

جناب پوری نے مزید کہا کہ 2014 کے بعد بھارت نے گھریلو طور پر 2,000 سے زیادہ میٹرو کوچز بنانے میں 2.5 لاکھ کروڑ روپئےسے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔اڑان اسکیم کے تحت 1.5 کروڑ مسافر ان راستوں پر ہوائی سفر کر چکے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے، جس سے بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری ہوا بازی کا گھریلو بازار بن گیا ہے۔

ایم ایس ایم ایز اورماحول کے لیے سازوار ترقی پر زور دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ بجٹ 2014 سے ہونے والی ترقی پرمبنی ہے اور مقابلہ آرائی کو پائیداری کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔10,000 کروڑ روپئے کے اخراجات کے ساتھ بایو-فارما شکتی، 10,000 کروڑروپئےکے ایم ایس ایم ایس ترقیاتی فنڈ اور2000 کروڑ روپئے کا خودکفیل بھارت کا اضافی فنڈ جیسے اقدامات  سے اختراع اور کاروبار مزید مستحکم ہوں گے۔ ماحول کے لیے سازگار ترقی کی حکمت عملی میں 20,000 کروڑروپئے سی سی یو ایس مشن اور 2035 تک لیتھیئم آئن بیٹری سازوسامان، اہم معدنیات اور نیوکلیئر پروجیکٹس کے لیے ڈیوٹی پر چھوٹ شامل ہے۔

آخر میں، جناب پوری نے کہا کہ یونین بجٹ 27-2026 بھارت کی 2014 سے جاری ایک دہائی طویل تبدیلی کو تسلیم کرتا ہے اور پائیدار، جامع اور جدت پر مبنی ترقی کی بنیادیں مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔انہوں نے اسے ایک ملک کی تعمیر والا بجٹ قرار دیا جو بھارت کو مستقل طور پر آتم نربھر اور وکست بھارت کی جانب گامزن کرتا ہے۔

*****

ش ح-ا ع خ   ۔ر  ا

U-No- 1891


(ریلیز آئی ڈی: 2224962) وزیٹر کاؤنٹر : 9