کامرس اور صنعت کی وزارتہ
امریکہ-بھارت مشترکہ بیان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 FEB 2026 4:29AM by PIB Delhi
امریکہ اور بھارت کو یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ انہوں نے باہمی اور دو طرفہ طور پر فائدہ مند تجارت (عبوری معاہدہ) سے متعلق ایک عبوری معاہدے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کر لیا ہے۔ آج کا یہ فریم ورک 13 فروری 2025 کو صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے شروع کئے گئے وسیع تر امریکہ-بھارت دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کی مذاکراتی کارروائی کے لیے دونوں ممالک کے عزم کی توثیق کرتا ہے، جس میں مارکیٹ تک رسائی کے اضافی وعدے شامل ہوں گے اور مزید مضبوط و لچکدار سپلائی چینز کی معاونت کی جائے گی۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ عبوری معاہدہ ہمارے ممالک کی شراکت داری میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھے گا، جو باہمی مفادات اور ٹھوس نتائج کی بنیاد پر باہمی اور متوازن تجارت کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرے گا۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان عبوری معاہدے کی کلیدی شرائط میں درج ذیل شامل ہوں گی:
- بھارت تمام امریکی صنعتی اشیا اور امریکی خوراک و زرعی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر عائد محصولات (ٹیرف) ختم کرے گا یا کم کرے گا، جن میں خشک ڈسٹلرز گرینز (ڈی ڈی جیز)، جانوروں کے چارے کے لیے سرخ جوار، درختی میوے، تازہ اور پروسیس شدہ پھل، سویا بین کا تیل، شراب اور اسپرٹس و دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
- امریکہ 2 اپریل 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر 14257 (باہمی ٹیرف کے ذریعے درآمدات کا ضابطہ تاکہ ان تجارتی طریقوں کی اصلاح کی جا سکے جو امریکہ کے سامان کی تجارت میں بڑے اور مستقل سالانہ خساروں میں معاون ہیں) کے تحت، جیسا کہ ترمیم شدہ ہے، بھارت کی اصل کی حامل اشیا پر 18 فیصد کی باہمی ٹیرف شرح نافذ کرے گا، جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے، پلاسٹک اور ربڑ، نامیاتی کیمیکلز، گھریلو سجاوٹ، دستکاری کی مصنوعات اور بعض مشینری شامل ہیں۔ مزید یہ کہ عبوری معاہدے کی کامیاب تکمیل سے مشروط طور پر، امریکہ 5 ستمبر 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر 14346 (باہمی ٹیرف کے دائرہ کار میں ترمیم اور تجارتی و سلامتی معاہدوں کے نفاذ کے لیے طریقہ کار کا قیام) کے تحت، جیسا کہ ترمیم شدہ ہے، ’’ہم آہنگ شراکت داروں کے لیے ممکنہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹس‘‘ کے ضمیمہ میں شناخت کردہ اشیا کی ایک وسیع رینج پر عائد باہمی ٹیرف ختم کر دے گا، جن میں جنیرک ادویات، جواہرات و ہیرے اور ہوائی جہاز کے پرزے شامل ہیں۔
- امریکہ بھارت کے بعض ہوائی جہازوں اور ہوائی جہاز کے پرزوں پر عائد وہ محصولات بھی ختم کرے گا جو قومی سلامتی کے لیے لاحق خطرات کے تدارک کے لیے 8 مارچ 2018 کے اعلامیہ 9704 (امریکہ میں ایلومینیم کی درآمدات میں ایڈجسٹمنٹ)، 8 مارچ 2018 کے اعلامیہ 9705 (امریکہ میں اسٹیل کی درآمدات میں ایڈجسٹمنٹ) اور 30 جولائی 2025 کے اعلامیہ 10962 (امریکہ میں تانبے کی درآمدات میں ایڈجسٹمنٹ) کے تحت عائد کیے گئے تھے، جیسا کہ ترمیم شدہ ہے۔ اسی طرح، امریکی قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق، بھارت کو گاڑیوں کے پرزوں کے لیے ترجیحی ٹیرف ریٹ کوٹہ دیا جائے گا، جو 17 مئی 2019 کے اعلامیہ 9888 (امریکہ میں گاڑیوں اور گاڑیوں کے پرزوں کی درآمدات میں ایڈجسٹمنٹ) کے تحت قومی سلامتی کے لیے لاحق خطرات کے تدارک کے لیے عائد ٹیرف سے متعلق ہے، جیسا کہ ترمیم شدہ ہے۔ دواسازی اور دواسازی اجزاء سے متعلق امریکی سیکشن 232 کی تحقیقات کے نتائج سے مشروط طور پر بھارت کو جنیرک ادویات اور اجزاء کے حوالے سے طے شدہ مذاکراتی نتائج حاصل ہوں گے۔
- امریکہ اور بھارت اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ متعلقہ دلچسپی کے شعبوں میں ایک دوسرے کو مستقل بنیادوں پر ترجیحی مارکیٹ رسائی فراہم کریں گے۔
- امریکہ اور بھارت قواعدِ اصل قائم کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ معاہدے کے فوائد غالب طور پر امریکہ اور بھارت ہی کو حاصل ہوں۔
- امریکہ اور بھارت غیر ٹیرفی رکاوٹوں سے نمٹیں گے جو دو طرفہ تجارت کو متاثر کرتی ہیں۔ بھارت امریکی طبی آلات کی تجارت میں موجود دیرینہ رکاوٹوں کے حل پر اتفاق کرتا ہے، وہ درآمدی لائسنسنگ کے ایسے پابند طریقۂ کار ختم کرے گا جو امریکی انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اشیا کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں تاخیر کرتے ہیں یا مقداری پابندیاں عائد کرتے ہیں اور معاہدے کے نفاذ کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر مثبت نتیجے کی غرض سے یہ طے کرے گا کہ امریکی تیار کردہ یا بین الاقوامی معیارات، بشمول ٹیسٹنگ تقاضے، شناخت کردہ شعبوں میں امریکی برآمدات کے بھارتی منڈی میں داخلے کے لیے قابلِ قبول ہیں یا نہیں۔ دیرینہ خدشات کے حل کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت امریکی خوراک و زرعی مصنوعات کی تجارت میں موجود دیرینہ غیر ٹیرفی رکاوٹوں کے حل پر بھی اتفاق کرتا ہے۔
- قابلِ اطلاق تکنیکی ضوابط کی تعمیل میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ اور بھارت باہمی طور پر طے شدہ شعبوں کے لیے اپنے اپنے معیارات اور مطابقت جانچ کے طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
- اگر کسی بھی ملک کی متفقہ ٹیرف شرحوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو امریکہ اور بھارت اس بات پر متفق ہیں کہ دوسرا ملک اپنی وابستگیوں میں ترمیم کر سکتا ہے۔
- امریکہ اور بھارت بی ٹی اے کے مذاکرات کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی کے مواقع کو مزید وسعت دینے کے لیے کام کریں گے۔ امریکہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ بی ٹی اے کے مذاکرات کے دوران وہ بھارت کی اس درخواست کو مدنظر رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ امریکہ بھارتی اشیا پر محصولات کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے۔
- امریکہ اور بھارت اقتصادی سلامتی کے حوالے سے ہم آہنگی مضبوط بنانے پر متفق ہیں تاکہ سپلائی چین کی لچک اور جدت کو بہتر بنایا جا سکے، جس کے لیے تیسرے فریقوں کی غیر بازاری پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے تکمیلی اقدامات، نیز اندرونِ ملک و بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے جائزوں اور برآمدی کنٹرولز پر تعاون شامل ہوگا۔
- بھارت آئندہ پانچ برسوں میں 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی توانائی مصنوعات، ہوائی جہاز اور ہوائی جہاز کے پرزے، قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات اور کوکنگ کوئلہ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بھارت اور امریکہ ٹیکنالوجی مصنوعات کی تجارت میں نمایاں اضافہ کریں گے، جن میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) اور ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا شامل ہیں، اور مشترکہ ٹیکنالوجی تعاون کو وسعت دیں گے۔
- امریکہ اور بھارت ڈیجیٹل تجارت کے حوالے سے امتیازی یا بوجھل طریقۂ کار اور دیگر رکاوٹوں سے نمٹنے اور ایک حصے کے طور پر مضبوط، بلند ہدف اور باہمی طور پر فائدہ مند ڈیجیٹل تجارتی قواعد کے حصول کے لیے واضح راستہ طے کرنے کا عہد کرتے ہیں۔
امریکہ اور بھارت اس فریم ورک کو فوری طور پر نافذ کریں گے اور عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کریں گے، اس مقصد کے ساتھ کہ ’’شرائطِ حوالہ‘‘ میں طے شدہ نقش راہ کے مطابق ایک باہمی طور پر فائدہ مند بی ٹی اے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-1882
(ریلیز آئی ڈی: 2224811)
وزیٹر کاؤنٹر : 17