کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل نے ہندوستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے کی شرائط پر دستخط کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 5:07PM by PIB Delhi

ہندوستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی شرائط (ٹی او آر) پر محکمۂ تجارت کے ایڈیشنل سکریٹری اور چیف مذاکرات کار جناب اجے بھادو اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹریٹ جنرل کے چیف مذاکرات کار ڈاکٹر راجہ المرزوقی کے درمیان 5 فروری 2026 کو نئی دہلی کے وانجیہ بھون میں دستخط کیے گئے۔ یہ دستخط کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل، کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد اور کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال کی موجودگی میں ہوئے۔

ٹی او آر جی سی سی-انڈیا ایف ٹی اے کے دائرہ کار اور طریقۂ کار کی وضاحت کرکے مذاکرات کی رہنمائی کریں گے۔

دستخط کی تقریب کے دوران، جناب پیوش گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایف ٹی اے عالمی بھلائی میں کئی گنا اضافے کا باعث ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایف ٹی اے پُر اُمیدی اور استحکام لائے گا، جس سےدونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ایف ٹی اے سامان اور خدمات کے ہموار بہاؤ مددگار ہو گا اور روزگار کے مواقع کو بڑھاتے ہوئے سرمایہ کاری کو راغب کرے گا اور خطے کے لیے خوراک اور توانائی کی یقینی فراہمی کو فروغ دے گا، جس سے ہمارے گہرے اقتصادی تعلقات کو تقویت ملے گی۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹریٹ جنرل کےچیف مذاکرات کار ڈاکٹر المرزوقی نے اس بات پر زور دیا کہ جی سی سی اور ہندوستان کے مشترکہ تاریخی تجارتی تعلقات ہیں اور ٹی او آر پر دستخط باہمی مفاد کےایف ٹی اے کی طرف مذاکرات کے آغاز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ ایف ٹی اے خاص طور پر موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

اپنے دورے کے دوران ڈاکٹر راجہ المرزوقی نے جناب راجیش اگروال سے ملاقات کی۔ اس بات چیت میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان مجموعی اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ہندوستان-جی سی سی ایف ٹی اے میں ایک اہم خطے کے ساتھ تجارت سے استفادہ کرنے اور وسعت دینے کی نمایاں صلاحیت ہے، جس کے ساتھ ہندوستان کے تجارت اور کامرس میں دیرینہ تاریخی تعلقات ہیں۔ مالی سال 2024-25 میں جی سی سی کے ساتھ ہندوستان کی تجارت 178.56 ارب امریکی ڈالر (برآمدات: 56.87 ارب امریکی ڈالر ؛ درآمدات: 121.68 ارب امریکی ڈالر) رہی، جو ہندوستان کی عالمی تجارت کا 15.42 فیصد ہے۔ پچھلے پانچ سال میں، جی سی سی کے ساتھ ہندوستان کی تجارت میں مسلسل توسیع ہوئی ہے، جس میں 15.3 فیصد کی سالانہ اوسط شرح نمو درج کی گئی ہے۔

ہندوستان سے جی سی سی کو ہونے والی اہم برآمدات میں انجینئرنگ کا سامان، چاول، ٹیکسٹائل، مشینری، جواہرات اور زیورات شامل ہیں۔ جی سی سی سے درآمدات کے کلیدی شعبوں میں بنیادی طور پر خام تیل، ایل این جی، پیٹرو کیمیکلز اور سونے جیسی قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر، جی سی سی ممالک موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کے لحاظ سے 61.5 ملین افراد (2024) اور 2.3 ٹریلین امریکی ڈالر کی مارکیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس زمرے میں عالمی سطح پر 9 ویں نمبر پر ہیں۔ جی سی سی خطہ ہندوستان کے لیے ایف ڈی آئی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے، جس میں ستمبر 2025 تک مجموعی سرمایہ کاری 31.14 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

جی سی سی میں ہندوستانی برادری سے تعلق رکھنے والے تقریبا ایک کروڑ لوگ بھی آباد ہیں۔عوام کے درمیان ان مضبوط اور پائیدارتعلقات کو پورے خطے میں ہندوستانی کمپنیوں کی خاطر خواہ موجودگی سے مزید تقویت ملتی ہے۔

*******

(ش ح۔ ک ح۔ت ا)

UN-1734


(ریلیز آئی ڈی: 2223975) وزیٹر کاؤنٹر : 8