قبائیلی امور کی وزارت
آسام میں قبائلیوں کے لیے روزگار کے پروگرام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 2:37PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے مرکزی وزیرِ مملکت، جناب درگاداس اوئیکے نے آج لوک سبھا کو آگاہ کیا کہ وزارتِ قبائلی امور اپنی دو ایجنسیوں، یعنی قبائلی امداد باہمی کے اداروں کی مارکیٹنگ اور ترقی کے بھارتی فیڈریشن (ٹرائفڈ) اور قبائلیوں کے لیے قومی مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی) کے ذریعے پورے بھارت میں قبائلی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ذریعۂ معاش، کاروبار (انٹرپرینیورشپ) اور آمدنی کے مواقع کے شعبوں میں تعاون فراہم کر رہی ہے۔
وزارتِ قبائلی امور، ٹرائفڈ کے ذریعے ’پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم)’ اسکیم نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد قبائلی کاروباری اقدامات کو مضبوط بنانا اور قدرتی وسائل کے مؤثر، منصفانہ، خود منظم اور بہترین استعمال کو فروغ دے کر ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس میں زرعی پیداوار، معمولی جنگلاتی پیداوار (ایم ایف پیز) اور غیر زرعی مصنوعات شامل ہیں۔
اس اسکیم کے تحت ہر ون دھن وکاس کیندر (وی ڈی وی کے) کے قیام کے لیے ریاستی حکومتوں کو 15.00 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ مراکز ایم ایف پیز اور غیر ایم ایف پیز کی قدر میں اضافے (ویلیو ایڈیشن) کی سرگرمیوں کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔
20-2019 میں پروگرام کے آغاز سے اب تک، آسام میں 495 وی ڈی وی کے کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کے لیے 7425 لاکھ روپے کی رقم فراہم کی گئی، اور ان کے ساتھ 1,50,765 اراکین منسلک ہیں۔ ان میں سے 359 وی ڈی وی کے کے فعال ہونے کی اطلاع دی گئی ہے، جن کی رپورٹ شدہ فروخت 1623.36 لاکھ روپے ہے۔
اس کے علاوہ، ٹرائفڈ قبائلی کاریگروں اور سپلائرز کو مصنوعات کی تیاری کے پہلے اور بعد کی مارکیٹ روابط فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے مختلف زمروں میں قبائلی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے، جن میں دھات سے تیار کردہ دستکاری، ٹیکسٹائل، زیورات، پینٹنگز، بید اور بانس کی مصنوعات، ٹیراکوٹا اور مٹی کے برتن، نیز نامیاتی اور قدرتی غذائی مصنوعات شامل ہیں۔ ان مصنوعات کی فروخت آن لائن اور آف لائن دونوں پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
مزید برآں، ٹرائفڈ قبائلی کاریگروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش، ممکنہ خریداروں سے رابطہ اور کاروباری مواقع کو بڑھانے کے لیے میلوں، نمائشوں اور تجارتی میلے منعقد کرتا ہے اور ان میں شرکت بھی کرتا ہے۔
آسام میں 1087 قبائلی کاریگر/سپلائرز، جو 9543 خاندانوں سے وابستہ ہیں، کوپینل میں شامل کیا گیا ہے اور ’ٹرائبس انڈیا’ کے 05 آؤٹ لیٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ آسام میں ٹرائبس انڈیا آؤٹ لیٹس کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:
|
شمار نمبر
|
آؤٹ لیٹ کا نام
|
پتہ
|
|
1
|
ٹرائبس انڈیا شلپ گرام
|
این ای زیڈ سی سی کیمپس، ساکردیو کے قریب، کلا چھیتر، گوہاٹی
|
|
2
|
ٹرائبس انڈیا ، منی پور بھون
|
منی پور بھون، اے ایس ای بی روڈ، گوہاٹی
|
|
3
|
ٹرائبس انڈیا ، آرٹ فیڈ
|
اے کے آزاد روڈ، رہبری، گوہاٹی
|
|
4
|
ٹرائبس انڈیا ، ہوائی اڈہ، گوہاٹی
|
ڈپارچر لان ایریا، گوہاٹی ہوائی اڈہ
|
|
5
|
ٹرائبس انڈیا ، بونگائیگاؤں
|
بی جی آر ٹاؤن شپ شپنگ کمپلیکس، چرانگ، بی ٹی آر آسام۔
|
مزید برآں، پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن(پی ایم جے وی ایم)اسکیم کے تحت معمولی جنگلاتی پیداوار(ایم ایف پی )کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)جزو کے تحت ریاست آسام کو 66.935 لاکھ روپے کی گردش پذیر رقم جاری کی گئی ہے۔ اس کے تحت اب تک 191.11 میٹرک ٹن معمولی جنگلاتی پیداوار، جس کی مالیت 102.41 لاکھ روپے ہے، کی خریداری کی اطلاع دی گئی ہے۔
قبائلیوں کے لیے قومی مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ٹی ڈی سی )، جو وزارتِ قبائلی امور کے تحت ایک مرکزی سیکٹرکا عوامی ادارہ (سی پی ایس ای)ہے، درج فہرست قبائل کےافراد اور اپنی مددآپ گروپس (ایس ایچ جیز) کو رعایتی قرضے فراہم کر کے کریڈٹ لنکیج کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا مقصد آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں اور خود روزگاری کے ذریعے کاروباری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ این ایس ٹی ڈی سی کی اہم اسکیمیں درج ذیل ہیں:
1۔ مدتی قرض اسکیم
این ایس ٹی ڈی سی فی یونٹ 50 لاکھ روپے تک لاگت والے قابلِ عمل منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت منصوبے کی لاگت کا 90 فیصد تک قرض فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم سبسڈی، پروموٹر کے تعاون یا مارجن منی کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔
2۔ آدیواسی مہیلا سشکتی کرن یوجنا (اے ایم ایس وائی):
یہ درج فہرست قبائل کی خواتین کی معاشی خود مختاری کے لیے مخصوص اسکیم ہے، جس کے تحت فی منصوبہ 2 لاکھ روپے تک قرض سالانہ 4 فیصد کی انتہائی رعایتی شرحِ سود پر فراہم کیا جاتا ہے، جو منصوبے کی لاگت کے 90 فیصد تک ہو سکتا ہے۔
3۔ اپنی مدد آپ گروپس کے لیے مائیکرو کریڈٹ اسکیم(ایم سی ایف):
یہ اسکیم خصوصی طور پر اپنی مدد آپ گروپس(ایس ایچ جیز) کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ درج فہرست قبائل کے افراد کی چھوٹے قرض کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس کے تحت فی رکن 50,000 روپے تک اور فی ایس ایچ جی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جاتا ہے۔
4۔ آدیواسی شکشا رِن یوجنا(اے ایس آر وائی):
یہ ایک تعلیمی قرض اسکیم ہے، جس کا مقصد درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بھارت میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم، بشمول پی ایچ ڈی پروگرامز، کے حصول میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت فی اہل خاندان 10 لاکھ روپے تک مالی امداد سالانہ 6 فیصد کی رعایتی شرحِ سود پر دی جاتی ہے۔
ریاست آسام میں، گزشتہ تین برسوں کے دوران این ایس ٹی ڈی سی نے 64 مستفیدین کو مجموعی طور پر 64.26 لاکھ روپے کے قرضے فراہم کیے ہیں۔
****
( ش ح۔م ع ۔ ا ک م)
U.No. 1706
(ریلیز آئی ڈی: 2223877)
وزیٹر کاؤنٹر : 4