بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ڈبرو گڑھ کا عروج اور مقامی احیائےنوسےوزیر اعظم نریندر مودی کی زیرقیادت شمال مشرق کے کایاپلٹ کی عکاسی ہوتی ہے:سربانند سونووال
ڈبرو گڑھ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ، وزیر داخلہ امت شاہ کےہاتھوں ڈبرو گڑھ میں آسام قانون ساز اسمبلی کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھاگیا:سربانند سونووال
نیا اسمبلی کمپلیکس، کھیلوں کا مرکز، اور ویٹ لینڈ کی بحالی سے آسام کی پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کے سفرمیں تیزی آئے گی:سربانند سونووال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 JAN 2026 8:50PM by PIB Delhi
جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے مرکزی وزیر داخلہ اور وزیرباہمی تعاون امت شاہ اور آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما کے ساتھ ڈبرو گڑھ میں بنیادی ڈھانچے کےمتعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھاجوڈبرو گڑھ کو آسام کی دوسری راجدھانی کے طور پر قائم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کےان پانچ پروجیکٹوں کی کل تخمینہ لاگت 1,715 کروڑ روپے ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے متعدد تاریخی منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا جن میں آسام قانون ساز اسمبلی کی نئی عمارت اور اراکین اسمبلی کے رہائشی کمپلیکس کی تعمیر، عالمی معیار کے کثیر مقصدی اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، وائلڈ لائف ہیلتھ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام، اور ڈبروگڑھ خطے میں بڑے پیمانے پر تالابوں اور ویٹ لینڈ کی بحالی کے اقدامات شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اچھی حکمرانی کی روایت کو آگے بڑھانا ہے جس میں انتظامی کام کاج کو لامرکز بنانا، گورننس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور بالائی آسام کے خطےمیں علاقائی ترقی کو تیز کرنا شامل ہے۔
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا،آج کا دن ڈبرو گڑھ کے لیے تاریخی حیثیت رکھتاہے۔ عزت مآب وزیر داخلہ امیت شاہ نے متعدد پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا، یہ پروجیکٹ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ڈبرو گڑھ کی ترقی کے لیے جاری کایاپلٹ کے ترقیاتی ایجنڈے کی عکاسی کرتے ہیں، آسام کے بالائی حصے اور پورے شمال مشرقی خطے میں ترقیاتی ایجنڈے کی نمائندگی کرتے ہیں۔گزشتہ ایک دہائی میں وزیر اعظم مودی کی دور اندیش قیادت میں ریاست آسام نےبے مثال ترقی کاسفرطے کیا ہے، جہاں لوگوں کی امنگوں کو اچھی حکمرانی کے ذریعے نتائج میں تبدیل کیا گیا ہے۔
جناب سربانند سونووال نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں جیسے کہ نیا قانون ساز اسمبلی کمپلیکس،اراکین اسمبلی کی رہائشی عمارت، بین الاقوامی معیاری کھیلوں کی سہولیات، وائلڈ لائف ریسرچ کے ادارے اور ویٹ لینڈ کی بحالی کے اقدامات کے ذریعےآسام کی مجموعی ترقی کی رفتار کو تقویت دیتے ہوئے ڈبرو گڑھ کو نئی رفتار فراہم ہوگی۔ انتظامی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ نے ڈبرو گڑھ میں آسام قانون ساز اسمبلی کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت 284 کروڑ روپے ہے،اور توقع ہے کہ یہ شہر کو آسام کی دوسری راجدھانی کے طور پر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کھانیکر پریڈ گراؤنڈ میں نیشنل ڈیزاسٹر مٹیگیشن فنڈ کے تحت آسام ویٹ لینڈ کی بحالی اور تجدید کاری پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اس پروگرام سے آسام کے طویل مدتی سیلاب سے بچاؤ اور موسمیاتی استحکام کے فریم ورک کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ 692 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے نافذ کیا جانے والا یہ پروجیکٹ آسام کے نو اضلاع میں پھیلے ہوئے 125 ویٹ لینڈ کی بحالی اور از سر نو تعمیر پر مرکوز ہے۔ اس اقدام کےذریعے سیلابی صورتحال،اسلٹیشن اور ماحولیاتی انحطاط جیسےطویل عرصے سے درپیش چیلنجوں کو بھی حل کیاگیا ہے۔
جناب امت شاہ نے کھیلوں کو فروغ دینے کی کوششوں کے ضمن میں ڈبرو گڑھ کے کھانیکر میں ملٹی پرپز اسپورٹس کمپلیکس کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ انہوں نے مین اسٹیڈیم میں نشست کی گنجائش کو 5,000 سے بڑھا کر 35,000 کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا، جس کا مقصد شہر کو بڑے قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے قابل بنانا ہے۔ آسام کی دوسری راجدھانی کے طور پر ڈبرو گڑھ کا اُبھرنا اور میسنگ کمیونٹی کی بھرپور وراثت کا جشن مجموعی طور پر مودی حکومت پر شمال مشرقی خطےکے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے۔
جناب سربانندسونووال نے کہا کہ ڈبرو گڑھ کو ریاست کی دوسری راجدھانی کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا گیاہے۔ جناب سربانندسونووال نے کہا، ‘‘ڈبرو گڑھ کو آسام کی دوسری راجدھانی اعلان کیے جانےکے بعد، ریاستی حکومت نے ضروری بنیادی ڈھانچے اور جدید سہولیات کی تعمیر کے لیےتیز رفتاری سے کام کیا،جس کی وجہ سے آج کے پروگرام کی کامیاب تکمیل ممکن ہوئی۔’’
مرکزی وزیرجناب سربانند سونووال نے کہا کہ آسام نے وزیر اعظم مودی کی قیادت میں اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں پائیدار امن اور استحکام کا تجربہ کیا ہے، جس سے تمام شعبوں میں تیز رفتار ترقی ممکن ہوئی ہے۔
سونووال نے کہا،‘‘مستقل امن سےریاست میں اقتصادی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کی بنیادپڑی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی متحرک قیادت اور خطے پر خصوصی توجہ کی بدولت آسام ملک میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر نمودارہوا ہے، جسے مرکزی حکومت کی مسلسل حمایت حاصل ہوئی ہے۔’’
جناب سربانند سونووال نے سابقہ کانگریس حکومتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں دیرینہ نظر اندازی، بدعنوانی اور حکمرانی کی ناکامیوں کی علامت قرار دیا، جس سے آسام کی انمول صلاحیت اور ترقی کے مواقع ضائع ہوگئے۔
مرکزی وزیر نے آسام کی ترقی کے لیے مسلسل رہنمائی اور حمایت پر وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنت بسوا سرما کی قیادت کی بھی ستائش کی جنہوں نے تیزگامی اور تال میل کے ساتھ ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھایا ہے۔
جناب سربانندسونووال نے کہا کہ 2014 کے بعد سے،گزشتہ ایک دہائی کے اندروزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں فیصلہ کن تبدیلی دیکھی گئی ہے، آسام اور شمال مشرقی ریاستیں ہندوستان کے قومی ترقی کے سفر کےضمن میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ اقدامات حکومت کے امرت کال وژن کے عین مطابق ہیں، جو جامع ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تخلیق اور قومی خود انحصاری پر مرکوز ہیں۔
جناب سربانندسونووال نے کہا کہ این ڈی اے کی ڈبل انجن والی حکومت صنعتی ترقی، روزگار کی فراہمی اور تمام برادریوں کے لیے مساوی ترقی کے لیے کام کرتی رہی ہے۔جناب سربانندسونووال نے بارک اور برہم پترا وادیوں، پہاڑیوں اور میدانی علاقوں کے لوگوں سے آسام کے ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے واسطے متحد رہنے کی اپیل کی۔
جناب سربانندسونووال نے آسام اور شمال مشرق میں امن، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ثقافتی بااختیاری اور طویل مدتی خوشحالی کو فروغ دینے والے اقدامات کی حمایت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ آسام نے ترقی اور ثقافتی بحالی کے بے مثال مرحلے کا مشاہدہ کیا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بنیادی ڈھانچے کے اہم اقدامات اور مقامی شناخت پر نئے سرے سے زور دیا گیا ہے۔
جناب سربانندسونووال نے کہا کہ مشترکہ پروگرام - ڈبرو گڑھ میں آسام ویٹ لینڈ کی بحالی اور بازآبادکاری پروجیکٹ کا آغاز اور دھیماجی میں 10 ویں میسنگ یوتھ فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے ترقی، آفات سے نمٹنے اور ثقافتی تحفظ کے لیے حکومت کامربوط نقطہ نظر اُجاگر ہوتا ہے۔
جناب سربانندسونووال نے کہا کہ آسام کی ویٹ لینڈنے تاریخی طور پر سیلاب کی صورتحال کومعتدل بنانے،حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے اور ذریعۂ معاش کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن کئی دہائیوں سے جاری تجاوزات، غیر منصوبہ بند ترقی اور نظراندازی نے ان کی قدرتی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحالی کی کوششوں سے ماحولیاتی توازن، زیرزمین پانی کی سطح کے ریچارج اور پائیدار سیلاب کے انتظام کے نظام کو مضبوط کیاگیاہے۔
جناب سربانند سونووال نے کہااس پہل سے تقریباً 7.5 لاکھ لوگوں کو سیلاب سے بچانے میں مدد ملےگی، تقریباً 77,000 ہیکٹر اراضی کو آب پاشی کی سہولت ملے گی، سیلاب کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملےگی اور پانی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان 15 بڑے تالابوں سے آبپاشی کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے آسام کے کسانوں کو سال میں تین بار فصلیں پیدا کرنے، مویشی پروری کو فروغ دینے اور ڈیری کی صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ یہ تمام تالاب واٹر اسپورٹس کے لیے بھی استعمال ہوں گے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنیں گے۔
ڈبرو گڑھ میں ہونے والے پروگرام میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو، آسام کے ریونیو اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے وزیر کیشب مہنت اور آسام کے آبی وسائل کے وزیر پیجوش ہزاریکا کے علاوہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے دھیماجی کے کیرینگ چاپوری میں 10ویں میسنگ یوتھ فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس میلے کا اہتمام حکومت آسام نے ایک بڑے ثقافتی پلیٹ فارم کے طور پر کیا تھا جس میں میسنگ کمیونٹی کے اتحاد، ثقافت اور شناخت کا جشن منایا گیا۔ مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور ٹیکسٹائل پبیتر مارگریٹا نے بھی ڈبرو گڑھ کی تقریب میں شرکت کی۔
جناب سربانند سونووال نے کہا کہ یہ میلے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کمیونٹی کی شرکت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی روایات کے تحفظ کے تئیں حکومت کے عزم کی عکاسی کرتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب کےذریعے آسام کی سب سے متحرک مقامی برادریوں میں سے ایک کی بھرپوروراثت کو اجاگر کیاگیااور ثقافتی اظہار اور سماجی ہم آہنگی کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
اختتامی تقریب میں آسام کے وزیر تعلیم ڈاکٹر رانوج پیگو، لکھیم پور کے ممبر پارلیمنٹ(ایم پی)پردان بروہ اورمیسنگ خود مختار کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ممبر (سی ای ایم) پرمانند چانگیا بھی موجود رہے۔
مرکزی وزیرجناب سربانند سونووال نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت وکست بھارت کے قومی وژن کے مطابق مضبوط، خود انحصار اور ثقافتی طور پر پراعتماد آسام کی تعمیر کے لیے پابندعہدہے ۔
****
ش ح۔ م ش ع ۔ ش ا
U NO: 1484
(ریلیز آئی ڈی: 2222489)
وزیٹر کاؤنٹر : 25