زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

یونین بجٹ 2026-27 تاریخی اور بے مثال: جناب شیوراج سنگھ چوہان


ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے لیے ایک متحرک بجٹ: مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان

دیہی ترقی کی وزارت کے بجٹ میں قابل ذکر 21 فیصد کا اضافہ: جناب شیوراج سنگھ چوہان

زرعی بجٹ 1.32 لاکھ کروڑ روپے، کسانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہے

کسانوں کی اِن پُٹ لاگت کو کم کرنے کے لیے 1.70 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کھاد سبسڈی

प्रविष्टि तिथि: 01 FEB 2026 6:55PM by PIB Delhi

دیہی ترقی، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج مرکزی بجٹ 2026-27 کو ”تاریخی“ اور ”بے مثال“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ایک ترقی یافتہ اور خود انحصار ہندوستان کی مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں 12ویں بار بجٹ پیش کیا گیا ہے اور محترمہ نرملا سیتا رمن پہلی خاتون وزیر خزانہ بن گئی ہیں جنہوں نے لگاتار نویں بار مرکزی بجٹ پیش کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

 

 

جناب چوہان نے کہا، ”یہ مرکزی بجٹ ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گا۔ یہ سماجی خوشحالی اور قومی عزم کی تکمیل کا بجٹ ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ایک متحرک بجٹ ہے۔ وزیر اعظم کی دور اندیشی اور وژن سے متاثر ہو کر یہ بجٹ 2047 تک خود انحصار، بااختیار اور خوشحال ہندوستان کی مضبوط بنیاد رکھ رہا ہے۔ یہ بجٹ ملک کے چار ستون -  کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور غریبوں کی زندگیوں میں تبدیلی لا کر ایک نیا باب لکھ رہا ہے-“

 

 

دیہاتوں، غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کے لیے بجٹ

مرکزی وزیر نے کہا کہ بجٹ گاؤں، غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں نافذ ہونے والی اسکیموں کی وجہ سے غربت میں مسلسل کمی آرہی ہے اور یہ مرکزی بجٹ غریبوں کو خود انحصار بنانے کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔

 

’لکھپتی دیدی‘ اور ’شی-مارٹ‘: دیہی خواتین کو کاروباری بنانے کی طرف ایک بڑا قدم

جناب چوہان نے کہا کہ ’لکھپتی دیدی‘ اسکیم کی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے، مرکزی بجٹ میں ’شی-مارٹ‘ کے ذریعے خود مدد کرنے والے کاروباریوں کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کے تحت، خواتین کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعات کو فروخت کرنے کے پلیٹ فارم کے طور پر ہر ضلع میں کمیونٹی کی ملکیت والے خوردہ دکانیں قائم کی جائیں گی، جہاں سیلف ہیلپ گروپ اور دیہی خواتین کے ذریعے تیار کردہ اشیا کو نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مویشی پالنے، زراعت سے متعلق سرگرمیوں اور دیگر پیشوں میں مصروف خواتین اب صرف روزی روٹی تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ کاروباری افراد کے طور پر آگے بڑھیں گی جو اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔

 

 

دیہی ترقیاتی بجٹ میں 21 فیصد اضافہ

مرکزی وزیر نے کہا کہ دیہی ترقی کی وزارت کے بجٹ میں اس سال 21 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دیہی ترقی اور زراعت کے محکموں کے بجٹ کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو دیہی ترقی اور زراعت کی وزارتوں کا مشترکہ بجٹ اب 4,35,779 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جو دیہاتوں اور کسانوں کے ساتھ حکومت کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔

جناب چوہان نے کہا کہ دیہی ترقی کے مجموعی بجٹ کے اندر، صرف ’وکست بھارت جی رام جی‘ اسکیم کے لیے 1.51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا انتظام کیا گیا ہے، جس میں ریاستوں کے تعاون بھی شامل ہیں۔ منریگا کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ پہلے منریگا کا مجموعی بجٹ تقریباً 86,000 کروڑ روپے تھا، جب کہ اس بار اکیلے مرکز کا حصہ بڑھا کر 95,692 کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ ریاستوں کے حصہ کے اضافے کے ساتھ، کل مختص رقم 1.51 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گی، جسے انہوں نے ”تاریخی اور بے مثال“ قرار دیا۔

 

پنچایتوں کی براہ راست امداد کو دوگنا کرنا، ترقی یافتہ اور خود انحصار دیہات کی جانب ایک بڑا قدم

جناب چوہان نے کہا کہ 16ویں مالیاتی کمیشن کے تازہ ترین فیصلے کے تحت، 55,900 کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست پنچایتوں کو منتقل کیے جائیں گے۔ موازنہ کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ پہلے پانچ سالوں کے دوران، پنچایتوں کو تقریباً 2.36 لاکھ کروڑ روپے براہ راست موصول ہوئے تھے، جو اب بڑھ کر دوگنا یعنی تقریباً 4.35 لاکھ کروڑ ہو گئے ہیں۔

وزیر موصوف نے یقین ظاہر کیا کہ 1.51 لاکھ کروڑ روپے ”وکست بھارت جی رام جی“ اسکیم کے تحت مختص کیے گئے، جو مالیاتی کمیشن کے تحت ملنے والے 55,900 کروڑ کے ساتھ، ترقی یافتہ، خود انحصار، روزگار پر مبنی اور غربت سے پاک گاؤں کی تعمیر میں بے مثال کردار ادا کرے گا۔

 

زرعی بجٹ میں نمایاں اضافہ، تحقیق اور کفایتی کھادوں پر بھرپور توجہ

زراعت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اس سال محکمہ زراعت کا بجٹ بڑھا کر 1,32,561 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تعلیم اور تحقیق کے لیے 9,967 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے، خاص طور پر انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے لیے، جس سے تحقیق اور اختراع کو تقویت ملے گی۔

 

نیشنل فائبر اسکیم اور ادویاتی پودوں کے ذریعے کاشتکاروں کو براہ راست فائدہ

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ نیشنل فائبر اسکیم کے تحت ریشم، اون اور جوٹ جیسے ریشوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس سے ان شعبوں سے وابستہ کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت آیوش کے تحت ادویاتی پودوں کی تصدیق اور برآمد سے متعلق دفعات سے دواؤں کے پودوں کی کاشت کرنے والے کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

********

ش ح۔ ف ش ع

U: 1401


(रिलीज़ आईडी: 2221879) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil