کیمیکل اور پٹرو کیمیکل کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

بجٹ 27-2026 میں تین نئے کیمیاوی پارکوں کی تجویز پیش کی گئی


کاربن کیپچر یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (سی سی یو ایس)  تکنالوجیاں 20000 کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ کیمیاوی شعبے کو تعاون فراہم کریں گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 FEB 2026 4:45PM by PIB Delhi

سال 2027-2026 کے لیے آج لوک سبھا میں پیش کیے گئے مرکزی  بجٹ  میں  چیلنج روٹ اور کلسٹر پر مبنی پلگ اینڈ پلے ماڈل کے توسط سے تین نئے کلی طو رپر وقف کیمیاوی پارکوں کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے اپنی بجٹ کی تقریر میں کہا کہ اس گھریلو کیمیاوی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور درآمدات پر انحصار میں کمی آئے گی۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ان کلی طور پر وقف کیمیاوی پارکوں کے قیام میں ریاستوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے ایک اسکیم کا بھی آغاز کیا جائے گا۔

بجٹ کی دفعات میں کہا گیا ہے کہ کاربن کیپچر یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (سی سی یو ایس) تکنالوجیوں کو کیمیکل سمیت پانچ صنعتی شعبوں میں آخری استعمال کی ایپلی کیشنوں  میں اعلیٰ تیاری کی سطح کو حاصل کیا جائے گا۔ مالی امداد کے لیے اس زمرے میں شامل دیگر شعبے بجلی، فولاد، سیمنٹ اور ریفائنریز ہیں۔ سی سی یو ایس تکنالوجیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے آئندہ پانچ برسوں میں 20,000 کروڑ روپے کا تخمینہ تجویز کیا گیا ہے۔

ایک سبز پہل قدمی کے طور پر کاربن اخراج پر قابو پانے، اسے بروئے کار لانے، اور ذخیرہ اندوزی کے پروگرام کا مقصد کاربن کے اخراج کو یا تو ذخیرہ کرکے یا دوبارہ استعمال کرکے کم کرنا ہے تاکہ قابو کی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں داخل نہ ہو۔

مرکزی بجٹ 2026-27 میں 200 ورثہ جاتی صنعتی کلسٹرز کو بحال کرنے کی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے، تاکہ بنیادی ڈھانچہ  اور تکنالوجی کی جدیدکاری کے ذریعے ان کی لاگت کی مسابقت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ اعلان کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکل شعبے کی مدد کے لیے بھی تیار ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ روایتی صنعتوں کی بحالی اور مضبوطی فراہم کرانا اقتصادی نمو میں اضافے اور روزگار کو تحفظ فراہم کرانے کے لیے اہمیت کے حامل امور ہیں۔

**********

(ش ح –ا ب ن)

UR-ES-32


(ریلیز آئی ڈی: 2221723) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी , Tamil