شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم او ایس پی آئی نے 30 جنوری 2026 کو چنئی میں جی ڈی پی ، آئی آئی پی اور سی پی آئی کی بنیادی نظر ثانی پر اجراءسے پہلے کی تیسری مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا


قابل اعتماد اور شفاف ڈیٹا ٹھوس پالیسی سازی کی کلید-ڈاکٹر سی رنگ راجن ، چیئرمین ، مدراس اسکول آف اکنامکس ، سابق چیئرمین ، وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل اور آر بی آئی کے سابق گورنر

प्रविष्टि तिथि: 30 JAN 2026 7:45PM by PIB Delhi

وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) نے 30 جنوری 2026 کو چنئی میں مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی)، صنعتی پیداواری اشاریہ  (آئی آئی پی) اور صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی بنیاد میں تبدیلی سے متعلق تیسری پری ریلیز مشاورتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ پہلی پری ریلیز مشاورتی ورکشاپ 26 نومبر 2026 کو ممبئی میں اور دوسری 23 دسمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوئی تھی۔

ان ورکشاپس کا بنیادی مقصد شفافیت میں اضافہ کرنا، مذاکرات کو فروغ دینا اور نظرِ ثانی شدہ جی ڈی پی ، آئی آئی پی  اور سی پی آئی سیریز کے اجراء سے قبل وسیع مشاورت کو یقینی بنانا تھا۔ اس کے تحت متعلقہ فریقین کے ساتھ مجوزہ طریقہ کار اور ساختی بہتریوں کو پیش کیا گیا۔

نئی جی ڈی پی  اور آئی آئی پی  سیریز، جن کی بنیاد مالی سال 23- 2022 ہوگی، بالترتیب 27 فروری 2026 اور 28 مئی 2026 کو جاری کی جائیں گی، جبکہ سی پی آئی کی نئی سیریز، جس کا اساس سال 2024 ہوگا، 12 فروری 2026 کو جاری کی جائے گی۔

ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس میں کئی ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر سی رنگ راجن، چیئرمین مدراس اسکول آف اکنامکس، سابق چیئرمین وزیرِ اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل اور سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا، پروفیسر راجیوا لکشمن کارندی کر، چیئرمین نیشنل اسٹیٹسٹیکل کمیشن ،ایم او ایس پی آئی ، ڈاکٹر سوربھ گرگ، سیکریٹری ایم او ایس پی آئی ، ڈاکٹر شامیکا روی، رکن اقتصادی مشاورتی کونسل برائے وزیرِ اعظم اور جناب  این کے سنتوشی، ڈائریکٹر جنرل (سینٹرل اسٹیٹسٹکس) شامل تھے۔ اس ورکشاپ میں تقریباً  150 شرکاء نے حصہ لیا جن میں ممتاز ماہرِ معاشیات، مالیاتی اداروں جیسے آر بی آئی، بارکلیز بینک پی ایل سی اور گولڈمین ساکس کے ماہرین، موضوعاتی ماہرین، تعلیمی شخصیات، ادارے جیسے سی آر راؤ انسٹیٹیوٹ آف میتھمیٹکس، اسٹیٹسٹکس اینڈ کمپیوٹر سائنس، تھنک ٹینک نیتی آیوگ اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران شامل تھے۔

استقبالیہ خطاب میں  جناب  این کے سنتوشی، ڈائریکٹر جنرل (سینٹرل اسٹیٹسٹکس)، ایم او ایس پی آئی  نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سی رنگا راجن اور دیگر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نئی سیریز اور جی ڈی پی ، سی پی آئی اور آئی آئی پی  کے بیس ایئر میں ترمیم کے لیے اختیار کیے گئے کلیدی اقدامات کا خلاصہ پیش کیا، اور بتایا کہ یہ عمل وسیع پیمانے پر طریقہ کار کے جائزے، تازہ ترین درجہ بندیوں اور وسیع مشاورت پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر سی رنگ راجن، مہمانِ خصوصی نے سرکاری اعداد و شمار کی بھروسے کے قابل اور معتبر نوعیت کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیٹا صارفین اور متعلقہ فریقوں کی شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پری ریلیز مشاورتی ورکشاپ اس سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے درست، بروقت اور سائنسی اصولوں پر مبنی ڈیٹا کی اہمیت بیان کی جو ہندوستان کی معاشی تبدیلی کا سراغ لگانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جی ڈی پی  سیریز میں ترامیم معیشت میں ساختی تبدیلیوں کو ظاہر کرنے کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نئے ڈیٹا کا استعمال، شفاف طریقہ کار اور بہتر تشریح شدہ اعداد و شمار سرکاری شماریات کی افادیت اور ساکھ کو مزید مضبوط کریں گے۔

ڈاکٹر سوربھ گرگ، سیکریٹری ایم او ایس پی آئی  نے ورکشاپ کے تناظر کو واضح کرتے ہوئے پالیسی سازی میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے وقت پر، تفصیلی اور صارف دوست ڈیٹا کی فراہمی کی ضرورت بیان کی تاکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے وزارت کی توجہ متبادل ڈیٹا ذرائع کے استعمال، ڈیٹاسیٹس کے ہم آہنگی اور سرکاری اعداد و شمار تک رسائی اور آگاہی میں اضافہ پر مرکوز ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موبائل ایپلی کیشنز اور ڈیٹا اسسٹنس سروسز کے ذریعے زیادہ تفصیلی سطح پر ڈیٹا جاری کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ صارفین کے لیے رسائی زیادہ وسیع اور آسان بنائی جا سکے۔

ڈاکٹر شامیکا روی نے اپنے کلیدی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت اور ساختی تبدیلیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ سرکاری شماریات خود کو اس قابل بنائیں کہ وہ معاشی سرگرمی کے حقیقی حجم کو مؤثر طور پر ظاہر کر سکیں۔ انہوں نے بہتر معیار کے ڈیٹا، اس کی جامعیت اور قابلِ رسائی ہونے کو مؤثر پالیسی سازی کے لیے نہایت اہم قرار دیا، اور کہا کہ جب ڈیٹا وسیع پیمانے پر استعمال ہو اور صارف دوست صورت میں دستیاب ہو تو اس کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ کی جانب سے بھارت کے شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کو سراہا۔

پروفیسر راجیوا لکشمن کارندی کر نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ ڈیٹا کو قومی اثاثہ سمجھا جانا چاہیے اور اس کے اشتراک اور قابلِ رسائی ہونے کی اہمیت اجاگر کی تاکہ اسے پالیسی، تحقیق اور حکمرانی میں مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی شماریاتی نظام کو عالمی معیشت میں تیز رفتار تبدیلیوں کے تقاضوں کے مطابق زیادہ بروقت، مستقبل بین اور صارف مرکوز بننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایم او ایس پی آئی  کی جانب سے کی گئی اصلاحات کو، جن میں نئے سرویز، وسیع کوریج، اور تازہ ترین درجہ بندی معیارات کی اپ ڈیٹ شامل ہے، اس سمت میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

افتتاحی اجلاس کے بعد تین تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے—ایک جی ڈی پی  پر، جس کی صدارت پروفیسر بسوناتھ گولڈار، ریٹائرڈ پروفیسر، انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ، دہلی نے کی؛ دوسرا آئی آئی پی  پر، جس کی صدارت پروفیسر مریدول کے ساگر، آئی آئی ایم کوژیکوڈ نے کی؛ اور تیسرا سی پی آئی پر، جس کی صدارت جناب آشش کمار، سابق ڈی جی ایم او ایس پی آئی  نے کی۔ ان سیشنز میں نظرِ ثانی شدہ سیریز میں مجوزہ بہتریوں پر پریزنٹیشنز پیش کیے گئے ۔ پریزنٹیشنز کے بعد اوپن ہاؤس مباحثہ ہوا، جس میں شرکاء کے سوالات کے جواب دیے گئے۔

نئی سیریز میں مجوزہ بہتریوں کی تفصیلات وزارت کی ویب سائٹ پر مباحثاتی دستاویزات کی صورت میں دستیاب ہیں۔ قومی حسابات، آئی آئی پی  اور سی پی آئی ڈیٹا کے صارفین وزارت کے ساتھ اپنی آراء، تبصرے یا تجاویز مجوزہ تبدیلیوں کے حوالے سے شیئر کر سکتے ہیں۔

 …………………………..

(ش ح ۔ا س۔ ت ح)

U. No. : 1333


(रिलीज़ आईडी: 2221032) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Kannada