صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند نے یورپی کونسل کے صدر اور یورپی کمیشن کی صدر کی میزبانی کی
بھارت اور یورپ نہ صرف عصری مفادات سے جڑے ہوئے ہیں، بلکہ مشترکہ اقدار جیسے کہ جمہوریت،تکثیریت اور آزادمارکیٹ کی معیشت سے بھی جڑے ہوئے ہیں: صدر دروپدی مرمو
بھارت-یورپی یونین کا آزادانہ تجارتی معاہدہ ہمارے لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں مثبت تبدیلیاں لائے گا:صدر دروپدی مرمو
प्रविष्टि तिथि:
27 JAN 2026 10:03PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہندمحترمہ دروپدی مرمو نے آج شام (27 جنوری 2026) راشٹرپتی بھون میں 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے خصوصی مہمانان ، یورپی کونسل کے صدرعزت مآب جناب انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدرعزت مآب محترمہ ارسولا فان ڈیر لیئن کا خیرمقدم کیا۔صدرِ جمہوریہ ہند نے ان کے اعزاز میں ایک ضیافت کا بھی اہتمام کیا۔
یورپی یونین کے رہنماؤں کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ ہند نے کہا کہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر بطور خصوصی مہمان ان کی موجودگی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں یورپی یونین کی پہلی شرکت ہے۔ یہ موقع ہمارے باہمی تعلقات کی گہرائی اور ایک دوسرے پر ہمارے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ بھارت اور یورپ نہ صرف عصری مفادات کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ جمہوریت، تکثیریت اور آزاد مارکیٹ کی معیشت جیسےمشترکہ اقدار بھی ہمیں باہم جوڑتی ہیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں یہی اصول ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت–یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری غیر معمولی طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایک مستحکم، متوازن اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے لیے ہماری مشترکہ خواہش کی عکاس ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ان غیر یقینی اور تنازعات سے بھرے اوقات میں، بھارت اور یورپی یونین پر عالمی استحکام برقرار رکھنے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمارا تعاون سفارت کاری، کثیرالجہتی تعلقات، اور پرامن بقائے باہمی کے لیے ایک واضح پیغام دیتا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ اقتصادی تعاون بھارت–یورپی یونین تعلقات کا ایک کلیدی ستون ہے۔ ہم تجارت اور سرمایہ کاری کو مشترکہ خوشحالی اور سماجی ترقی کے آلات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے پر تاریخی مذاکرات کی کامیاب تکمیل پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ہمارے عوام کی زندگیوں میں نمایاں اور مثبت تبدیلیاں لائے گا۔
صدرِ جمہوریہ ہندنے کہا کہ آج ٹیکنالوجی کا معاشرے پر اثر اتنا ہی گہرا ہے جتنا کہ اس کا معیشت پر ہے۔ بھارت اور یورپی یونین مل کر “ذمہ دارانہ جدت” کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران طے پانے والی سیکورٹی اور دفاعی شراکت داری ہمارے دفاعی صنعتوں کے لیے نئے مواقع کی شروعات کرے گی۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ بھارت یورپی یونین کے ساتھ صاف توانائی، ماحولیاتی مالیات اور پائیدار ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔
تینوں رہنماؤں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اس دورے کے دوران طے پانے والے اہم معاہدے بھارت–یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت اور یورپی یونین توازن، استحکام اور امید کے لیے ایک قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور مل کر ہم ایک ایسا مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں جو پائیدار، جامع اور انسانی ہو۔
صدرِ جمہوریہ کا خطاب دیکھنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں
***
(ش ح۔ع ح۔اش ق(
U.No.1167
(रिलीज़ आईडी: 2219448)
आगंतुक पटल : 8