صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت کی مرکزی وزارتِ نے انضباطی بوجھ میں کمی اور کاروبار میں آسانی کے فروغ کے اقدام کے تحت


این ڈی سی ٹی ضابطوں، 2019 میں اہم ترامیم کو نوٹیفائی کر دیا ہے

این ڈی سی ٹی ترامیم کے ذریعے مدت کار میں کمی اور دواسازی کے ضمن میں تحقیق و ترقی  کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا

غیر تجارتی مقاصد کے لیے ادویات کی تیاری کے لائسنس کی شرط کو ختم کر کے پیشگی اطلاع کا نظام نافذ

مذکورہ ترامیم سے ادویات کی تیاری کے مدت کار کےعمل میں کم از کم 90 دن کی کمی متوقع؛

ٹیسٹ لائسنسوں کے لیے قانونی کارروائی کی مدت گھٹا کر 45 دن کر دی گئی ہے

مخصوص کم رسک بی اے/بی ای مطالعات کے لیے پیشگی اجازت کی ضرورت؛ آن لائن انٹی میشن میکانزم کا قیام

حکومت نے دواسازی کے تحقیق و ترقی اور کاروبار میں سہولت کے فروغ کے لیے اعتماد پر مبنی انضباطی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 9:53AM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے نئے ادویات اور کلینیکل ٹرائلز (این ڈی سی ٹی) ضابطوں 2019 میں اہم ترامیم کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔ یہ ترامیم عزت مآب وزیراعظم جناب نریندر مودی کی ہدایات کے مطابق انضباطی بوجھ کو کم کرنے اور کاروبار میں سہولت کو فروغ دینے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔

ان ترامیم کا مقصد ریگولیٹری عمل کو سادہ بنانا، منظوری کے اوقات میں کمی لانا اور ملک میں کلینیکل تحقیق اور دواسازی کی ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

موجودہ ریگولیٹری نظام کے تحت دواسازی کمپنیوں کو تحقیق، جانچ یا تجزیے کے لیے محدود مقدار میں ادویات تیار کرنے کی غرض سے سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) سے ٹیسٹ لائسنس حاصل کرنا لازمی  ہوتا ہے۔ نوٹیفائی کی گئی ترامیم کے ذریعے غیر تجارتی مقاصد کی خاطر ادویات کی تیاری کے لیے لائسنس کی اس شرط کو ختم کر کے پیشگی اطلاع کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں صنعت کو اب ٹیسٹ لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور سی ڈی ایس سی او کو آن لائن اطلاع جمع کرانے کے بعد دواسازی کی ترقی کا عمل شروع کیا جا سکے گا، البتہ کچھ محدود زیادہ خطرے والی ادویات، جن میں سائٹو ٹاکسک ادویات، نشہ آور ادویات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادے شامل ہیں، اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔

مذکورہ اصلاحی اقدام سے ادویات کی تیاری اور ترقی کے عمل میں کم از کم 90 دن کی کمی متوقع ہے، جس سے دواسازی کی تحقیق اور اختراع کو نمایاں تقویت حاصل ہو گی۔ مزید یہ کہ جن زمروں میں ٹیسٹ لائسنس کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، وہاں قانونی کارروائی کی مدت کار 90 دن سے کم کر کے 45 دن کر دی گئی ہے۔ چونکہ سی ڈی ایس سی او ہر سال تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار ٹیسٹ لائسنس درخواستوں پر کارروائی کرتا ہے، لہذا اس اصلاح سے انضباطی بوجھ میں نمایاں کمی آئے گی اور بڑی تعداد میں متعلقہ فریقین کو فائدہ حاصل ہو گا۔

کلینیکل تحقیق کو مزید تیز کرنے کے لیے ایک اور اہم قدم کے طور پر، کم خطرے والی بایوایویلیبلٹی/بایوایکویولینس (بی اے/بی ای) مطالعات کے بعض زمروں کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنے کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے۔ اب ایسے مطالعات سی ڈی ایس سی او کو محض ایک سادہ آن لائن اطلاع دینے کی بنیاد پر شروع کیے جا سکیں گے، جس سے بالخصوص جنرک دواسازی صنعت کے لیے تحقیقات کے آغاز میں تیزی آئے گی۔ سی ڈی ایس سی او ہر سال تقریباً 4,000 سے 4,500 بی اے/بی ای مطالعات کی درخواستوں پر کارروائی کرتا ہے، اور توقع ہے کہ نظرثانی شدہ نظام سے طریقۂ کار میں ہونے والی تاخیر میں نمایاں کمی واقع گی۔

ان تبدیلیوں کے ہموار اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) اور سوگم پورٹل پر خصوصی آن لائن ماڈیولز دستیاب کرائے جائیں گے، تاکہ صنعت  سے متعلق اطلاع کو شفاف  طریقے سےاور بغیر کسی رکاوٹ کے جمع کرا یاجاسکے۔

مجموعی طور پر، مذکورہ انضباطی اصلاحات سے عوامی صحت اور سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے متعلقہ فریقین کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ریگولیٹری کارروائی کے اوقات میں نمایاں کمی کے ذریعے یہ ترامیم بی اے/بی ای مطالعات، جانچ اور تحقیقی مقاصد کے لیے ادویات کے معائنے کے عمل کو تیز کریں گی اور ادویات کی تیاری و منظوری کے پورے عمل میں تاخیر کو بھی کم سے کم کریں گی۔یہ اصلاحات سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کو اپنے موجودہ افرادی وسائل کے بہتر استعمال کے قابل بھی بنائیں گی، جس سے انضباطی نگرانی کی کارکردگی اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا۔

یہ اقدامات جن وشواس سدھانت اور کاروبار میں آسانی کے وسیع تر فریم ورک کے مطابق دواسازی کے شعبے میں اعتماد پر مبنی مسلسل انضباطی اصلاحات کے لیے حکومتِ ہند کے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس پہل کا مقصد بھارتی دواسازی صنعت کی تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) پر مبنی ترقی کو فروغ دینا، ملکی قوانین کو عالمی بہترین طریقۂ کار سے ہم آہنگ کرنا اور بھارت کو دواسازی کی تحقیق و ترقی کے لیے ایک ترجیحی عالمی مرکز کے طور پر مستحکم بنانا ہے۔

****

ش ح۔ ش ر۔ ج

Uno-1165


(रिलीज़ आईडी: 2219446) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Malayalam