وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا انرجی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب  میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعےوزیر اعظم جناب نریندر مودی کاخطاب


آج  ہندستان توانائی کے شعبے میں بے پناہ مواقع کی سرزمین ہے: وزیر اعظم

ہند-یورپی یونین ایف ٹی اے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کی ایک قابل ذکر مثال ہے: وزیر اعظم

ہندوستان اب توانائی  کے تحفظ سے آگے توانائی کی خود انحصاری کے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے:وزیر اعظم

ہماری توانائی کا شعبہ ہماری امنگوں  پر مرکوز ہے ، اس میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ، اسی لیے میک اِن انڈیا ، انوویٹ اِن انڈیا ، اسکیل ود انڈیا ، انویسٹ ان انڈیا کواہمیت  دی گئی ہے:وزیر اعظم

प्रविष्टि तिथि: 27 JAN 2026 11:31AM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انڈیا انرجی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب کے دوران اجتماع سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب نریندر مودی نے کہا کہ انرجی ویک کے اس نئے ایڈیشن میں تقریباً 125 ممالک کے نمائندے گوا میں جمع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس بات  کو اُجاگر کیا کہ وہ توانائی  کے لحاظ سے محفوظ اور پائیدار مستقبل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ہندوستان آئے ہیں اور انہوں نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کیا ۔

انہوں نے  کہا  کہ انڈیا انرجی ویک بہت ہی کم وقت میں بات چیت اور اقدام کے عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان توانائی کے شعبے میں  بے پناہ مواقع کی سرزمین ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے ، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں توانائی کی پیداوار کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان عالمی مانگ کو پورا کرنے کے بہترین مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ جناب  نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کے سب سے بڑے پانچ برآمد کنندگان میں شامل ہے ، جس کی برآمدات کا دائرہ 150 سے زیادہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی یہ صلاحیت سب کے لیے بہت فائدہ مند ہوگی ۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ  انرجی ویک کا پلیٹ فارم شراکت داری کی دریافت کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے اور انہوں نے تمام شرکاء کو نیک خواہشات پیش کیں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپنی بات  آگے بڑھانے سے پہلے ، وہ ایک بڑی پیش رفت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان ایک اہم معاہدے پر دستخط ہوئے ، جسے دنیا بھر کے لوگوں نے‘‘تمام سودوں کی ماں’’ قرار دیا ہے ۔ جناب  نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے 140 کروڑ لوگوں اور یورپی ممالک کے لاکھوں لوگوں کے لیے بے پناہ مواقع کا ضامن ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سےدو  ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کی ایک قابل ذکر مثال ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ معاہدہ عالمی جی ڈی پی کا تقریبا 25 فیصد اور عالمی تجارت کا تقریبا ایک تہائی حصے پر مشتمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے بالاتر یہ معاہدہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تئیں مشترکہ عزم کو مضبوط کرنےوالا ہے ۔

جناب نریندر مودی نے واضح  کیا کہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ سےبرطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل ہوگی ، جس سے تجارتی اور عالمی سپلائی چین دونوں کو تقویت ملے گی ۔  انہوں نے اس کامیابی پر ہندوستان کے نوجوانوں اور تمام شہریوں کو دلی مبارکباد پیش کی اور ٹیکسٹائل ، جواہرات اور زیورات ، چمڑے اور جوتوں جیسے شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ معاہدہ ان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا ۔  وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ نہ صرف ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گا بلکہ خدمات کے شعبے کو بھی مزید وسعت دے گا ۔  انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ آزاد تجارتی معاہدہ سے ہندوستان میں عالمی کاروبار اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوطی ملے گی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان ہر شعبے میں عالمی شراکت داری پر فعال طور پر کام کر رہا ہے ، جناب نریندر مودی نے کہا کہ صرف توانائی کے شعبے میں ہی انرجی ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔  جناب نریندر مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان نے اپنے ایکسپلوریشن سیکٹر کو نمایاں طور پر کھول دیا ہے ۔اس ضمن میں انہوں نے  گہرے سمندر میں ایکسپلوریشن کی پہل کا  تذکر ہ کیا جسے سمدر منتھن مشن کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اس دہائی کے آخر تک ، ہندوستان کا مقصد تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو 100 بلین ڈالر تک بڑھانا ہے ، جس کے ذریعے ایکسپلوریشن کا دائرہ کار ایک ملین مربع کلومیٹر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔  وزیر اعظم نے کہا کہ 170 سے زیادہ بلاکس پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں ، اور انڈمان و نکوبارکی  طاس ہائیڈرو کاربن کی نئی امید کے طور پر ابھر رہی ہے ۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دریافتوں  کے شعبے میں متعدد اصلاحات کی گئی ہیں ، جن میں نو گو ایریا کو کم کرنا بھی شامل ہے ، جناب نریندر مودی نے مزید کہا کہ انڈیا انرجی ویک کے پچھلے ایڈیشن کے دوران موصول ہونے والی تجاویز کو قوانین اور قواعد میں ترمیم کے لیے زیر غور لایا گیا ہے ۔  انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ ایکسپلوریشن کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہونا یقینی ہے ۔

وزیر اعظم  نریندر مودی نے ہندوستان کی ایک اور مخصوص طاقت کواُجاگر کیا جو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو انتہائی فائدہ مند بناتی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس ریفائننگ کی بہت بڑی صلاحیت ہے اور اس وقت وہ اس سلسلے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔  جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ جلد ہی ہندوستان ریفائننگ کی صلاحیت میں عالمی سطح پر پہلے نمبر کا ملک بن جائے گا ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ ریفائننگ صلاحیت تقریبا 260 ایم ایم ٹی سالانہ ہے ، اور اسے 300 ایم ایم ٹی سالانہ سے زائد تک  بڑھانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں ۔  وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سرمایہ کاروں کے لیے بڑا فائدے کا شعبہ ہے ۔

اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ہندوستان میں ایل این جی کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے اور ملک نے ایل این جی کے ذریعے اپنی توانائی کی کل مانگ کا 15 فیصد پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ، وزیر اعظم نے پوری ایل این جی ویلیو چین میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نقل و حمل کے شعبے  میں بڑے پیمانے پر کوششیں کر رہا ہے ۔  جناب نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان گھریلو سطح پر ایل این جی کی نقل و حمل کے لیے درکار جہازوں کی تعمیر کے لیے کام کر رہا ہے ، جسے حال ہی میں شروع کیے گئے ستر ہزار کروڑ روپے کے جہاز سازی پروگرام کی حمایت حاصل ہے ۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی بندرگاہوں پر ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ری گیسیفیکیشن پروجیکٹوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو ایل این جی کی نقل و حمل کے لیے وسیع پائپ لائن نیٹ ورک کی ضرورت ہے ، جس کے لیے  پہلے ہی اہم سرمایہ کاری کی جا چکی ہے ، لیکن بڑے پیمانے پر مواقع اب بھی باقی ہیں ۔  انہوں نےاس بات کی  نشاندہی کی کہ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پہلے ہی بہت سے ہندوستانی شہروں تک پہنچ چکا ہے اور تیزی سے دوسرے شہروں تک پھیل رہا ہے ، جس سے یہ شعبہ سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پرکشش بن گیا ہے ۔

جناب نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کی بڑی آبادی اور مسلسل بڑھتی ہوئی معیشت کے تناظر میں ، پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا ، جس سے توانائی کے وسیع بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی ۔  انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری سے خاطر خواہ ترقی ہوگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ڈاؤن اسٹریم سرگرمیوں میں بھی وافر مواقع موجود ہیں ۔

جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا ، ‘‘آج کا ہندوستان ریفارمز ایکسپریس پر پیہم گامزن ہے اور ہر شعبے میں تیزی سے اصلاحات کر رہا ہے ۔’’  انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی شراکت  کے لیے ایک شفاف اور سرمایہ کاروں کے موافق  ماحول پیدا کرکےگھریلو ہائیڈرو کاربن کو مضبوط کرنے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں ۔  وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اب توانائی کے تحفظ سے آگے بڑھ کر توانائی کی آزادی کے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان توانائی کے شعبے کا ایسا ماحولیاتی نظام تیار کر رہا ہے جو مقامی طلب کو پورا کرنے پر قادر ہو اور سستی ریفائننگ اور نقل و حمل کے حل کے ذریعے برآمدات کو دنیا کے لیے انتہائی مسابقتی بنا رہا ہے ۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا توانائی کا شعبہ ملک کی توقعات  پر مرکوز ہے ، جو 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔  انہوں نے عالمی برادری کو میک ان انڈیا ، انوویٹ ان انڈیا ، اسکیل ود انڈیا ، انویسٹ ان انڈیا کا پیغام  دینے کے ساتھ اپنے خطاب  کا اختتام کیا ۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری ، گوا کے وزیر اعلی جناب پرمود ساونت اور دیگر معززین اس تقریب میں موجود تھے ۔

****

 

ش ح-م ش ع-ش ا

UR No. 1120


(रिलीज़ आईडी: 2219035) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam