کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

سی ٹی آئی ایل اور گجرات نیشنل لاء یونیورسٹی نے گاندھی نگر میں قانون اور معاشیات پر 9 ویں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا


کانفرنس نے قانون ، معاشیات اور تجارتی پالیسی پر غور و خوض کے لیے پالیسی سازوں، علمی حلقوں اور صنعتی شعبے کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کیا

प्रविष्टि तिथि: 21 JAN 2026 6:04PM by PIB Delhi

سینٹر فار ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ لاء (سی ٹی آئی ایل) نے گجرات نیشنل لاء یونیورسٹی (جی این ایل یو) کے اشتراک سے اپنے سینٹر فار لاء اینڈ اکنامکس، سینٹر فار امپیریکل اینڈ اپلائیڈ ریسرچ ان لاء اینڈ انٹر ڈسپلنری اسٹڈیز، اور سینٹر فار ڈس ایبلٹی اسٹڈیز کے ذریعے جی این ایل یو، گاندھی نگر میں قانون اور معاشیات (امپیریکل اینڈ اپلائیڈ لاء اینڈ اکنامکس آف گورننس اینڈ انکلوژیو پبلک پالیسی) پر نویں بین الاقوامی کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ کانفرنس میں قانون اور معاشیات کے انٹرفیس سے متعلق اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، پریکٹیشنرز اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے نقطہ نظر سے تجارتی پالیسی کے چیلنجز شامل تھے۔ اس میں پینل مباحثے، تکنیکی اجلاس اور ماہرین کے درمیان مکمل تبادلہ خیال شامل تھا۔ تین روزہ کانفرنس نے تجارتی پالیسی، حکمرانی اور جامع عوامی پالیسی کی تشکیل سے متعلق عصری قانونی اور اقتصادی مسائل پر غور و فکر کے لیے قانونی ماہرین تعلیم، عدلیہ، قانونی عمل، صنعت اور پالیسی سازی کے سرکردہ نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

سی ٹی آئی ایل نے اس موقع پر دو اہم پینل مباحثوں کی قیادت کی، جن میں سے ایک "دانشورانہ املاک، جینیاتی وسائل، اور اس سے وابستہ روایتی علم (ٹی کے جی آر معاہدہ) پر عالمی دانشورانہ املاک تنظیم (ڈبلیو آئی پی او) معاہدہ اور دانشورانہ املاک کے حقوق کے تجارت سے متعلق پہلوؤں (ٹرپس) معاہدہ" پر مرکوز تھا جبکہ دوسرا "صحت کی خدمات میں تجارت کے لیے ہندوستان کا نقطہ نظر: ابھرتے ہوئے چیلنجز اور خلا" کے عنوان سے منعقد ہوا۔

افتتاحی اجلاس میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس اے۔ کے۔ سیکری نے شرکت کی جبکہ ہندوستان کے اٹارنی جنرل جناب آر وینکٹ رامانی بطور خصوصی مہمان موجود تھے۔ اپنے کلیدی خطاب میں، جسٹس اے۔ کے۔ سیکری نے اس بات پر زور دیا کہ ججوں کو نہ صرف قانون کا اطلاق کرنا چاہیے بلکہ قانونی تشریحات کے ممکنہ اقتصادی اثرات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل آف انڈیا جناب آر وینکٹ رامانی نے پالیسی سازوں کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے ادارہ جاتی انتظامات اور تجرباتی ماڈلز کی ضرورت پر روشنی ڈالی، تاکہ قانونی اور اقتصادی حکمت عملیوں کو مؤثر اور عملی طریقے سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

کانفرنس میں ہندوستان بھر کے نیشنل لاء اسکولوں کے قانون اور معاشیات میں مہارت رکھنے والے اسکالرز اور پریکٹیشنرز کے ساتھ ساتھ معروف یونیورسٹیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اسکالرز نے بھی حصہ لیا، جن میں جرمنی کی یونیورسٹی آف ہیمبرگ، جنوبی کوریا کی میونگجی یونیورسٹی، جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف پریٹوریا، جاپان کی ٹومیوگجی ہوکو یونیورسٹی، اور اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (یو این ای ایس سی اے پی) شامل تھے۔ صحت کی دیکھ بھال اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے صنعتی رہنماؤں نے بھی بحث و مباحثے میں بھرپور حصہ لیا۔

سینٹر فار ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ لاء کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جیمز جے نیڈمپرا نے "سروسز ٹریڈ اینڈ پروفیشنل موبلٹی" کے موضوع پر اپنے کلیدی خطاب میں ہندوستان-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے اور ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں حالیہ پیش رفت پر روشنی ڈالی، خاص طور پر قدرتی افراد کی عارضی نقل و حرکت سے متعلق وعدوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے سرحد پار خدمات کی فراہمی، ویزا سے متعلق ریگولیٹری رکاوٹوں، اور باہمی شناخت کے انتظامات (ایم آر اے) میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کے حوالے سے بھی اہم بصیرت فراہم کی۔

سی ٹی آئی ایل کے زیر اہتمام ایک پینل نے ڈبلیو آئی پی او ٹی کے جی آر معاہدے اور ڈبلیو ٹی او ٹرپس معاہدے کے درمیان قانونی اور عملی انٹرفیس کا جائزہ لیا۔ سیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر انّات پنڈت نے اپنے خصوصی خطاب میں ہندوستان کے پیٹنٹ نظام کی مضبوطی اور جدید سائنسی تحقیق کے ساتھ روایتی علم کے تحفظ و انضمام میں حیاتیاتی تنوع کے ضابطے کے اہم کردار پر زور دیا۔ پینل نے دھوکہ دہی کے انکشافات اور روایتی علم کی بنیاد پر پیٹنٹ کی غلط گرانٹ سے نمٹنے میں ڈبلیو آئی پی او ٹی کے جی آر معاہدے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ پینل میں شامل ماہرین میں ڈاکٹر راگھویندر جی۔ آر۔، محکمہ صنعت و داخلی تجارت(ڈی پی آئی آئی ٹی)، محترمہ لتا داورا، انڈین پیٹنٹ آفس، ممبئی، اور پریکٹیشنرز مسٹر آنند شیٹی اور مسٹر ایس۔ کے۔ سری ہری شامل تھے، جنہوں نے تعمیل سے متعلق عملی چیلنجوں کی تفصیل بیان کی۔ اسی طرح ایسوسی ایٹ سی ٹی آئی ایل جناب پرانو نارنگ نے ٹی کے جی آر معاہدے اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے درمیان قانونی تعامل کے حوالے سے قیمتی بصیرت فراہم کی۔

مزید برآں، سی ٹی آئی ایل نے صحت کی خدمات میں تجارت کے حوالے سے ہندوستان کے نقطہ نظر پر ایک پینل بھی منعقد کیا۔ اس پینل کی صدارت شالبی ہاسپٹلز لمیٹڈ کے جناب شانے شاہ نے کی اور انہوں نے ہندوستان میں طبی سیاحت کی ترقی، انشورنس پورٹیبلٹی، اور ویزا کی سہولت میں بہتری کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اس مباحثے میں ڈیجیٹل صحت، مصنوعی ذہانت کے اپنانے، اور عالمی سطح پر انٹرموڈل روابط سے چلنے والی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی، جبکہ عالمی رسائی کے ساتھ تجارتی توسیع کو متوازن کرنے کے لیے مربوط قومی حکمت عملیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ پینل میں جناب سریجیت نارائنن ایڈمانا، اپولو آیوروید، ڈاکٹر روپا چندا، یو این ای ایس سی اے پی کے نمائندے، اور سی ٹی آئی ایل کی اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ شینی پردیپ شامل تھیں، جنہوں نے روایتی ادویات کے حوالے سے ہندوستان کے سہولت بخش نقطہ نظر پر تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں، پروفیسر ڈاکٹر اسٹیفنس فلپس وین زائل، یونیورسٹی آف پریٹوریا، جنوبی افریقہ نے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مالیاتی طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔

 

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-893


(रिलीज़ आईडी: 2217090) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil