PIB Headquarters
انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026
سب کی فلاح، سب کی خوشحالی
प्रविष्टि तिथि:
21 JAN 2026 1:58PM by PIB Delhi
اہم نکات
- انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی اے آئی سمٹ ہوگا۔
- یہ 16 سے 20 فروری 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں پانچ روزہ پروگرام کے طور پر منعقد ہوگا، جو پالیسی، تحقیق، صنعت، اور عوامی شمولیت کے پہلوؤں کا احاطہ کرے گا۔
- سمٹ تین بنیادی ستونوں یا ’سوتر‘ پر مبنی ہوگا: عوام، کرۂ ارض اور ترقی۰
- انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو میں سات سے زائد موضوعاتی پویلینز میں 400 سے زیادہ نمائش کنندگان اور 1.5 لاکھ سے زائد مدوبین کی شرکت متوقع ہے۔
تعارف

مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہندوستان کے ترقیاتی سفر میں ایک اہم محرک ہے، جو حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مددفراہم کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے اے آئی بڑے پیمانے پر جامع ترقی کےلیے معاون ہے اور 2047 تک وکست بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان کی لسانی اور ثقافتی تنوع اسے متنوع عوامی ضروریات کے مطابق کثیر لسانی اور کثیر طرز (ملٹی ماڈل) اے آئی نظاموں کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان کے ترقی پر مبنی اے آئی نقطۂ نظر کوفروغ دیتے ہوئے ، انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا انعقاد 16 سے 20 فروری 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کیا جائے گا۔ یہ گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی اے آئی سمٹ ہوگا۔ اس سمٹ میں عالمی قائدین، پالیسی ساز، ٹیکنالوجی کی کمپنیاں، اختراع کار اور ماہرین شرکت کریں گے تاکہ حکمرانی، اختراع اور پائیدار ترقی کے مختلف شعبوں میں اے آئی کی انقلابی صلاحیتوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
اہم بین الاقوامی اے آئی فورمز کے نتائج کو آگے بڑھاتے ہوئے انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے ذریعے ہندوستان کا نقطۂ نظر عالمی مباحث کو ترقیاتی نتائج میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہوگا، جو انڈیا اے آئی مشن اور ڈیجیٹل انڈیا پہل کے تحت قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گے۔ یہ کثیرالطرفہ تعاون کو مضبوط کرے گا اور ہندوستان کی حکمرانی، معیشت اور معاشرے کے لیے عملی اور عوام پر مرکوز اے آئی فریم ورک کو فروغ دے گا۔
ہندوستان کے لیے اے آئی کی اہمیت
مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک انقلابی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جس میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ یہ سب عوام، کرۂ ارض اور ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے۔عوام کے لیے: اے آئی پر مبنی حل شہریوں کو بااختیار بنا رہے ہیں، جیسے ٹیلی میڈیسن اور تشخیصی سہولیات کے ذریعے صحت کی خدمات تک رسائی میں اضافہ، موافق (ایڈیپٹو) تعلیم کے ذریعے تعلیم کو ذاتی ضروریات کے مطابق بنانا اور دھوکہ دہی کی نشاندہی کے ذریعے مالیاتی نظام کو محفوظ بنانا۔کرۂ ارض کے لیے: اے آئی فصلوں کی پیش گوئی، درست زراعت (پریسیژن فارمنگ) اور ڈرون پر مبنی نگرانی کے ذریعے زراعت میں زیادہ ذہین اور پائیدار طریقوں کو ممکن بنا رہی ہے۔ترقی کے لیے: اے آئی عدالتی فیصلوں کے زبانوں میں ترجمے کے ذریعے حکمرانی کو مضبوط کر رہی ہے، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنا رہی ہے اور خوراک کی ترسیل، نقل و حرکت اور ذاتی نوعیت کی ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبوں میں استعمال کے ذریعے روزمرہ کارکردگی میں اضافہ کر رہی ہے۔ یہ رجحان ہندوستان کے دیہی اور شہری دونوں کے لیے جامع اور قابل رسائی ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔
- صحت کے شعبے میں اے آئی:اے آئی صحت کی خدمات تک رسائی اور نتائج کو بہتر بنا رہی ہے، خاص طور پر دیہی اور کم سہولت والے علاقوں میں یہ کافی مفید ہے۔ اے آئی ٹکنالوجی دور دراز تشخیص اور پورٹیبل آلات ان جگہوں پر بیماریوں کی نشاندہی میں مدد فراہم کرتی ہیں، جہاں ڈاکٹروں کی کمی ہو، وہاں خودکار خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کی تشخیص اور علاج کے عمل تیز کرتی ہیں۔ اے آئی پر مبنی ٹیلی میڈیسن، جس میں چیٹ بوٹس اور علامات جانچنے والے ٹولز شامل ہیں، دیہی مریضوں کو ڈاکٹروں سے جوڑتی ہے، جس سے سفر اور انتظار کا وقت کم ہوتا ہے۔ اے آئی پر مبنی طبی امیج اینالیسس دور دراز علاقوں میں ٹی بی، کینسر اور دیگر بیماریوں کی تیز تشخیص ممکن بناتی ہے۔ پیشن گوئی پر مبنی تجزیات بیماریوں کے پھیلاؤ کی پیش گوئی میں مدد دیتی ہیں، جبکہ اے آئی سے چلنے والی دوا کی دریافت اور ذاتی نوعیت کی تھراپیز دائمی بیماریوں کے علاج کے نتائج اور افادیت کو بہتر بناتی ہیں۔
- زراعت اور دیہی معیشت میں اے آئی:اے آئی زیادہ ذہین، ڈیٹا پر مبنی زرعی طریقے اپنانے میں مدد دے رہی ہے تاکہ پیداوار اور کسان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ اے آئی موسم، کیڑوں کی وبا اور آبپاشی کی ضروریات کی پیش گوئی کرتی ہے اور موبائل مشوروں کے ذریعے کسانوں کی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اے آئی سے چلنے والے ڈرون فصل کی صحت کی نگرانی کرتے ہیں اور ضائع ہونے والے وسائل کو کم کرتے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ امیجریی اور موسمی ڈیٹا فصل کی پیش گوئی میں مددگار ہیں۔ مارکیٹ قیمت کی پیش گوئی کے ماڈلز کسانوں کو طلب اور رسد کے رجحانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ موسم جی پی ٹی جیسے آلات اور کسان ای-میترا جیسے اقدامات مقامی زبانوں میں حقیقی وقت کی زرعی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
- تعلیم اور سیکھنے میں اے آئی:اے آئی تعلیم کو زیادہ ذاتی، جامع اور قابل رسائی بنا رہی ہے۔ اے آئی پر مبنی پلیٹ فارمز سیکھنے کے مواد کو ہر طالب علم کی ضروریات کے مطابق ڈھالتے ہیں، جس سے سیکھنے میں سست اور ماہر طلباء دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اے آئی پر مبنی زبان ترجمہ مواد کو علاقائی زبانوں میں تبدیل کر کے لسانی رکاوٹیں دور کرتا ہے۔ اے آئی پر مبنی ٹیوٹرنگ سسٹمز فوری فیڈبیک اورساتوں دن چوبیسوں گھنٹے( 24x7) سیکھنے کی حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دکشا(DIKSHA )جیسے پلیٹ فارمز اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف طلباء کے گروپس کے لیے متعلقہ اور قابل رسائی تعلیمی مواد فراہم کرتے ہیں۔
- مالیات اور تجارت میں اے آئی:اے آئی مالیاتی تحفظ، شمولیت اور خدمات کی کارکردگی کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اے آئی پر مبنی سسٹمز فراڈ کا پتہ لگاتے ہیں اور ڈیجیٹل لین دین کو حقیقی وقت میں محفوظ بناتے ہیں۔ اے آئی پر مبنی کریڈٹ اسکورننگ بینک سے غیر منسلک اور کم سہولت والے لوگوں کے لیے قرض تک رسائی بڑھاتی ہے۔ بینکنگ چیٹ بوٹس معمول کی خدمات جیسے بیلنس چیک اور فنڈ ٹرانسفر کے لیےہفتے کے ساتوں دن اور چوبیسوں گھنٹے(24x7) معاونت فراہم کرتے ہیں، جس سے انتظار کا وقت کم ہوتا ہے۔ اے آئی پر مبنی ذاتی نوعیت کی خدمات مالی مصنوعات اور مشورے کو ہر فرد کے لیے مخصوص بناتی ہیں۔
- حکمرانی اور عوامی خدمات میں اے آئی:اے آئی عوامی خدمات کی کارکردگی، قابل رسائی اور شفافیت کو فروغ دے رہی ہے۔ عدالتی فیصلوں کے مقامی زبانوں میں ترجمے کے لیے اے آئی مدد فراہم کرتی ہے، جس سے انصاف تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔ اے آئی سمارٹ سٹی مینجمنٹ میں ٹریفک، فضلہ اور عوامی سلامتی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اے آئی حکومت کی خدمات کی فراہمی کو آسان بناتی ہے اور اسکیموں اور درخواستوں کی پروسیسنگ کے اوقات کو کم کرتی ہے۔ عدلیہ میں، اے آئی مقدمات کے انتظام اور قانونی رسائی کو بہتر بناتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومتِ ہند نے ایک مضبوط اور جامع اے آئی ماحولیاتی نظام قائم کرنے کو اعلیٰ ترجیح دی ہے۔ انڈیا اے آئی مشن، اے آئی کمپیوٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، مقامی اے آئی ماڈلز کی فروغ، اور بڑے پیمانے پر صلاحیت سازی کے پروگرام ملک میں ذمہ دار اور قابل اعتماد اے آئی اپنانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 عالمی تعاون کو مضبوط بنانے، ذمہ دار اور معیاری اے آئی کو فروغ دینے اور معیشت کے ترجیحی شعبوں میں اے آئی اپنانے کی رفتار بڑھانے پر مرکوز ہوگا۔توقع ہے کہ یہ سمٹ بھارت کو اے آئی اختراع اور نفاذ کے لیے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے میں ایک محرک کردار ادا کرے گا، جو ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے ہندوستان کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا۔
بنیادی ستون:تین سوتر اور سات چکر جو اے آئی کے اثرات کے عالمی تعاون کو آگے بڑھاتے ہیں

انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا مقصد مصنوعی ذہانت کے لیے اثر مرکوز اور عوامی مرکز نقطۂ نظر کو فروغ دینا ہے، جس میں قابل پیمائش سماجی اور اقتصادی نتائج فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ سمٹ تین بنیادی ستونوں، جنہیں ’سوتر‘ کہا جاتا ہے—سنسکرت لفظ جو رہنما اصول یا ضروری دھاگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو حکمت اور عمل کو یکجا کرتےہیں—پر مبنی ہوگا۔ یہ سوتر اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اے آئی کو کثیرالطرفہ تعاون کے ذریعے اجتماعی فائدے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تین بنیادی ستروں کی بنیاد پر ، اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ہونے والے مباحثے 7 چکروں کے ارد گرد تشکیل دیے جائیں گے ۔ یہ چکر کثیرالجہتی تعاون کے کلیدی شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو جامع اور پائیدار سماجی نتائج کی طرف اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہیں ۔
- انسانی سرمایہ:یہ چکر ہدف شدہ مہارت سازی کے ذریعے ایک منصفانہ اے آئی از سر نو ہنر سکھانے والا ماحولیاتی نظام قائم کرنے پر مرکوز ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ اے آئی معیشت کے لیے افرادی قوت کی تیاری کو مضبوط کرتا ہے ، جو قومی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
- سماجی بااختیاری کے لیے شمولیت:یہ چکر مشترکہ اے آئی حل اور قابل توسیع ماڈلز کے ذریعے جامع شرکت کو ممکن بنانے پر مرکوز ہے۔ یہ شہریوں پر مرکوز اے آئی حل کی فراہمی کو مدد فراہم کرتا ہے اور بھارت میں آخری میل کی خدمات کو مضبوط کرتا ہے۔
- محفوظ اور قابل اعتماد اے آئی:یہ چکر ذمہ دار اے آئی کے عالمی اصولوں کو عملی، باہم ہم آہنگ حفاظتی اور حکمرانی کے فریم ورک میں منتقل کرنے پر مرکوز ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ ملکی اے آئی حکمرانی کو مضبوط کرتا ہے، عوامی پلیٹ فارمز پر اے آئی کے محفوظ نفاذ کو سپورٹ کرتا ہے اور جدت کے ساتھ عوامی اعتماد قائم کرتا ہے۔
- لچک، اختراع اور کارکردگی: یہ چکر بڑے پیمانے پر اے آئی نظاموں سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اور وسائل کے چیلنجوں سے نمٹنے پر مرکوز ہے ، جو عالمی اے آئی تقسیم کو گہرا کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں ۔ ہندوستان کے لیے ، یہ پائیدار اے آئی اپنانے کی حمایت کرتا ہے ، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اے آئی کی ترقی ماحولیاتی طور پر ذمہ دار اور سماجی طور پر مساوی رہے ۔
- سائنس:یہ چکر اے آئی کو دریافت کو تیز کرنے کے لیے استعمال کرنے پر مرکوز ہے، ساتھ ہی ڈیٹا، کمپیوٹ اور تحقیق کی صلاحیت تک رسائی میں موجود شدید عدم مساوات کو درست کرتا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرتا ہے، صحت، زراعت اور موسمیاتی حل میں رفتار پیدا کرتا ہے اور ہندوستان کو عالمی سائنسی ترقی میں فعال شریک کے طور پر پیش کرتا ہے۔
- اے آئی وسائل کو جمہوری بنانا:یہ چکر ایک عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کا تصور پیش کرتا ہے، جہاں اے آئی کی ترقی کے بنیادی وسائل تک رسائی سب کے لیے منصفانہ اور قابل برداشت ہو۔ ہندوستان کے لیے یہ اسٹارٹ اپس، محققین اور عوامی اداروں کے لیے رسائی کوبڑھاتا ہے اور عالمی اے آئی ویلیو چینز میں منصفانہ شرکت کو یقینی بناتا ہے۔
- معاشی ترقی اور سماجی بھلائی کے لیے اے آئی:یہ چکر اے آئی کی صلاحیت کو حقیقی معنوں میں جامع ترقی کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیتا ہے اور ایسے اعلی اثر والے استعمال کے کیسز کو تسلیم اور سپورٹ کرتا ہے جو معاشی ترقی اور سماجی بھلائی دونوں کے لیے اے آئی کے نمونہ بن جائیں۔

یہ تمام چکر ممالک، بین الاقوامی تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اے آئی حکمت عملیوں کو ہم آہنگ کر سکیں، مشترکہ سیکھنے کے عمل کوفروغ دیں اور ایسے اے آئی حل نافذ کریں جو اجتماعی فوائد کو زیادہ سے زیادہ کریں اور ساتھ ہی مشترکہ چیلنجز کو حل کریں۔
سمٹ میں اے آئی امپیکٹ ایونٹس

انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے مقاصد اے آئی امپیکٹ ایونٹس کے ذریعے عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ یہ ایونٹس ہندوستانی اے آئی اقدامات، شعبہ جاتی استعمال کے کیسز اور ادارہ جاتی فریم ورک پیش کرنے کے لیے منظم پلیٹ فارمز فراہم کرتے ہیں، جبکہ فیڈبیک، ہما وقت سیکھنے اور بین الاقوامی معیار کے جائزے کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
پری سمٹ تقریبات
پری سمٹ تقریبات انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کی تیاری کے عمل کے حصے کے طور پر منعقد کی گئی ہیں تاکہ ابتدائی مشاورت اور موضوعاتی مباحثوں کو فروغ دیا جا سکے۔ ہندوستان اور بیرون ملک منعقد کیے گئےیہ اجلاس، حکومتوں، علمی اور تحقیقی اداروں، صنعت، اسٹارٹ اپس، اور سول سوسائٹی کو ایک ساتھ لاتے ہیں۔
علاقائی اے آئی کانفرنسز
علاقائی اے آئی کانفرنسز انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے پیش منظر میں منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ قومی اے آئی ترجیحات کو علاقائی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اکتوبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان میگھالیہ، گجرات، اوڈیشہ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، کیرالہ اور تلنگانہ میں آٹھ کانفرنسز ریاستی حکومتوں کے شراکت داروں کے ساتھ منعقد کی جائیں گی، جو علاقائی استعمال کے کیسز، پالیسی تجاویز اور صلاحیت کے خلا کی نشاندہی کریں گی۔ یہ مباحثے انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے ایجنڈے اور نتائج کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
مین سمٹ
مین سمٹ کا انعقاد سمٹ کے سات چکروں میں کیا جائے گا۔ ان سیشنز میں صنعت، علمی ادارے اور بین الاقوامی شراکت دار ایک ساتھ آئیں گے تاکہ استعمال کے کیسز کا جائزہ لیا جا سکے، پالیسی کے تجربات کا اشتراک کیا جا سکے اور اے آئی کے ترقیاتی نفاذ کے لیے عملی طریقے تلاش کیے جا سکیں۔ سمٹ کے لیے مضبوط عالمی ردعمل 700 سے زائد تجاویز وصول ہونے سے ظاہر ہوتا ہے۔
اے آئی کمپینڈیئم
اے آئی کمپینڈیم انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا ایک اہم علمی نتیجہ ہے اور اسے 17 فروری 2026 کو سمٹ کے دوران جاری کیا جائے گا۔ اس میں متعدد موضوعاتی کیس بکس شامل ہیں جو ترجیحی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے حقیقی دنیا میں استعمال کو دستاویزی شکل دیتی ہیں۔ یہ پریکٹیشنرز اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک حوالہ جاتی وسیلہ کے طور پر کام کرے گا اور سمٹ کے بعد بھی ذمہ دار اور ترقی پر مبنی اے آئی حل کے مسلسل تعاون اور اپنانے میں مدد فراہم کرے گا۔
اہم تقریبات
اے آئی سب کے لیے: عالمی اثر اور چیلنج:یہ چیلنج بڑے پیمانے پر اثر ڈالنے والے اے آئی حل کی شناخت کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اسے اسٹارٹ اپ انڈیا کے ساتھ ڈپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ، وزارت تجارت و صنعت اور ڈیجیٹل انڈیا بھاشینی ڈویژن کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس چیلنج میں طلباء، پیشہ ور افراد، محققین، اور اسٹارٹ اپس کی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد شہری بنیادی ڈھانچے اور نقل و حرکت جیسے شعبوں میں وسیع پیمانے پر قابل نفاذ اے آئی حل پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ منتخب شدہ حل سمٹ میں پیش کیے جائیں گے اور انعامات 2.50 کروڑ روپے تک ہوں گے۔
اے آئی کے ذریعہ ایچ ای آر :یہ چیلنج خواتین کی قیادت میں اے آئی میں اختراع کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ نیتی آیوگ کی ویمن انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم کے ساتھ شراکت میں نافذ کیا جانے والا یہ چیلنج خواتین ٹیکنالوجسٹ کو دعوت دیتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے اور حقیقی دنیا کے عوامی چیلنجز کے لیے اے آئی حل پیش کرے۔ منتخب شدہ حل سمٹ میں پیش کیے جائیں گے اور انعامات 2.50 کروڑ روپے تک ہوں گے۔
وائی یو وی اے آئی: گلوبل یوتھ چیلنج-یہ چیلنج نوجوان اختراع کاروں کو حقیقی دنیا کے چیلنجز کے لیے اے آئی حل تیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ 13–21 برس کے نوجوان افراد اور ٹیموں کی شرکت کے لیے یہ چیلنج منعقد کیا گیا ہے۔ اسے مائی بھارت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے سب سے اختراعی اے آئی حل حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے سامنے آئیں۔ منتخب شرکاء کو انعامات ملیں گے،جس کی کل مالیت 85 لاکھ روپے تک ہوگی۔
ریسرچ سمپوزیم برائے اے آئی اور اس کے اثراتیہ سمپوزیم 18 فروری 2026 کو بھارت منڈپم، نئی دہلی میں انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے حصے کے طور پر منعقد کیا جائے گا، جس میں علمی شراکت دار کے طور پرآئی آئی آئی ٹی حیدر آبادحصہ لے گا۔ سمپوزیم میں محققین، گلوبل ساؤتھ اور بین الاقوامی کمیونٹی شرکت کریں گے تاکہ جدید تحقیق پیش کو پیش کرنے کے ساتھ ہی شواہد کا تبادلہ کیا جا سکے اور اے آئی کے اثرات پر تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس میں پلینیری سیشنز، بین الاقوامی تحقیقی پیشکشیں اور گلوبل ساؤتھ کی تحقیق اور پوسٹر نمائش شامل ہوں گی۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026یہ ایکسپو ایم ای آئی ٹی وائی(MeitY )کے زیر اہتمام اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا کے نگرانی میں منعقد کی جا رہی ہے۔ ایکسپو کا رقبہ 70,000 مربع میٹر سے زائد ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ اس میں 150,000 حاضرین اور 400 سےزیادہ نمائش کنندگان سات موضوعاتی پویلینز میں شریک ہوں گے۔ یہ کاروباری مرکز پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور پائلٹ منصوبوں سے بڑے پیمانے پر نفاذ کی طرف منتقلی کو ظاہر کرے گا اور اختراع کاروں اور سرمایہ کاروں کو ایک ساتھ لائے گا تاکہ وہ شعبہ جاتی اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے اے آئی حل پر تبادلہ خیال کر سکیں۔
انڈیا اے آئی ٹِنکرپرینیوریہ قومی سطح کا گرمیوں کا بوٹ کیمپ انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اس کا مقصد کلاس 6 سے 12 کے اسکول طلباء میں اے آئی اور کاروباری صلاحیتیں فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے نوجوان سیکھنے والوں کو اے آئی ٹولز اور ٹیکنالوجیز کا عملی تجربہ فراہم کیا جاتا ہے اور انہیں ایسے اے آئی پر مبنی مصنوعات اور حل تیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جو سماجی اثر والے چیلنجز حل کریں۔ منظم آن لائن سیشنز، صنعت اور علمی ماہرین کی رہنمائی اور آئیڈیا سے عمل درآمد تک رہنمائی کے ذریعے یہ اقدام ابتدائی مرحلے پر اختراع، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور کاروباری سوچ کو فروغ دیتا ہے۔
انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ میں تقریبات اور قابل ذکر حاضرین کا ایجنڈا
انڈیا انوویشن فیسٹیول سے شروع ہونے والا یہ پروگرام پالیسی پینل، نالج لانچ، تحقیق اور صنعت کے سیشنز کے ذریعے رفتار اختیار کرتا ہے اورلیڈر-لیول میٹنگز اور گلوبل پارٹنرشپ آن اے آئی(جی پی اے آئی) کونسل کی نشستوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔
|
تاریخ
|
تقریبات
|
مقام
|
|
16 تا 20؍فروری 2026
|
اے آئی امپیکٹ ایکسپو
|
بھارت منڈپم، نئی دہلی
|
|
16 فروری 2026
|
کلیدی نکات، پینل مباحثے، گول میز
|
بھارت منڈپم/ سشما سوراج بھون/ امبیڈکر بھون، نئی دہلی
|
|
17 فروری 2026
|
صحت، توانائی، تعلیم، زراعت، صنفی بااختیار بنانے، رسائی میں اے آئی پر علمی مجموعوں کا اجراء
|
بھارت منڈپم، نئی دہلی
|
|
اپلائیڈ اے آئی پر سیمینار
|
|
ایچ ای آر کے ذریعہ اے آئی: گلوبل امپیکٹ چیلنج
|
سشما سوراج بھون، نئی دہلی
|
|
کلیدی نکات، پینل مباحثے، گول میز
|
بھارت منڈپم/ سشما سوراج بھون/ امبیڈکر بھون، نئی دہلی
|
|
18 فروری 2026
|
تحقیقی سمپوزیم
|
بھارت منڈپم، نئی دہلی
|
|
انڈسٹری سیشن
|
|
ایچ ای آر کے ذریعہ اے آئی :گلوبل امپیکٹ چیلنج
|
سشما سوراج بھون، نئی دہلی
|
|
کلیدی نکات، پینل ڈسکشنز، گول میز
|
بھارت منڈپم/ سشما سوراج بھون/ امبیڈکر بھون، نئی دہلی
|
|
سمٹ ڈنر
|
کنونشن سینٹر، نئی دہلی
|
|
19 فروری 2026
|
افتتاحی تقریب
|
بھارت منڈپم، نئی دہلی
|
|
قائدین کا مکمل اجلاس
|
|
سی ای او گول میز
|
|
کلیدی باتیں/ پینل ڈسکشن/ گول میز
|
|
|
20 فروری 2026
|
جی پی اے آئی کونسل کا اجلاس
|
بھارت منڈپم / سشما سوراج بھون / امبیڈکر بھون، نئی دہلی
|
|
کلیدی باتیں/ پینل ڈسکشن/ گول میز
|
بھارت منڈپم، نئی دہلی
|
* (16 جنوری 2026 تک کا ایجنڈا)-ایجنڈا عارضی ہے اور اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے ۔

سمٹ میں شامل اہم ادارہ جاتی فریم ورک
انڈیا–اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کوپالیسی سازی، پروگرام کے نفاذ، ماحولیاتی نظام کی ترقی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ذمہ دار مرکزی سرکاری اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کی شمولیت انتظامی قیادت، تکنیکی معاونت اور ادارہ جاتی تسلسل فراہم کرتی ہے، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ سمٹ موجودہ قومی اقدامات کی بنیاد پر ہو اور مباحثے کوعملی نتائج میں تبدیل کرنے کے قابل ہو۔
وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی)
ایم ای آئی ٹی وائی ہندوستان میں اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے لیے مجموعی پالیسی کی سمت فراہم کرتا ہے ۔ وزارت مصنوعی ذہانت ، الیکٹرانکس ، ڈیجیٹل حکمرانی اور قابل اعتماد ٹیکنالوجی کو اپنانے سے متعلق قومی ترجیحات کے تحت سمٹ کی میزبانی کرتی ہے ۔ اس کا کردار بین وزارتی ہم آہنگی ، ریاستی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی اور جاری قومی پروگراموں اور ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ سمٹ کے نتائج کے انضمام کو یقینی بناتا ہے ۔
انڈیا اے آئی مشن
انڈیا اے آئی مشن ہندوستان میں اے آئی کی ترقی کو سپورٹ کرنے والا ایک اہم مشن ہے۔ یہ مشن سمٹ کے بنیادی موضوعات کی تشکیل کرتا ہے، جن میں اے آئی کمپیوٹ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سیٹس، مقامی اے آئی ماڈلز، مہارت سازی اور اسٹارٹ اپ سپورٹ شامل ہیں۔ یہ مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دار اور جامع استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کو اجاگر کرتا ہے۔
سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا(ایس ٹی پی آئی)
ایس ٹی پی آئیسمٹ میں اسٹارٹ اپس، چھوٹے و درمیانے کاروبار(ایم ایس ایم ای ایز) اور اختراع کاروں کی شرکت اور جدت کی حمایت کرتا ہے۔ یہ انکیوبیشن سہولیات، تکنیکی انفراسٹرکچر اور صنعت کے روابط فراہم کرتا ہے۔ ملک بھر میں اس کے مراکز کا نیٹ ورک وسیع علاقائی شرکت کو ممکن بناتا ہے اور اے آئی پر مبنی اداروں کی ترقی کی حمایت کرتا ہے۔ اس کا کردار اے آئی اختراع کاروں کو صنعت، عالمی مارکیٹ اور برآمدی مواقع سے جوڑنا ہے، جس سے ہندوستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا اقدام
ڈیجیٹل انڈیا ہندوستان میں بڑے پیمانے پر اے آئی اپنانے کے لیے بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس پر زور ڈیجیٹل عوامی پلیٹ فارمز، شمولیت اور شہریوں پر مرکوزحکمرانی پر ہے، جو سمٹ کے موضوعات میں عکاس ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سمٹ میں پیش کیے گئے اے آئی حل خدمات کی فراہمی، قابل رسائی، شفافیت اور قومی سطح پر عوامی اعتماد کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔

سمٹ کے متوقع نتائج
توقع ہے کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026شہریوں پر مرکوز اور نتائج پر مبنی اقدامات فراہم کرے گا جو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ سمٹ عملی اے آئی نفاذ، پالیسی کی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی تعاون پر زور دے گا تاکہ حکومت اور صنعت میں مؤثر نفاذ کو سپورٹ کیا جا سکے۔ یہ حکمرانی اور ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط کرے گا، اے آئی پر مبنی صنعتی ترقی کے لیے علاقائی تیاری کا جائزہ لے گا اور مہارت کی ترقی اور افرادی قوت کی تبدیلی کو فروغ دے گا۔ سمٹ اے آئی کے اطلاقات کے بارے میں آگاہی اور سمجھ بوج کو بھی بڑھائے گا اور حکومت، علمی اداروں، اسٹارٹ اپس، اور صنعت کے درمیان پائیدار شراکت داری کو فروغ دے گا تاکہ اے آئی ماحولیاتی نظام کی ذمہ دار اور جامع ترقی ممکن ہو سکے۔
نتیجہ
انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 مصنوعی ذہانت کو ہندوستان کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے ایک اسٹریٹجک اہل کار کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ سمٹ حکمرانی ، عوامی خدمات کی فراہمی ، تحقیق اور صنعت میں اے آئی کو نافذ کرنے کے لیے عملی راستوں کی نشاندہی کرنے کے لیے قومی اور علاقائی مصروفیات سے سیکھنے کے عمل کو مستحکم کرتی ہے ۔ یہ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے ، پلیٹ فارم پر مبنی خدمات کی فراہمی اور تمام شعبوں میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی میں اے آئی کے کردار کو مضبوط بنا کر ڈیجیٹل انڈیا کے مقاصد کی حمایت کرتا ہے ۔ سمٹ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی خدمات کی فراہمی میں اے آئی کے کردار کو مضبوط بنا کر ڈیجیٹل انڈیا پہل کومستحکم کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ، یہ کمپیوٹ انفراسٹرکچر ، ڈیٹا سیٹس ، ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اور ملک کےاختراع میں گھریلو صلاحیتوں پر زور دے کر قومی خود انحصاری کو فروغ دیتا ہے۔
حوالہ جات
پی ڈی ایف فائل کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
UR-852
(ش ح۔ م ع ن۔ ا ش ق )
(रिलीज़ आईडी: 2216827)
आगंतुक पटल : 16