وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ہندوستان اور اسرائیل نے ماہی گیری اور آبی زراعت میں تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ وزارتی اعلامیے پر دستخط کیے
प्रविष्टि तिथि:
15 JAN 2026 8:24PM by PIB Delhi
ماہی پروری،مویشی پروری اورڈیری نیزپنچایتی راج کے عزت مآب مرکزی ویزر جناب راجیو رنجن سنگھ کی قیادت میں بھارتی اعلیٰ سطحی وفد نے 13 تا 15 جنوری 2026 کو اسرائیل کا کامیاب دورہ مکمل کیا، تاکہ اسرائیل کے ایلات میں منعقد ہونے والے دوسرے عالمی سمٹ “بلو فوڈ سکیورٹی:سی دی فیوچر 2026” میں حصہ لیاجا سکے۔ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان ماہی گیری اور ایکوا کلچر کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت کا حصہ تھا۔

بھارت اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ اور اہمیت کی حامل شراکت داری کو تسلیم کرتے ہوئے، پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ وژن کا اعتراف کرتے ہوئے اور دونوں ممالک میں خوراک کے تحفظ، روزگار اور اقتصادی ترقی میں ماہی گیری اور ایکوا کلچر کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، اسرائیل کی ماہی گیری اور ایکوا کلچر میں جدید ٹیکنالوجیز اور اختراعات، پانی کے انتظام کے شعبے میں مہارت اور بھارت کے وسیع آبی وسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، دونوں جانب سے 14 جنوری 2026 کو ماہی گیری اور ایکوا کلچر کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ وزارتی اعلامیہ برائے ارادہ پر دستخط کیے گئے۔
یہ مشترکہ اعلامیہ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک طے کرتا ہے۔ تعاون کے کلیدی شعبوں میں ری سرکولیٹنگ ایکواکلچر سسٹم (آر اے ایس) بائیو فلوک، کیج کلچر، ایکواپونکس ، اور ایکویریم سسٹم بشمول اوشیانیریم ، اعلی پیداوار والی انواع کی افزائش میں مہارت اور پیتھوجین سے پاک بیج کی بہتری کی حکمت عملی اور بروڈ اسٹاک کی ترقی جدید آبی زراعت کی ٹیکنالوجیز میں مشترکہ تحقیق اور ترقی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اس تعاون میں جینیاتی بہتری کے پروگرام، سمندری گھاس کی کاشت سمیت سمندری زراعت اور اسرائیلی پانی کی بچت کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے آبی زراعت میں پانی کا انتظام بھی شامل ہے۔مذکورہ اعلامیے میں ماہی گیری اور آبی زراعت میں اسٹارٹ اپس کے تبادلے اور تعاون پر زور دیا گیا ہے اور اس کا مقصد بلیو اکانومی (مدوورمعیشت) کو آگے بڑھانے میں تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔

مزیدیہ کہ اس اعلامیے میں پائیدار اور ذمہ دارانہ ماہی گیری کے طریقوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے تاکہ سمندری وسائل کا تحفظ کیا جا سکے، ماحولیاتی اثرات کوکم کیاجاسکےاور ماہی گیری کے شعبے کی طویل مدتی پائیداری یقینی بنایا جا سکے۔
اس میں ٹیکنالوجی پر مبنی ماہی گیری کی نگرانی اور ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کے ذریعے شواہد پر مبنی انتظام، شفافیت اور ٹریس ایبیلیٹی کو ممکن بنانا اور ماہی گیروں کی کمیونٹیز کی سماجی و اقتصادی ضروریات کو پورا کرنا شامل ہیں۔صلاحیت سازی پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے جس میں گہری سمندری ماہی گیری، بحری جہازوں کے ڈیزائن اور ترقی، ساحلی ایکوا کلچر اور ٹیکنالوجی و اختراع کے ذریعے سمندری وسائل کے تحفظ کے اقدامات شامل ہوں گے۔اس اعلامیے کے تحت دونوں ممالک ماہی گیروں، ایکوا فارمرز، سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کے لیے پروگرامزکے تبادلےدریافت کریں گے، نیز جدید ماہی پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ بشمول ماہی گیری سے متعلق بندرگاہوں اور فش لینڈنگ سینٹرز میں تربیت فراہم کی جائے گی۔
اس اعلامیے کا مقصد دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا بھی ہے تاکہ برآمدات اور درآمدات میں سہولت فراہم کی جا سکے، ٹیریف اور نان-ٹریف یعنی محصول اورغیرمحصول رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور ماہی گیری اور ایکوا کلچر میں ٹیکنالوجی پر مبنی ٹریس ایبیلیٹی سسٹمز کی حمایت کی جا سکے۔
تعاون کا ایک اہم جزو بھارت-اسرائیل نئے سینٹرز آف ایکسیلنس برائے ماہی گیری اور ایکوا کلچر کے قیام کی تلاش بھی ہے، جو بھارت-اسرائیل تعاون کے تحت پہلے سے فعال 43 زرعی سینٹرز آف ایکسیلنس کے کامیاب نیٹ ورک کی طرز پر ہوں گے۔
یہ تاریخی معاہدہ دونوں ممالک میں ماہی گیری اور ایکوا کلچر کے شعبوں میں اختراع، پائیداری اور اقتصادی ترقی کے نئے باب کھولے گا اور خوراک کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمتی ترقی کے لیے ان کے مشترکہ عزم کو مزید مستحکم کرے گا۔
********
ش ح ۔ ش م ۔ م ا
Urdu No-667
(रिलीज़ आईडी: 2215228)
आगंतुक पटल : 5