وزارت آیوش
ماہرین نے ہندوستان کی جڑی بوٹیوں کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے واسطے مصنوعی ذہانت سے لیس فارم گیٹ کے معیار اور ٹریس ایبلٹی کی ضرورت پر زور دیا
آئی آئی ٹی دہلی میں جڑی بوٹیوں کے فارم گیٹ کے معیار کے جائزے پر قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا
آیوش خام مال کی عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل روڈ میپ تیار کیا
प्रविष्टि तिथि:
12 JAN 2026 12:54PM by PIB Delhi
نیشنل میڈیسنل پلانٹ بورڈ (این ایم پی بی) سمیت وزارت آیوش کے اداروں کے ماہرین نے ’’فارم گیٹ پرجڑی بوٹیوں کے معیار کی تشخیص کے لیے آلات کے ڈیزائن اور ترقی‘‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار میں فارم (فارم-گیٹ) سے لے کر پوری سپلائی چین تک جڑی بوٹیوں کے معیار اور فراہمی کی نگرانی ، تصدیق اور دستاویزی شکل دینے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور متعلقہ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے پر زور دیا ہے ۔ 8سے9 جنوری2026 کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) دہلی میں منعقدہ سیمینار میں ہندوستان کے ادویاتی جڑی بوٹیوں کی پیداوار کے سیکٹر کو قومی توجہ میں لانے ، معیار ، دریافت اور پیدوار کے مقام پر خام مال کی درجہ بندی کی یقینی دہانی پر زور دیا گیا ہے ۔
سیمینار میں پالیسی سازوں ، سائنسدانوں ، تکنیکی ماہرین ، صنعتی رہنماؤں اور محققین نے ہندوستان کے آیوش اور ادویاتی جڑی بوٹیوں کے ماحولیاتی نظام کی پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کی بنیاد کے طور پر فارم گیٹ کے معیار کے نظام کو مضبوط بنانے پر غور و فکر کیا ۔
سیمینار کا افتتاح این ایم پی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر مہیش کمار دادھیچ اور ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ان آیوروید (آئی ٹی آر اے) پروفیسر ڈاکٹر تنوجا نیساری کے کلیدی خطاب کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے اپنے خطاب سے معیار پر مبنی ترقی کے لیے قومی پالیسی اور سائنسی تناظر طے کیا ، جس میں ہندوستانی ادویاتی جڑی بوٹیوں کے خام مال کی پیدوار میں عالمی اعتماد پیدا کرنے کے واسطے اختراع ، ضوابط اور روایتی علم کو مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
پہلے دن کے تکنیکی اجلاسوں میں پائیدار کاشت کاری اور دوبارہ پیداوار کی زراعت سے لے کر اے آئی سے لیس کوالٹی اسسمنٹ ، ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی ، اور سپلائی چین کے انضمام تک ادویاتی جڑی بوٹیوں کی پوری ویلیو چین کا جائزہ لیا گیا ۔ آئی سی اے آر-ڈائریکٹوریٹ آف میڈیسنل اینڈ ایرومیٹک پلانٹس ریسرچ (ڈی ایم اے پی آر) آئی آئی ٹی دہلی ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) وزارت آیوش ، سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان آیورویدک سائنس(سی سی آر اے ایس) ہمالیہ ویلنیس اور ہربل اسکیپ کراپس کے ماہرین نے شواہد پر مبنی معلومات اور عملی تجربے شیئر کیے ۔
بات چیت میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ہندوستان تکنیکی اور ادارہ جاتی طور پر اے آئی پر مبنی تشخیص ، ڈیجیٹل فینوٹائپنگ اور مربوط معیار کے فریم ورک کو اپنانے کے لیے تیار ہے ، جس سے ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی ادویاتی جڑی بوٹیو ں کے خام مال کےاعتبار کو تقویت ملے گی ۔
دوسرے دن کے اجلاس میں ہندوستانی ادویاتی جڑی بوٹیوں کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے انضمام اور سپلائی چین کی شفافیت اور ٹریس ایبلٹی کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال پر خاکہ بند ذہن سازی کے دواجلاسوں کے ذریعے روڈ میپ بنانےپر خصوصی غور خوض کیا گیا ۔
اجلاسوں کے نتیجے میں یہ مستحکم اتفاق رائے پیدا ہوا کہ فارم گیٹ پر ڈیجیٹل ٹول-جیسے پورٹیبل کوالٹی ٹیسٹنگ ڈیوائس ، اے آئی سے لیس فیصلہ سازی کا سپورٹ سسٹم اور بلاک چین پر مبنی ٹریس ایبلٹی پلیٹ فارم-اب اختیاری نہیں، بلکہ ہندوستانی جڑی بوٹیوں کے خام مال کی توثیق ، حفاظت اور عالمی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے لازمی ہیں ۔
سیمینار سے این ایم پی بی اور وزارت آیوش کے مقاصد کے مطابق واضح اور قابل عمل نتائج برآمد ہوئے ۔ اس کے ذریعہ پالیسی اداروں ، سائنسی اداروں ، صنعتی شراکت داروں اور عالمی صحت کی تنظیموں کے درمیان قومی سطح کی ہم آہنگی ممکن ہوئی ، جس سے کمزور مداخلتوں کی بجائے مربوط حل کو فروغ دیاگیا ۔
شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ بنیادی سطح کے پروڈیوسروں اور جمع کرنے والوں کو بااختیار بنانے کے لیے این ایم پی بی کے مینڈیٹ کی براہ راست حمایت کرتے ہوئے معیار کو پیدواری مقام پر طے ہوجانا چاہیے ۔ بات چیت سے ملاوٹ ، متغیرات اور کسانوں کے خسارے کو کم کرنے کے لیے اے آئی اور ڈیجیٹل ٹول کی عملی تعیناتی کی توثیق کی گئی ، جبکہ برآمدات اور فارماکوپیئل عمل درآمد کے لیے بلاک چین پر مبنی اینڈ ٹو اینڈ ٹریس ایبلٹی کے اہم کردار کو بھی واضح کیا گیا ۔
سیمینار میں کوالٹی کنٹرول کے جدید فریم ورک کے ساتھ وریکش آیوروید جیسے روایتی علم کے نظاموں کے انضمام پر بھی روشنی ڈالی گئی ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مقبولیت کو مستحکم کرنے کے لیے ہندوستانی مورثی نظام کی سائنسی طور پر توثیق اور ڈیجیٹل کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ سیمینار میں صلاحیت سازی پر بہت زور دیا گیا ، جس کے تحت شرکاء کو جدید ٹول، معیارات اور پالیسی کی ہدایات سے رو سناشی حاصل ہوئی ۔
سیمینار سے مصنوعی ذہانت سے لیس ،قابل دریافت اور معیاری ادویاتی جڑی بوٹیوں کی سپلائی چین کے لیے قومی فریم ورک تیار کرنے کی مضبوط بنیاد رکھی گئی ۔ سیمینار کے نتائج سے عالمی آیوش شعبے میں ہندوستان کی قیادت کو تقویت دے کرآتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کی قومی ترجیحات کی براہ راست حمایت ہوتی ہے ۔
بات چیت میں این ایم پی بی کے زیر اہتمام اقدامات کے تحت پائلٹ پروجیکٹوں ، ٹیکنالوجی کی تعیناتی اور کسانوں کی سطح پر صلاحیت سازی کے لیے مسلسل اور وسیع تال میل کی ضرورت پر زور دیا گیا ، جس سے فارم گیٹ کے معیار کو ہندوستان کی ادویاتی جڑی بوٹیوں کی معیشت کے سنگ بنیاد کے طور پر درج کیا گیا ۔
****
ش ح۔م ش ع۔ش ت
U NO: 446
(रिलीज़ आईडी: 2213766)
आगंतुक पटल : 11