نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے 9 ویں تقسیم اسناد تقریب سے خطاب کیا ،انہوں نےنوجوانوں سے دانشورانہ سالمیت اور ملک کی تعمیروترقی میں اپنا رول ادا کرنےکی اپیل کی


نائب صدر جمہوریہ نے زور دے کر کہا کہ جدید سائنس اور روایتی اقدار کو ایک ساتھ آگے بڑھانا چاہئے

وویکانند کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیم کا مقصد کردار سازی ہونا چاہیے

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بحث و مباحثہ اور اختلاف رائے ناگزیر ہیں ، لیکن ان کا انجام فیصلوں اور باہمی تعاون پر ہونا چاہئے

प्रविष्टि तिथि: 12 JAN 2026 2:07PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے 9 ویں کنووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلباء کو مبارکباد دی اور ان پر زور دیا کہ وہ اپنے علم اور مہارت کو قوم کی خدمت کے لیے وقف کریں ۔

سوامی وویکانند کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کی تعلیمات کو یاد کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیم کو محض ڈگریوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کا مقصد کردار سازی، ذہنی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور افراد کو خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف تعلیم اور مناسب تربیت ہی ہندوستان کے نوجوانوں کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وکست بھارت 2047 @ کےوژن کو عملی جامہ پہنانے کے قابل بنائے گی ۔

ہندوستان کی علم کی تہذیبی روایت کو اجاگر کرتے ہوئے ، نائب صدر جمہوریہ نے نالندہ اور تکشلا جیسے قدیم تعلیمی مراکز کا حوالہ دیا اور کہا کہ اپنشدوں اور بھگود گیتا سے لے کر کوٹلیہ کے ارتھ شاستر اور تھروولور کے تھیروکرال تک ہندوستانی صحیفوں اور کلاسیکی تصانیف نے ہمیشہ تعلیم کو سماجی اور اخلاقی زندگی کامرکز قرار دیاہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی تعلیم انسان کےطرز عمل اور کردار کی تشکیل کرتی ہے ، اور یہ صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود نہیں ہوتی ہے ۔

نائب صدر جمہوریہ نے زور دے کر کہا کہ جدید سائنس اور روایتی اقدار کو ایک ساتھ فروغ پانا چاہئے ۔ جے این یو کی جمہوری روایت کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ بحث و مباحثہ، اختلاف رائے اور یہاں تک کہ آمنے سامنے کی بات چیت بھی صحت مند جمہوریت کے لازمی عناصر ہیں ۔ تاہم ، انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے عمل کو بالآخر کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب کوئی فیصلہ ہو جائے تو اس کے مؤثر اور ہموار نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی تعاون کی آمادگی ضروری ہے۔

نائب صدر نے جے این یو کے جامع اور ہمہ گیر ماحول کی ستائش کی اور طلبہ کے داخلوں اور فیکلٹی کی تقرریوں میں مساوات اور سماجی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔

نائب صدرجمہوریہ نے یونیورسٹی کی قیادت کی بھی ستائش کی کہ اس نے علمی سرگرمیوں کو ابھرتے ہوئے اور تہذیبی شعبوں تک وسعت دی ہے، جن میں اسکول آف سنسکرت اینڈ انڈک اسٹڈیز میں ہندو، جین اور بدھ مطالعات کے لئے نئے مراکز کا قیام بھی شامل ہے۔انہوں نے تمل اسٹڈیز کے لیے خصوصی مرکز اور آسامی ، اڑیا ، مراٹھی اور کنڑ میں چیئرز اور پروگراموں جیسے اقدامات کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کو فروغ دینے کے لیے جے این یو کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے جذبے کے مطابق مادری زبانوں میں علم کی تخلیق کو فروغ دینا چاہیے ۔

اپنے اختتامی کلمات میں ، نائب صدر نے گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ تین بنیادی ذمہ داریوں،سچائی کے حصول میں فکری دیانت ، عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے سماجی شمولیت اور قومی ترقی میں فعال کردار کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں ۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ آئینی اقدار اور ہندوستان کی تہذیبی اقدار کے مطابق رہیں اور ہمیشہ اپنے والدین اور اساتذہ کا احترام کریں ۔ طلباء کےروشن مستقبل کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ، نائب صدر نے بھارت کی وحدت اور مشترکہ عزم کا اعادہ کیا کہ ہم سب مل کر ترقی کی راہ پر آگے بڑھیں گے۔

اس پروگرام میں مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے چانسلر جناب کنول سبل ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر شانتی شری دھولی پُڈی پنڈت ، سینئر حکام ، فیکلٹی ممبران ، گریجویٹ طلباء اور ان کے اہل خانہ موجود تھے ۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.451

 


(रिलीज़ आईडी: 2213763) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Malayalam