وزارات ثقافت
بھدرکالی مندر کا نوشتہ سومناتھ کی لازوال میراث اور اس کی بحالی میں کمارپال کے کردار کو تاریخ کی صورت میں پیش کرتا ہے
پربھاس پٹن کے آثارِ قدیمہ کے شواہد اور سولنکی دور کا فنِ تعمیر ایک بیش قیمت ورثے کے طور پر آج بھی قائم ہیں
سومناتھ کے پتھر بہادری کی بازگشت سناتے ہیں، جبکہ نوشتہ جات سناتن ثقافت کی ترجمانی کرتے ہیں
پربھاس پٹن میوزیم نے سومناتھ کی تاریخ کو اجاگر کرنے والے نوشتہ جات اور آثار کو محفوظ کر رکھا ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JAN 2026 1:28PM by PIB Delhi
پربھاس پٹن ایک نہایت بھرپور اور مقدس تاریخی ورثے کا امین ہے، جہاں تانبے کی تختیاں، قدیم نوشتہ جات اور یادگاری پتھر اس کی خوشحالی، تہذیبی میراث اور بہادری کے لازوال جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔

پربھاس پٹن اور سومناتھ مندر کی تاریخ کو اجاگر کرنے والے آثارِ قدیمہ کے مستند ریکارڈ اور تصدیق شدہ باقیات پورے پربھاس علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ نوشتہ جات، تانبے کی تختیاں اور حملوں کے دوران تباہ ہونے والے مندروں کی باقیات آج بھی پربھاس پٹن میوزیم میں محفوظ ہیں، جو بہادری، استقامت اور عقیدت کی روشن علامت ہیں۔ یہ میوزیم فی الحال پربھاس پٹن کے قدیم سورج مندر کے احاطے میں قائم ہے۔

اسی نوعیت کا ایک اہم نوشتہ پربھاس پٹن میں میوزیم کے قریب، بھدرکالی گلی میں واقع قدیم رام مندر کے نزدیک موجود ہے۔ یہ نوشتہ سوم پورہ برہمن دیپک بھائی دیو کی رہائش گاہ پر محفوظ ہے اور ان کے صحن میں قدیم بھدرکالی مندر کی دیوار میں جڑا ہوا ہے۔
تفصیلات فراہم کرتے ہوئے پربھاس پٹن میوزیم کے کیوریٹر (سربراہِ میوزیم) شری تیجل پارمر نے بتایا کہ یہ نوشتہ 1169 عیسوی میں کندہ کیا گیا تھا (والابھی سموت 850 اور وکرم سموت 1255) اور فی الوقت ریاستی محکمۂ آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں ہے۔ یہ نوشتہ انہلواڑ پٹن کے مہاراجادھیراج کمارپال کے روحانی مرشد، پرم پشوپتا آچاریہ شریمن بھاوبرہسپتی کی مدح میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس نوشتہ میں سومناتھ مندر کی قدیم اور قرونِ وسطیٰ کی تاریخ محفوظ ہے، جس میں چاروں یوگوں کے دوران سومناتھ مہادیو کی تعمیر کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے مطابق ستیہ یوگ میں چندر دیو (سوما) نے سونے کا مندر تعمیر کیا؛ تریتا یوگ میں راون نے چاندی کا مندر بنایا؛ دواپر یوگ میں شری کرشن نے لکڑی کا مندر قائم کیا؛ اور کالی یوگ میں راجہ بھیم دیو سولنکی نے شاندار فنکارانہ پتھر کا مندر تعمیر کرایا۔
تاریخی شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھیم دیو سولنکی نے سابقہ باقیات پر چوتھا مندر تعمیر کیا، جس کے بعد 1169 عیسوی میں اسی مقام پر کمارپال کے زیرِ اہتمام پانچویں مندر کی تعمیر عمل میں آئی۔ سولنکی عہدِ حکومت میں پربھاس پٹن مذہب، فنِ تعمیر اور ادب کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھرا، جبکہ سدھاراج جیسنگھ کا عدل اور کمارپال کی گہری عقیدت سومناتھ کو گجرات کے سنہری دور کی ایک باوقار علامت کے طور پر مستحکم کرتے ہیں۔
پربھاس پٹن کی مقدس سرزمین محض آثارِ قدیمہ کے کھنڈرات کی حامل نہیں، بلکہ سناتن دھرم کے روحانی وقار اور فخر کی آئینہ دار ہے۔ تاریخی بھدرکالی نوشتہ سولنکی حکمرانوں اور بھاوبرہسپتی جیسے عظیم علما کی عقیدت اور فکری عظمت کو نمایاں کرتا ہے۔ فن، فنِ تعمیر اور ادب کی اپنی شاندار میراث کے ذریعے یہ سرزمین آج بھی آنے والی نسلوں کو متاثر اور متحرک کرتی ہے، جبکہ پربھاس کا تہذیبی ورثہ اور سومناتھ کا لازوال عروج اس ابدی حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ عقیدت اور وقار کبھی ماند نہیں پڑتے۔
***
UR-416
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2213402)
आगंतुक पटल : 21