نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ، بھارت منڈپم، نئی دہلی میں دوسرے دن میں داخل


مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے وی بی وائی ایل ڈی کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا

ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے نچلی سطح کی قیادت کے ماڈل کو اجاگر کیا؛ ملک بھر سے 50 لاکھ شرکاء میں سے 3,000نوجوان قومی چیمپئن شپ کے لیے منتخب

درست فیصلے اور نظم و ضبط قوموں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں: قومی سلامتی کے مشیر جناب اجیت ڈوول کا نوجوان قائدین سے خطاب

نمایاں پالیسی ساز، صنعت کے قائدین اور موضوعاتی ماہرین 10 موضوعاتی شعبوں میں نوجوان قائدین کی رہنمائی کر رہے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 10 JAN 2026 5:32PM by PIB Delhi

وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کے زیرِ اہتمام وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ کا دوسرا دن آج بھارت منڈپم نئی دہلی میں ایک شاندار افتتاحی اجلاس کے ساتھ شروع ہوا۔ اس اجلاس میں مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل اور محنت و روزگار ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ، قومی سلامتی کے مشیر جناب اجیت ڈووال، مرکزی وزیرِ مملکت برائے امورِ نوجوانان و کھیل محترمہ رکشا نکھل کھڈسے، سیکریٹری، محکمہ امورِ نوجوانان ڈاکٹر پلّوی جین گوویل اور ایڈیشنل سیکریٹری، محکمہ امورِ نوجوانان جناب نتیش کمار مشرا سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب کا آغاز سوامی وویکانند کو گلہائے عقیدت پیش کرنے سے ہوا، جن کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، قیادت اور قومی خدمت سے متعلق لازوال نظریات آج بھی ملک بھر کے نوجوان قائدین کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ اس کے بعد روایتی طور پر چراغ روشن کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001QIYI.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002O3MI.jpg

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے شرکاء کا پُرجوش خیرمقدم کیا اور اس اقدام کو عوام کی جانب سے ملنے والے غیر معمولی ردِعمل پر سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً پچاس لاکھ نوجوانوں نے سوال و جواب کے مرحلے میں حصہ لیا، جن میں سے تین لاکھ نوجوانوں کو دس متعین موضوعاتی شعبوں میں سے کسی ایک موضوع پر تحریری مضمون پیش کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان مضامین کا جائزہ ممتاز اساتذہ نے لیا، جس کے بعد ریاستی سطح پر تیس ہزار نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا تاکہ وہ اپنے خیالات پیش کر سکیں۔ اس مرحلے سے آخرکار تین ہزار نوجوان قائدین کا انتخاب کیا گیا، جو اپنے خیالات کو مزید نکھار کر براہِ راست وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے سامنے پیش کریں گے۔ وزیرِ اعظم نے وکست بھارت کی جانب سفر میں نوجوان ہندوستانیوں کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور قومی یومِ نوجوان کے موقع پر وہ کئی گھنٹے نوجوان قائدین کے ساتھ براہِ راست گفتگو کریں گے اور ان کے خیالات کو توجہ سے سنیں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003L18X.jpg

نوجوانوں کو قوم کی محرک قوت قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے اس بات پر زور دیا کہ وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے نچلی سطح سے ابھرنے والی قیادت تیار کی جا رہی ہے، جو کسی سیاسی سرپرستی کے بغیر مستقبل کے قومی قائدین کی پرورش کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وکست بھارت کا ہدف صرف حکومت کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ ایک سو چالیس کروڑ شہریوں کی اجتماعی کوشش سے ممکن ہوگا، جو قوم کے لیے متعین کیے گئے پانچ عزم و مقاصد کی رہنمائی میں آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے قوم سب سے پہلے کے اصول پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نظم و ضبط اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بھارت کے سازگار آبادیاتی فائدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وبا کے بعد کے دور میں ملک مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور بے روزگاری کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

کلیدی خطاب میں قومی سلامتی کے مشیر جناب اجیت ڈووال نے اپنے دورِ شباب کو یاد کرتے ہوئے اس بات پر تفصیل سے روشنی ڈالی کہ فیصلہ سازی کس طرح افراد کی زندگیوں اور قوموں کی تقدیر کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان کی زندگی کی رفتار اور سمت روزمرہ کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کے معیار سے طے ہوتی ہے اور نوجوان قائدین پر زور دیا کہ وہ اس صلاحیت کو ابتدائی عمر ہی سے شعوری طور پر پروان چڑھائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی سب سے بڑی طاقت درست انتخاب کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے اور انہیں دعوت دی کہ اگر وہ بھارت کو وکست بھارت کے ہدف کی جانب لے جانا چاہتے ہیں تو فیصلہ سازی میں دوراندیشی، نظم و ضبط اور عملی نفاذ پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کریں۔ انہوں نے بھارت کی آزادی کی جدوجہد کے دوران دی جانے والی قربانیوں کو بھی یاد کیا اور اس امر پر زور دیا کہ مضبوط اور خوداعتماد قوم کی تعمیر کے لیے تاریخ سے سبق حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004HRWB.jpg

حوصلہ افزائی کو وقتی اور نظم و ضبط کو دیرپا قرار دیتے ہوئے انہوں نے نوجوان قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ نظم و ضبط کو روزمرہ کی تحریک میں ڈھالیں اور کسی تاخیر کے بغیر عمل کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کی خود اعتمادی کو مضبوط کرنے پر زور دیا اور انہیں دعوت دی کہ وہ اپنے فیصلوں کے ساتھ پانچ سالہ وابستگی اختیار کریں، یہ کہتے ہوئے کہ وقت کے ساتھ غیر متزلزل قوتِ ارادی انسان کو ناقابلِ شکست بنا دیتی ہے۔ جناب اجیت ڈووال نے سوال و جواب پر مشتمل ایک باہمی نشست میں نوجوان شرکاء سے گفتگو بھی کی، جہاں انہوں نے دباؤ کو سنبھالنے اور نازک حالات میں درست فیصلے کرنے سے متعلق قیمتی بصیرتیں شیئر کیں۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں ڈاکٹر پلّوی جین گوویل نے معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ مکالمہ پانچ ماہ پر محیط ایک ہمہ گیر قومی عمل کے اختتام کی علامت ہے، جس میں تقریباً پچاس لاکھ نوجوانوں نے حصہ لیا اور ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے نمایاں نوجوان قائدین کا انتخاب عمل میں آیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مکالمہ نوجوانوں کی آواز سننے اور انسانی مرکزیت پر مبنی منصوبہ بندی کے طریقۂ کار کے ذریعے ان کے خیالات کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے ایک سو چوّالیس شہروں میں منعقد ہونے والی وکست بھارت دوڑ، جس میں بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں نے بھی شرکت کی، بھارت کی نرم طاقت کو اجاگر کرنے والا ایک نمایاں اقدام تھا۔

افتتاحی اجلاس کا اختتام محکمہ امورِ نوجوانان کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب نتیش کمار مشرا کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے اسٹیج پر موجود معزز شخصیات، مقررین، منتظمین اور نوجوان شرکاء کی بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نوجوان قیادت کی پرورش کے لیے مسلسل مکالمے اور شراکتی پلیٹ فارمز، جیسے وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ، کے تئیں وزارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آنے والے اجلاسوں سے بھرپور استفادہ کریں۔

اجتماعی اجلاس کے اختتام کے بعد شرکاء اپنے اپنے مقامات کی جانب روانہ ہوئے، جہاں دس متعین موضوعات کے گرد منظم تفصیلی موضوعاتی نشستیں منعقد کی گئیں۔ ان نشستوں کی نگرانی ایسے سرپرستوں نے کی جنہوں نے ہر موضوع کے خدوخال اور مقاصد متعارف کرائے، جس کے بعد ممتاز ماہرین کی قیادت میں مباحثے ہوئے۔ ان تبادلۂ خیال کے سیشنز نے اشتراکی سیکھنے کا ماحول فراہم کیا، جس سے شرکاء کو مسائل کا تنقیدی جائزہ لینے، خیالات کا تبادلہ کرنے اور مرکوز گفتگو کے ذریعے ماہرین کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ موضوعات درج ذیل ہیں:

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005F1B5.jpg

  • موضوع 1 — وکست بھارت کے لیے جمہوریت اور حکومت میں نوجوانوں کا کردار

اس موضوع میں نوجوانوں، جمہوریت اور حکمرانی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ جیوری میں وڈودرا سے رکنِ پارلیمان جناب ہیمنگ جوشی اور سابق سرپنچ و نچلی سطح کی قائد محترمہ بھکتی شرما شامل تھیں۔ شرکاء نے اختراعی حکمرانی کے ایسے ماڈلز پیش کیے جن کا مقصد دیہی سطح کے عملی منصوبوں، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسئلہ حل کرنے والی اکائیوں، پالیسی اور کیریئر تجربہ گاہوں، اور منظم شہری شمولیت کے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو عوامی انتظامیہ میں مؤثر طور پر شامل کرنا تھا۔

  • موضوع 2 — خواتین کی قیادت میں ترقی: وکست بھارت کی کلید

اس موضوع میں خواتین کو حکمرانی اور قومی تعمیر کی قائد کے طور پر آگے بڑھانے پر زور دیا گیا، جو وکست بھارت 2047 کے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔ اس نشست میں ممتاز ماہرین سے گفتگو ہوئی جن میں بھارت کی پہلی ایم بی اے سرپنچ محترمہ چھوی رجاوت ارجن ایوارڈ یافتہ اور رکنِ قانون ساز اسمبلی محترمہ شریاسی سنگھ، اور کشتواڑ سے رکنِ اسمبلی محترمہ شگن پریہار شامل تھیں۔ یہ نشست بھارت منڈپم میں منعقد ہوئی۔

  • موضوع 3 — فِٹ بھارت، ہِٹ بھارت

اس موضوع میں مضبوط اور بااختیار بھارت کی تعمیر میں صحت، تندرستی، کھیل اور مقامی علمی نظاموں کے کردار پر توجہ دی گئی۔ اس نشست میں ممتاز کھلاڑی جناب لینڈر پیس اور جناب پلیلا گوپی چند سے گفتگو ہوئی، جنہوں نے جسمانی صحت، ذہنی تندرستی، نظم و ضبط اور بھارت کی روایتی روایات جیسے یوگ اور دھیان کو یکجا کرتے ہوئے ہمہ جہتی فلاح و بہبود کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006W602.jpg

  • موضوع 4 — بھارت کو دنیا کا شروعاتی کاروباری مرکز بنانا

اس موضوع کے تحت نوجوان قائدین نے اپنے خیالات پیش کیے اور شعبہ جاتی ماہرین کے ساتھ باہمی نشست میں حصہ لیا، جس سے شرکاء کو پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ عملی ماہرین کے ساتھ شروعاتی کاروباری ماحولیاتی نظام پر براہِ راست گفتگو کا موقع ملا۔ اس نشست میں آندھرا پردیش سے رکنِ پارلیمان جناب ہریش بالایوگی، زیپٹو کے شریک بانی اور تکنیکی سربراہ جناب کیولیہ ووہرا، حکومتِ آندھرا پردیش کے وزیرِ امورِ نوجوانان و کھیل جناب رام پرساد ریڈی اور اسپورٹس اتھارٹی آندھرا پردیش کے چیئرمین جناب روی نائیڈو شریک ہوئے۔

  • موضوع 5 — بھارت کی نرم طاقت: ثقافتی سفارت کاری اور عالمی اثر و رسوخ

اس موضوع میں نرم طاقت اور ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ پر گفتگو ہوئی۔ اس نشست کی قیادت ممتاز مقررین نے کی، جن میں نچلی سطح کی حکمرانی اور کمیونٹی ترقی سے وابستہ عوامی خدمت گزار جناب رومالو رام، سینئر صحافی و ٹیلی ویژن اینکر محترمہ پالکی شرما، جموں و کشمیر کے کابینہ وزیر جناب ستیش شرما (خوراک، شہری رسد و امورِ صارفین، نقل و حمل، سائنس و ٹیکنالوجی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، امورِ نوجوانان و کھیل، اور انتظامی اصلاحات و تربیت کے قلمدانوں کے نگران)، اور نہرو یووا کیندر سنگٹھن کے نائب ڈائریکٹر جناب ارپت تیواری شامل تھے۔ مقررین نے شرکاء سے براہِ راست گفتگو کی۔

  • موضوع 6 — روایت کے ساتھ اختراع: جدید بھارت کی تعمیر

اس موضوع میں بھارت کے ثقافتی ورثے کو اختراع اور نوجوانوں کی بااختیاری کی بنیاد کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ نشست کی قیادت ممتاز ماہرین نے کی، جن میں قومی تعلیمی ٹیکنالوجی فورم اور قومی تشخیصی و منظوری کونسل کے چیئرمین جناب انل سہسرابُدّھے، ماہرِ تعلیم، مصنف اور سابق رکنِ پارلیمان جناب ونئے سہسرابُدّھے اور واہدَم انڈیا کے بانی و سربراہ جناب بالا سردا شامل تھے۔

  • موضوع 7 — خود کفیل بھارت: بھارت میں تیار کرو، دنیا کے لیے تیار کرو

اس موضوع میں اختراع پر مبنی ترقی اور بھارت کے معاشی مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کے کردار پر مباحثہ ہوا۔ نشست کی قیادت شعبہ جاتی ماہرین جناب سبھابرتا داس (شریک بانی، ایٹم برگ ٹیکنالوجیز) اور جناب پرتیک جین (عملیاتی سربراہ، ایڈ ورب) نے کی، جنہوں نے شرکاء کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

  • موضوع 8 — لچکدار اور پائیدار زراعت کے ذریعے پیداوار میں اضافہ

اس موضوع میں لچکدار اور پائیدار زراعت کے ذریعے پیداوار بڑھانے پر توجہ دی گئی، اور بھارتی زراعت کی جدید کاری میں درپیش عملی چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔ منتخب پانچ ٹیموں نے اپنے نکھارے ہوئے خیالات ایک پینل کے سامنے پیش کیے، جس کی قیادت نچلی سطح کی حکمرانی کے ماہر جناب اتُل پٹیدار اور بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے نائب ڈائریکٹر جنرل (زرعی توسیع) جناب راج بیر سنگھ نے کی۔

  • موضوع 9 — پائیدار اور سرسبز وکست بھارت کی تعمیر

اس نشست میں پائیدار اور سرسبز وکست بھارت کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی گئی اور اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ موجودہ دور کے اقدامات کس طرح مضبوط اور جامع مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مباحث کی قیادت جناب ملهر کلمبے (بانی، بیچ پلیز انڈیا)، چھتیس گڑھ کے سابق سول افسر جناب او۔پی۔چودھری اور ایکو سینس کے بانی و سربراہ جناب ابھیشیک مانگلِک نے کی۔ مقررین نے زور دیا کہ وکست بھارت کا ویژن اسی وقت ممکن ہے جب پائیداری کو روزمرہ زندگی، حکمرانی اور تکنیکی اختراع میں راسخ کیا جائے اور صاف ستھرے، سرسبز اور پائیدار بھارت کی تعمیر میں نوجوانوں کے مرکزی کردار کو نمایاں کیا۔

  • موضوع 10 — وکست بھارت کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری

اس موضوع میں نوجوانوں کو بدلتی ہوئی دنیا کے کام کے تقاضوں کے لیے تیار کرنے پر توجہ دی گئی۔ نشست کی قیادت معروف ماہرِ تعلیم اور سپر تھرٹی کے بانی جناب آنند کمار اور عوامی پالیسی کے ماہر و محقق جناب انیکت دیب نے کی۔ گفتگو میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آج کے دور میں روزگار کی صلاحیت محض اسناد تک محدود نہیں، بلکہ مہارتوں، موافقت پذیری اور مستقبل کی تیاری سے وابستہ ہے، جس میں خود نشوونما، منظم سیکھنے اور مصنوعی ذہانت جیسے تکنیکی تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00733SC.jpg

سرکاری پروگرام کے حصے کے طور پر شرکاء نے دو گروہوں میں وزیرِ اعظم کے عجائب گھر اور کتب خانے کا دورہ کیا، جہاں انہیں بھارت کی قیادتی وراثت اور جمہوری ارتقا کو مزید گہرائی سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد شرکاء نے ریاستی ٹیموں کی صورت میں دوبارہ اجتماع کیا اور عشائیہ کی دعوتوں کے لیے مرکزی وزراء اور اراکینِ پارلیمان کی رہائش گاہوں کی جانب روانہ ہوئے۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے مشترکہ غور و فکر اور قومی خدمت کے ماحول میں بامعنی گفتگو، رہنمائی اور غیر رسمی سرپرستی کے مواقع فراہم ہوئے۔

وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 کا دوسرا دن ایک سنجیدہ اور مستقبل پر نظر رکھنے والے پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں قوم کی تعمیر کے سفر میں نوجوانوں کو مرکز میں رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا گیا۔ مختلف موضوعاتی نشستوں میں ہونے والی بھرپور بحث و تمحیص اور نوجوان قائدین کی پالیسی سازوں اور شعبہ جاتی ماہرین کے ساتھ فعال شمولیت نے اس مکالمے کو خیالات، قیادت اور شراکتی حکمرانی کے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر مزید مستحکم کیا۔

وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ 2026 کا اختتام 12 جنوری 2026 کو ہوگا، جب وزیرِ اعظم ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوان قائدین سے براہِ راست گفتگو کریں گے۔ مکالمے کے تیسرے دن میں بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے کے خلا نوردوں کے ساتھ حوصلہ افزا ملاقاتیں، موضوعاتی بنیاد پر جاری پیشکشیں اور ایک ثقافتی تقریب شامل ہوگی، جو وکست بھارت کی روح اور تنوع کی بھرپور عکاسی کرے گی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-404


(रिलीज़ आईडी: 2213337) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam