کانکنی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

راشٹریہ کھنِج چنتن شِور کا اختتام؛ قومی اہم  معدنیات مشن اور پائیدار کان کنی پر توجہ مرکوز

प्रविष्टि तिथि: 10 JAN 2026 4:42PM by PIB Delhi

گاندھی نگر، گجرات:راشٹریہ کھنج چنتن شِور 2026 اپنے اختتام کو پہنچ گیا، جہاں مرکز اور ریاستوں نے پائیدار کان کنی کو فروغ دینے اور بھارت کی اہم معدنی ضروریات کو محفوظ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔چنتن شِور کے دوسرے دن بھارت کے کان کنی کے شعبے کو مضبوط بنانے کی اہم ترجیحات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس دوران قومی اہم معدنیات مشن، پائیدار کان کنی کے طریقۂ کار اور طویل مدتی معدنی سلامتی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ان مباحثوں سے مرکز اور ریاستوں کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی ہوئی کہ مربوط اور مستقبل بیں حکمتِ عملیوں کے ذریعے کان کنی کی پوری ویلیو چین میں ملکی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا جائے۔

 

مباحثوں کے دوران وزارتِ کان کنی کے جوائنٹ سیکریٹری جناب وویک کمار باجپائی نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جس میں قومی اہم معدنیات مشن کے لائحہء عمل کی وضاحت کی گئی۔ انہوں نے اہم معدنیات کی نشاندہی، تلاش اور نیلامی کی حکمتِ عملیوں، ملکی سطح پر کان کنی اور پروسیسنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، ویلیو ایڈیشن کے فروغ، اور صنعت و تحقیقی اداروں کے باہمی اشتراک سے مضبوط اور مستحکم سپلائی چین تشکیل دینے سے متعلق اقدامات پر روشنی ڈالی۔

 

مباحثوں کے دوران جناب پنکج کلشریشٹھا، کنٹرولر جنرل، انڈین بیورو آف مائنز نے ویسٹ ڈمپس اور ٹیلنگز سے اہم معدنیات کی بازیافت سے متعلق ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجیوں اور ثانوی وسائل کے استعمال کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا، جن کے ذریعے معدنی دستیابی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ماحول دوست اور سرکلر مائننگ کے طریقوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل، سیکریٹری، وزارتِ کان کنی نے کانوں کی بروقت عملی شروعات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ قومی ترقی میں کان کنی کے شعبے کی شراکت میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے تیز رفتار اور جوابدہ طریقۂ کار کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ وزارتِ کان کنی ملک کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق کان کنی کی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

پنجاب کے وزیرِ کان کنی جناب بریندر کمار گوئل نے ریاست کے کان کنی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور اس کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجیز، پائیدار طریقۂ کار اور مؤثر پالیسی اقدامات اپنانے پر زور دیا تاکہ اس شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

کوئلہ اور کان کنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی نے جامع اور پائیدار ترقی کی بنیاد کے طور پر کان کنی کے شعبے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کان کنی سے متاثرہ علاقوں کی فلاح و بہبود کے لیے ضلع معدنی فاؤنڈیشن فنڈز کے مؤثر استعمال، مضبوط مائن کلوزر منصوبہ بندی کی ضرورت اور معدنی بلاکس کی بروقت نیلامی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کان کنی کے شعبے میں اصلاحات کو آگے بڑھانے میں ریاستیں کلیدی شراکت دار ہیں اور حکومتِ ہند کی جانب سے ذمہ دارانہ کان کنی کے فروغ اور ملکی معدنی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل تعاون فراہم کیا جاتا رہے گا، جو آتم نربھر بھارت اور 2047 تک وکست بھارت کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

 

دو روزہ کانفرنس میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، کوئلہ اور کان کنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی، جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل، محنت و روزگار اور امورِ نوجوانان و کھیل کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ، اور بہار کے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب وجے کمار سنہا نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی حکومتوں کے وزراء اور وزارتِ کان کنی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔کانفرنس کے مباحثوں میں آٹھ سے زیادہ ریاستوں کے وزرائے کان کنی اور اعلیٰ حکام نے حصہ لیا، جس سے کان کنی کے شعبے میں اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون اور اشتراکی وفاقیت کے مضبوط جذبے کی عکاسی ہوتی ہے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :   401 )


(रिलीज़ आईडी: 2213306) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil