بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ماحولیات کے لیے ساز گار ٹیکنا لوجی کے شعبے میں بھارت کی بڑی پیش رفت ، سربانند سونووال نے ملک کے پہلے مکمل الیکٹرک ٹگ پروجیکٹ کا افتتاح کیا
جناب سونووال نے ، وزیراعظم نریندر مودی کے صاف ستھرے ، جدید اور مستقبل کے عین مطابق بحری شعبے کے نظریے کو اجاگر کیا
’’ بھارت کا مقصد عالمی سطح پر ماحولیات کے لیے ساز گار بحری شعبے کی منتقلی میں قیادت کرنا ہے اور مودی حکومت کی کوششوں کے تحت ، ملک جہاز سازی کے نظام کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی راہ پر گامزن ہے ‘‘ : سربانند سونووال
प्रविष्टि तिथि:
03 DEC 2025 8:26PM by PIB Delhi
بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں ( ایم او پی ایس ڈبلیو ) کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے بھارت کے پہلے مکمل الیکٹرک گرین ٹگ کے اسٹیل کٹنگ کی تقریب کا ورچوئل وسیلے سے افتتاح کیا، جو ملک کے پائیدار اور توانائی کی بچت کرنے والے بحری کام کاج کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ ٹگ، جو کاندلہ کے دین دیال پورٹ اتھارٹی ( ڈی پی اے ) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت کے تحت گرین ٹگ منتقلی پروگرام ( جی ٹی ٹی پی ) کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے، جو بھارت کی بحری شعبے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
اس تقریب میں بندرگاہیں، بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں ( ایم او پی ایس ڈبلیو ) کے وزیر مملکت شانتانو ٹھاکر؛ بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت ( ایم او پی ایس ڈبلیو ) کے سکریٹری ، آئی اے ایس وجے کمار ؛ ڈی پی اے کے چیئرمین سشیل کمار سنگھ، آئی آر ایس ایم ای ؛ ڈی پی اے کاندلہ کے سینئر افسران؛ نیٹِن کون اینڈ رِپلے کے نمائندے؛ کانگس برگ کے تکنیکی ماہرین؛ اور ایٹریا شپ یارڈ کے انجینئرز، جو ٹگ کی تعمیر کر رہے ہیں، نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ، جناب سونووال نے کہا کہ ملک کے پہلے مکمل الیکٹرک گرین ٹگ کا آغاز بھارت کی بحری شعبے میں ماحولیات کے لیے سا ز گار توانائی کے استعمال کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پروجیکٹ ، وزیراعظم نریندر مودی کے پائیدار ترقی، تکنیکی جدت طرازی اور عالمی قیادت کے نظریے کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ’’ یہ سنگِ میل بھارت کے صاف ستھرے اور پائیدار بحری شعبے کے مستقبل کی جانب عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی متحرک قیادت میں، بھارت نے ماحولیات کے لیے سازگار ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ ماحولیات کے تحفظ، توانائی کی منتقلی اور مستقبل کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ آج کی اسٹیل کٹنگ تقریب ، براہِ راست ان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ایک سبز، مستحکم اور خودمختار بحری شعبہ سے متعلق ایکو نظام کی تعمیر چاہتے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا ’’ وکسِت بھارت ‘‘ کا نظریہ ملک کی اقتصادی ترقی میں بحری شعبے کو مرکزی حیثیت فراہم کرتا ہے۔ جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ’’ وزیر اعظم مودی نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح جدت طرازی ملک کی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ یہ مکمل الیکٹرک گرین ٹگ ، اس بات کی روشن دلیل ہے کہ بھارت کس طرح ان کے ویژن کو عملی، عالمی معیار کے اثاثوں میں بدل رہا ہے، جو ہماری بندر گاہوں کی خدمت کریں گے، ماحول کی حفاظت کریں گے اور عالمی سطح پر ہماری پوزیشن کو مضبوط کریں گے۔ ‘‘
دین دیال پورٹ اتھارٹی ( ڈی پی اے ) کے لیے تیار ہونے والا نیا گرین ٹگ کھینچنے کی 60 ٹن بولرڈ قوت کے ساتھ آئے گا، جو بغیر آواز کے کام کاج ، کاربن کے صفر اخراج اور توانائی کی زیادہ سے زیادہ بچت کو یقینی بنائے گا۔ حکام کے مطابق، یہ ٹگ بھارت کے بڑی بندرگاہوں میں اگلے سلسلے کے بیڑے کی جدید کاری کے لیے معیار قائم کرے گا۔ ٹگ کا الیکٹرک پروپلژن نظام ، نیوی گیشن کی جدید خصوصیات اور کم دیکھ بھال والا ڈیزائن متوقع طور پر کام کاج کے اخراجات اور کاربن اخراج کی شدت کو نمایاں طور پر کم کرے گا۔
بندرگاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت ( ایم او پی ایس ڈبلیو ) کے ذریعے شروع کئے گئے گرین ٹگ ٹرانزیشن پروگرام ( جی ٹی ٹی پی ) کا مقصد ، 2030 ء تک 50 گرین ٹگز کو متعارف کرانا ہے، جن میں سے پہلے مرحلے میں 2024 ء سے 2027 ء کے درمیان 16 ٹگز کو تعینات کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں، ہر پورٹ اتھارٹی — ڈی پی اے ، پارادیپ پورٹ اتھارٹی، جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی اور وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی کے لیے دو گرین ٹگز مختص کیے جائیں گے۔ باقی آٹھ بڑی بندرگاہوں پر ہر ایک کے لیے ایک ٹگ تعینات کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق، چار بڑی بندرگاہوں - ڈی پی اے ، وی پی اے ، جے این پی اے اور وی او سی پی اے - نے پہلے ہی ہر ایک کے لیے ایک ٹگ کی تعیناتی کے کام کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس میں ڈی پی اے پہلا بندرگاہ ہے ، جس نے باقاعدہ طور پر اس کی تعمیر شروع کر دی ہے ۔
جناب سربانند سونووال نے اجاگر کیا کہ ڈی پی اے کی قیادت جی ٹی ٹی پی کو عملی جامہ پہنانے میں یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی بندرگاہیں ماحولیات کے لیے ساز گار توانائی والے حل کی جانب فیصلہ کن قدم اٹھا رہی ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’ ڈی پی اے کی یہ پہل ، دنیا کو دکھاتی ہے کہ بھارت گرین پورٹس اور پائیدار بحری شعبے کے لاجسٹکس کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ یہ صرف ایک تکنیکی اپگریڈ نہیں بلکہ ایک انقلابی قدم ہے۔ ‘‘
وزیر موصوف نے مزید اجاگر کیا کہ ’ میک اِن انڈیا ‘ اور ’ میک فار دی ورلڈ ‘کے اصول بندرگاہوں کی جدید کاری کے اقدامات کی رہنمائی جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹریا شپ یارڈ میں اس گرین ٹگ کی تعمیر ، بھارت کے جہاز سازی کے ایکو نظام کی حمایت کرتی ہے اور اندرونِ ملک مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مستحکم کرتی ہے۔ جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ’’ یہ ٹگ نہ صرف بھارت کی بندرگاہوں کے لیے ہے بلکہ دنیا کو دکھانے کے لیے بھی ہے کہ بھارت کیا تعمیر کر سکتا ہے۔ یہ ہماری عالمی سطح پر بحری شعبے میں اختراع کے لیے بڑا مرکز بننے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘‘
ڈی پی اے کے حکام نے بتایا کہ ٹگ کا تعمیراتی شیڈول بھارت کو بندرگاہوں کے کام کاج میں الیکٹرک پروپلژن کے استعمال میں سبقت دینے والا بناتا ہے۔ تعینات ہونے کے بعد، یہ ٹگ مکمل طور پر کاربن کے صفر اخراج کے ساتھ بندرگاہ میں منورِنگ، اسکورٹنگ اور ہنگامی ردعمل کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرے گا ۔ پروجیکٹ سے قیمتی ڈاٹا اور عملی بصیرت حاصل ہونے کی توقع ہے ، جو بھارت کے گرین ٹگ کی توسیع کے مستقبل کے مراحل میں معاون ثابت ہوگی۔
گرین ٹگ ٹرانزیشن پروگرام ، وزارت کے پائیداری کے اہم اقدامات میں سے ایک ہے اور بھارت کی بین الاقوامی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے عزائم کی حمایت کرتا ہے۔ یہ میرین انڈیا ویژن 2030 ء اور وزیر ِ اعظم کی امرت کال کے عزم کے ساتھ بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
جناب سربانند سونووال نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ ’’ بھارت میں گرین میرین ٹیکنالوجی کی پیش رفت ، وزیر اعظم کی قیادت کے تحت ایک مشترکہ قومی کوشش ہے۔ آج جو بھی جدت طرازی ہم اپناتے ہیں، وہ وِکسِت بھارت کے بحری شعبے کی بنیاد کی تعمیر کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ہمیں بڑے خواب دیکھنے اور فیصلہ کن عمل کرنے کی ہمت دی ہے۔ یہ گرین ٹگ بھارت کی بندرگاہوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ ‘‘
..........
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 348
(रिलीज़ आईडी: 2212893)
आगंतुक पटल : 10