سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پالیسی کی صف بندی (ہم آہنگی )کو یقینی بنانے ، تعاون پر مبنی وفاقیت کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں موثر ، محفوظ اور شہریوں پر مرکوز نقل و حمل کے حل فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ مشاورت ضروری ہے


مرکزی وزیر نتن گڈکری نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ٹرانسپورٹ وزراء کی سالانہ میٹنگ کی صدارت کی

प्रविष्टि तिथि: 08 JAN 2026 8:40PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری جی نے آج نئی دہلی میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے معزز ٹرانسپورٹ وزراء کی سالانہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں سڑکوں کی حفاظت، مسافروں اور عوامی سہولت، کاروبار کرنے میں آسانی اور آٹوموبائل ضوابط سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب گڈکری جی نے کہا کہ آئینِ ہند کے تحت نقل و حمل ایک ہم آہنگ موضوع ہے، جس کے باعث مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان قریبی، مسلسل اور مؤثر تال میل ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے، تعاون پر مبنی وفاقیت کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں محفوظ، مؤثر اور شہریوں پر مرکوز نقل و حمل کے حل فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ مشاورت نہایت ضروری ہے۔

بھارت کے سڑک ٹرانسپورٹ شعبے میں ہمہ گیر تبدیلی کو فروغ دینے کے مقصد سے مسائل، حل اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر جامع غور و فکر کے لیے 7 اور 8 جنوری 2026 کو بھارت منڈپم میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کے پہلے دن، یعنی 7 جنوری کو، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ٹرانسپورٹ سکریٹریز کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سکریٹری، روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز (آر ٹی اینڈ ایچ)، جناب وی اوماشَنکر نے کی۔ ایڈیشنل سکریٹری ٹرانسپورٹ، جناب محمود احمد نے سیشن کا افتتاح کیا اور اس روز منعقدہ غور و خوضی ورکشاپ کے موضوعات متعین کیے۔

7 جنوری کو سرکاری افسران کے ساتھ ہونے والی ورکشاپ کے بعد، 8 جنوری کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے معزز ٹرانسپورٹ وزراء کے ساتھ دوسری ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کی صدارت معزز وزیرِ روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز، جناب نتن گڈکری جی نے کی۔ اس ورکشاپ میں پہلے دن سامنے آنے والے اہم نکات کو مزید وسعت دی گئی اور سڑکوں کی حفاظت کو مرکزی توجہ بناتے ہوئے، بشمول سڑک حفاظت کے عہد، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دیا گیا۔

اس دن کی کارروائی کا اختتام 43ویں ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ کونسل (ٹی ڈی سی) کے اجلاس پر ہوا، جہاں ملک کی مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں (جیسے آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی )، بی او سی آئی اور دیگر) کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر معزز وزیرِ ٹرانسپورٹ اور متعلقہ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دو روزہ ورکشاپ کے دوران درج ذیل موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور سڑک نقل و حمل کے شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے مخصوص عملی اقدامات کی نشاندہی کی گئی:

1. نقل و حمل کی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور معیاری کاری

ریاستوں نے واہن اور سارتھی پلیٹ فارمز کے تحت آن لائن ٹرانسپورٹ خدمات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس دوران یکساں نفاذ، فزیکل وزٹس میں کمی اور معیاری ورک فلو اپنانے پر زور دیا گیا تاکہ شہریوں کے لیے زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں سہولت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ، منصوبہ بندی اور نفاذ کے لیے درست، قابلِ اعتماد اور محفوظ ٹرانسپورٹ ڈیٹا بیس کو یقینی بنانے کے مقصد سے ڈیٹا کے معیار، گاڑیوں کے ڈیٹا کی درجہ بندی کے فریم ورک اور ڈیٹا شیئرنگ پروٹوکول کا بھی جائزہ لیا گیا۔

2. موٹر وہیکل اصلاحات اور قانون سازی میں ترامیم

موٹر وہیکل ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، بشمول جن وشواس 2.0 کی دفعات، پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان ترامیم کا مقصد زندگی گزارنے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا، ریگولیٹری وضاحت کو مضبوط کرنا، سڑکوں کی حفاظت میں اضافہ کرنا اور معمولی خلاف ورزیوں کو جرم سے پاک کرنا ہے۔

3. روڈ سیفٹی اور حادثے کے بعد کی دیکھ بھال

سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لیے جامع گفتگو کی گئی، جس میں ای۔ڈی۔اے۔آر جیسے ڈیجیٹل نظام کی توسیع، سڑک حادثات کے متاثرین کے لیے نقدی کے بغیر علاج کی اسکیم کے آغاز کی تیاری، محفوظ بنیادی ڈھانچے، مؤثر نفاذ اور ہنگامی طبی نگہداشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔
نقدی کے بغیر علاج کی اسکیم کے کامیاب نفاذ کے لیے ریاستی سطح پر رابطہ مراکز (پی او سی)کی نامزدگی اور ضلعی سطح پر پولیس، اسپتالوں اور ہنگامی خدمات کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

4. گاڑیوں کی حفاظت اور انجینئرنگ معیارات

بسوں، سلیپر کوچز اور مسافر گاڑیوں کے لیے بہتر حفاظتی معیارات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں بس باڈی کوڈ، بی این سی اے پی ریٹنگ اور ایڈوانسڈ ڈرائیور اسسٹنس سسٹم (اے ڈی اے ایس) کے مرحلہ وار نفاذ شامل ہیں۔

5. ضلعی سطح کے روڈ سیفٹی اقدامات

صفر اموات والے اضلاع کے قیام اور ضلعی روڈ سیفٹی کمیٹیوں کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات پر غور کیا گیا۔

6. پائیدار نقل و حمل اور وہیکل اسکریپنگ

وہیکل اسکریپنگ پالیسی پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں آٹومیٹڈ ٹیسٹنگ اسٹیشنز(اے ٹی ایس )رجسٹرڈ وہیکل اسکریپنگ سہولیات (آر وی ایس ایف )کی توسیع اور گاڑیوں کے بیڑے کی جدید کاری کو فروغ دینے کے لیے مراعات شامل ہیں۔

7. اخراج اور پی یو سی سی  2.0 معیارات

پی یو سی سی  2.0 کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں تعمیل، آڈٹ میکانزم اور اپنانے کے عمل کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

8. انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹمز اور ای۔نفاذ

ریاستوں نے ای۔نفاذ، ای۔چالان نظام، وہیکل لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائسز (وی ایل ڈی ٹی )کی تعیناتی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا تاکہ تعمیل، خواتین کی حفاظت اور نقل و حمل کے نظام کی حقیقی وقت میں نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔

9. ڈرائیورکی تربیت اور صلاحیت سازی

ڈرائیوروں کی مہارت میں بہتری اور مجموعی طور پر سڑکوں کی حفاظت کو فروغ دینے کے لیے ڈرائیور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (ڈی ٹی آئی )، انسٹی ٹیوٹ آف ڈرائیونگ ٹریننگ اینڈ ریسرچ (آئی ڈی ٹی آر)اور علاقائی تربیتی مراکز کی توسیع کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

10. سڑک سرکشا مترا پروگرام

سڑک حادثات میں ہونے والی اموات میں اضافے سے نمٹنے اور نوجوانوں کو اپنے مقامی علاقوں میں زندگی بچانے والے سڑک حفاظتی اقدامات نافذ کرنے اور ان کی وکالت کے لیے بااختیار بنانے کے مقصد سے، وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز نے وزارتِ نوجوانان و کھیل کے تعاون سے ’’سڑک سرکشا مترا پروگرام‘‘ شروع کیا ہے۔
اس پہل کے تحت، گریجویٹ انجینئرز سمیت پرجوش نوجوان رضاکاروں کو سڑک کی حفاظت کے اصولوں، سیف سسٹم اپروچ، حادثاتی ہاٹ اسپاٹس کی شناخت، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور حادثے کے بعد بنیادی امداد سے متعلق منظم تربیت اور تصدیق فراہم کی جاتی ہے، جبکہ قانونی طور پر حساس کرداروں سے واضح طور پر گریز کیا جاتا ہے۔

ورکشاپ کا اختتام مرکزی وزیرِ سڑک نقل و حمل و شاہراہیں، جناب نتن گڈکری کے خطاب پر ہوا، جس میں انہوں نے ان تمام موضوعات کو ایک مربوط اور مستقبل پر مبنی وژن کے تحت یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون پر مبنی ہماری کوششیں ایک ایسے ٹرانسپورٹ نظام کی بنیاد رکھیں گی جو ہر شہری کی ضروریات کو پورا کرے، قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرے اور تمام شہریوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنائے۔

دو روزہ ورکشاپ کے اہم نکات

شمارنمبر

موضوعِ گفتگو

اہم نکات

1

آن لائن ٹرانسپورٹ خدمات

حکومت 100 سے زائد آن لائن ٹرانسپورٹ خدمات کو معیاری شکل دے گی، جن میں بین الریاستی خدمات جیسے این او سی اور ملکیت کی منتقلی شامل ہیں۔آدھار پر مبنی توثیق کو مضبوط بنانے کے اقدامات، جن میں ناموں کی معیاری کاری اور صوتی مماثلت (Phonetic Matching) شامل ہے۔ریاستی سطح کی تخصیصات کو کم کرنے کے لیے معیاری ورک فلو نافذ کیے جائیں گے۔

2

گاڑی، درجہ بندی، ڈیٹا کی تطہیر اور ڈیٹا کا اشتراک

گاڑیوں اور ڈرائیونگ لائسنس کے ریکارڈز کی وسیع پیمانے پر ڈیٹا تطہیر تاکہ درستگی بہتر ہو اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی ممکن ہو۔تمام شراکت داروں کے لیے مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا شیئرنگ فریم ورک کی تشکیل، جو ڈی پی ڈی پی ایکٹ کے مطابق ہو اور کاروبار میں آسانی کو یقینی بنائے۔

3

رضاکارانہ وہیکل فلیٹ ماڈرنائزیشن پروگرام

گاڑی اسکریپنگ اور خودکار ٹیسٹنگ سہولیات پر مضبوط ضابطہ جاتی نگرانی تاکہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی روک تھام ہو۔نجی شعبے کی شراکت کو فروغ دینا تاکہ ٹیسٹنگ اور اسکریپنگ انفراسٹرکچر کی تعیناتی میں تیزی آئے۔پرانے اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے درجہ بند ٹیکس مراعات پر غور۔

4

کیش لیس علاج اسکیم

قانونی کیش لیس علاج اسکیم کو فوقیت حاصل ہوگی، جبکہ موجودہ ریاستی ایمرجنسی رسپانس سسٹمز / اسکیمیں اضافی فوائد فراہم کر سکتی ہیں۔ایمبولینس ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ریاستوں کا ٹی ایم ایس 2.0 پر آن بورڈنگ اور 112 کے ساتھ انضمام۔

5

سڑک تحفظ: ای-ڈی اے آر کا استعمال

حادثات کے ڈیٹا کی رپورٹنگ کے لیے ای-ڈی اے آر کو واحد نظام کے طور پر اختیار کرنا۔ای-ڈی اے آر پر بروقت ڈیٹا اندراج کے لیے پولیس / وسائل کی صلاحیت میں موجود خلا کو دور کرنا۔

6

سڑک تحفظ: سڑک سرکشا متر، ضلعی روڈ سیفٹی کمیٹی اور ضلعی روڈ سیفٹی فنڈ

سڑک سرکشا متر (ایس ایس ایم) کو ضلع کی قیادت میں، نچلی سطح سے اوپر کی جانب رضاکارانہ پہل کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ریاستی سطح کے معتبر اداروں کی نشاندہی جو ایس ایس ایم کے لیے تربیت اور رہنمائی فراہم کریں گے۔ضلعی روڈ سیفٹی کمیٹی (ڈی آر ایس سی) کی میٹنگز، رپورٹنگ اور علمی اشتراک کو بہتر بنانا۔ضلعی روڈ سیفٹی فنڈ (ڈی آر ایس ایف) کے لیے رہنما خطوط تیار کرنا اور ان کی تشہیر۔

7

موٹر وہیکلز ایکٹ میں ترمیم

زندگی اور کاروبار میں آسانی، ضابطہ جاتی یقین دہانی کے فروغ اور سڑک تحفظ میں بہتری کے لیے مجوزہ ترامیم۔ٹریفک خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے پوائنٹس پر مبنی نظام کا تعارف۔مقررہ مجموعی گاڑی وزن تک تمام مال بردار گاڑیوں کے لیے ڈیجیٹل اور خودکار پرمٹس کے اجرا کو ممکن بنانا۔

8

ای-چالان اور ای-انفورسمنٹ

ورکشاپس، واہن کی ریاستی نظام کے ساتھ انضمام، اور نفاذ سے متعلق رہنمائی کے ذریعے ای-انفورسمنٹ کو مضبوط بنانا۔ریاستوں کو ہدایت کہ وہ ایس اے ایس سی آئی سے ہم آہنگ، نظرثانی شدہ اور درست تجاویز بروقت جمع کرائیں تاکہ ای-انفورسمنٹ مراعات حاصل کی جا سکیں۔

9

وی ایل ٹی ڈی

وی ایل ٹی ڈی کے نفاذ اور آپریشن سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

10

پی یو سی سی 2.0

ملک بھر میں اخراج (Emission) کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پی یو سی سی 2.0 پر آن بورڈنگ۔اخراج جانچ نظاموں کی ڈیٹا سیکیورٹی اور مستندیت کو مضبوط بنانا۔

11

ایچ ایس آر پی

01.04.2019 سے قبل رجسٹرڈ تمام گاڑیوں پر ایچ ایس آر پی کی سو فیصد تنصیب، جیسا کہ ریاستوں نے فیصلہ کیا ہے، او ای ایمز یا لائسنس یافتہ نمبر پلیٹ سازوں کے ذریعے۔ایکٹ کی دفعہ 192 کے تحت نفاذی کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانا۔

 

***

UR-317

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2212692) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali