سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی ایس آئی آر-سنٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی) نئی دہلی اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم دہرادون (سی ایس آئی آر-آئی آئی پی) کے ذریعہ تیار کردہ ایک مقامی اختراع ‘‘بائیو بٹومین بذریعہ پائرولیسس: فارم کی باقیات سے سڑکوں تک’’ کے عنوان سے کامیاب ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ بھارت ‘صاف اور سبز شاہراہوں’ کےدور میں داخل ہوگیاہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


نئی دہلی میں “بایو بٹومن بذریعہ پائرولیسس” کی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا پروگرام منعقد ہوا، جو سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی اور سی ایس آئی آر-آئی آئی پی کے ذریعے تیار کی گئی اختراع ہے

وزیرنے کہاکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی گئی سڑکیں کم بجٹ پر مشتمل ہوں گی ، زیادہ پائیدار عمر کی حامل ہوں گی ، اور ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے کے خطرے سے بھی پاک ہوں گی

بھارت کی شاہراہیں اب جیواشم ایندھن پر انحصار سے بایو پر مبنی ،  تجدیدی (ری جنریٹو) اور سرکلر معیشت کے    حل کی طرف منتقل ہو رہی ہیں:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ملکی طور پر تیار کردہ بایو بٹومن کی طرف یہ تبدیلی، سالانہ 25,000 تا 30,000 کروڑ روپے مالیت کے درآمدی بٹومن کی جگہ لینے کی معاشی صلاحیت رکھتی ہے

प्रविष्टि तिथि: 07 JAN 2026 5:00PM by PIB Delhi

یہ دن تاریخ میں یادگار حیثیت اختیار کرے گا، کیونکہ بھارت ‘‘صاف اور سبز شاہراہوں’’ کے دور میں داخل ہو رہا ہے، جسے “بایو بٹومن بذریعہ پائرولیسس: فارم کی باقیات سے سڑکوں تک” کے عنوان سے کامیاب ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔ یہ ایک مقامی اختراع ہے جسے سی ایس آئی آر-سینٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پٹرولیم (دہرادون) نے تیار کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار آج یہاں سائنس اور ٹیکنالوجی ، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور سی ایس آئی آر کے نائب صدر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ‘‘بایو بٹومین بذریعہ پائرولیسس: فارم کی باقیات سے سڑکوں تک’’ کے عنوان سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس دن کو ایک تاریخی سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا ، یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان کی شاہراہیں اب جیواشم ایندھن پر انحصار سے حیاتیاتی طور پر چلنے والے ، تخلیق نو اور سرکلر معیشت حل کی طرف منتقل ہو رہی ہیں ۔  اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی گئی سڑکیں کم بجٹ پر مشتمل ہوں گی ، زیادہ پائیدار عمر کی حامل ہوں گی ، اور ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے کے خطرے سے بھی پاک ہوں گی ۔

انہوں نے اس اقدام کو سائنس کے تمام شعبوں، حکومت کے تمام اداروں اور معاشرے کے تمام حصوں کی مشترکہ کوشش قرار دیا، جو مل کر اس قومی جامع نقطہ نظر کی نمائندگی کرتا ہے جس کا تصور وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے وکست بھارت کی تعمیر کے لیے پیش کیا تھا۔

وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حیاتیاتی ( بایو)بٹومن جیسی ٹیکنالوجیز اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح سائنسی تحقیق براہِ راست قومی مشنوں جیسے صفائی، آتم نربھر بھارت اور معاشی خود انحصاری کی خدمت کر سکتی ہے۔ انہوں نے رابطہ کاری اور آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اختراع کو اس انداز میں پیش کیا جانا چاہیے جو وسیع اسٹیک ہولڈروں  کے سمجھنے اور اسے اپنانے کے قابل ہو۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے مزید اجاگر کیا کہ اگرچہ سی ایس آئی آر کی 37 لیبارٹریز میں ہر ایک کے پاس کامیابی کی مضبوط کہانیاں ہیں، پچھلی دہائی کا زور سائنس کو شہریوں، صنعت اور ریاستوں کے لیے کھولنے پر رہا ہے۔ انہوں نے ویسٹ ٹو ویلتھ (فضلہ سے دولت) کے نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بایو بٹومن کئی چیلنجوں  کو بیک وقت حل کرتا ہے، جیسے فصل کے باقیات کا انتظام، ماحولیاتی تحفظ اور درآمدات میں کمی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت اپنی بٹومن کی ضروریات کا تقریباً 50فیصد درآمد کرتا ہے، اور بایو بٹومن جیسی اختراعات غیر ملکی انحصار کو نمایاں طور پر کم کرتے ہوئے ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں گی۔

اس تقریب میں فارم کی باقیات سے پائرولیسس کے ذریعے تیار کردہ بایو بٹومن کی صنعتی سطح پر ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو پیش کیا گیا۔ اس عمل میں فصل کے بعد کے دھان کے تنکے جمع کرنا، انہیں پیلیٹ میں تبدیل کرنا، پائرولیسس کے ذریعے بایو آئل پیدا کرنا، اور پھر اسے روایتی بٹومن کے ساتھ مکس کرنا شامل ہے۔ وسیع پیمانے پر لیبارٹری تصدیق سے ظاہر ہوا ہے کہ 20سے30فیصد روایتی بٹومن کو بغیر کسی کارکردگی کے نقصان کے محفوظ طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی جسمانی، رھیولوجیکل(سیال)، کیمیائی اور مکینیکل خصوصیات، بشمول روٹنگ(سڑک پر ٹریفک کے دباؤ سے بننے والی گہرائی یا کھائی)، دراریں (کریکننگ)، نمی سے نقصان، اور لچکدار ماڈیولس کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ 100 میٹر کی تجرباتی سڑک پہلے ہی جوروابات-شیلونگ ایکسپریس وے (این ایچ-40)، میگھالیہ میں کامیابی کے ساتھ بایو بٹومن سے بنائی جا چکی ہے، جس سے فیلڈ سطح پر اس کی صلاحیت کی تصدیق ہوئی ہے۔ ٹیکنالوجی کے لیے پیٹنٹ دائر کیا گیا ہے اور تجارتی نفاذ کے لیے متعدد صنعتیں شامل کی گئی ہیں۔

وزیر نے سی ایس آئی آر ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے بایو بٹومن کی ایجاد کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے سالانہ 25,000-30,000 کروڑ روپے مالیت کے درآمد شدہ بٹومن کی جگہ لینے کی اقتصادی صلاحیت پر روشنی ڈالی اور علاقائی وسائل پر مبنی تحقیق پر زور دیا۔

وزیر نے سڑک سازی میں متبادل مواد جیسے اسٹیل سلیگ، فضلہ پلاسٹک اور بایو فیول کے استعمال کے اپنے تجربات سے حاصل بصیرتیں بھی شیئر کیں، اور زور دیا کہ کامیاب پیمانے پر اپنانے کے لیے مقبول ٹیکنالوجی، اقتصادی صلاحیت، خام مال کی دستیابی، اور مارکیٹ میں قابل قبولیت کا امتزاج ضروری ہے۔ انہوں نے قومی شاہراہوں کے معیار میں حیاتیاتی (بایو) بٹومن کے انضمام کے لیے مکمل ادارہ جاتی حمایت کا یقین بھی دلایا۔

ڈائریکٹر جنرل ، سی ایس آئی آر اور سکریٹری ، ڈی ایس آئی آر ، این کلائیسلوی نے اس موقع کو ہندوستانی سائنس کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا، یہ بتاتے ہوئے کہ بھارت دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے بایو بٹومن ٹیکنالوجی کو اسی سال کے اندر صنعتی اور تجارتی سطح پر لے جایا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بایوماس کے پائرولیسس سے متعدد قیمتی مصنوعات حاصل ہوتی ہیں۔ سڑکوں کے لیے بایو-بائنڈر، توانائی سے موثر گیس ایندھن، بایو کیڑے مار اجزاء، اور اعلیٰ معیار کا کاربن جو بیٹریوں، پانی صاف کرنے، اور جدید مواد کے لیے موزوں ہے، جس سے یہ عمل ماحولیاتی آلودگی سے پاک، کم لاگت والا اور مستقبل کے لیے تیار بنتا ہے۔ انہوں نے ملک گیر نفاذ کے لیے بایو بٹومن کے پالیسی سطح پرامتزاج کی تجویز بھی دی۔

اس تقریب میں سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی اور سی ایس آئی آر-آئی آئی پی کی سینئر قیادت، سابقہ ڈائریکٹروں ، سائنسدانوں، صنعتی شراکت دار وں اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی، جو سائنس، حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی تقریب نے ہندوستان کی پائیدار انفراسٹرکچر، مقامی اختراع اور بایو پر مبنی اقتصادی مستقبل کے لیے عزم کو مستحکم کیا، جس سے ملک کو صاف، سبز اور خود انحصار شاہراہوں کے راستے پر مضبوطی سے آگے رکھا گیا۔

ق۱.jpg

ق۲.jpg

ق۳.jpg

ق۴.jpg

 

****

ش ح۔ ش آ۔ص ج

U-236


(रिलीज़ आईडी: 2212171) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Marathi , Telugu , English , हिन्दी , Tamil