محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محنت اور روزگار کے مرکزی وزیر نے  سات   جنوری کو گوا میں دو روزہ علاقائی سطح کی کانفرنس کا افتتاح کیا

प्रविष्टि तिथि: 07 JAN 2026 5:34PM by PIB Delhi

محنت و روزگار اور نوجوانوں  کے امور و کھیلوں  کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے  7 جنوری  ، 2026  ء کو گوا میں دو روزہ علاقائی سطح کی کانفرنس کا ورچوئل  وسیلے سے افتتاح کیا۔ یہ کانفرنس محنت و روزگار کی وزارت کی جانب سے ملک کے مختلف مقامات پر منصوبہ بند چھ علاقائی کانفرنسوں کے سلسلے کی پہلی کانفرنس تھی، جس میں  تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور اہم شراکت داروں کا احاطہ  کیا گیا  ہے۔ اس کا مقصد  ، چار لیبر کوڈز کے مؤثر نفاذ میں سہولت فراہم کرنا اور ملازمین اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن ( ای ایس آئی سی )  ، ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن  ( ای پی ایف او )   اور پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا  ( پی ایم وی بی آر وائی )   سے متعلق  معاملات پر غور و خوض کرنا تھا۔

 

1111111111111111111111

 

محنت و روزگار کے مرکزی وزیر نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے  ، اس تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے ریاستوں کی  ستائش کی کہ انہوں نے اپنے موجودہ محنت سے متعلق  قوانین میں ترمیم کرنے کے کام کو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ انجام دیا ہے  تاکہ کوڈز کے نفاذ سے پہلے  ، انہیں چار لیبر کوڈز کی دفعات کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے، جو محنت سے متعلق  اصلاحات اور فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ محنت سے متعلق مسائل کی بہتر سمجھ اور کارکنوں کی خوشحالی پر ازسرِنو توجہ  دیتے ہوئے ، یہ کوڈز 21  نومبر  ، 2025 سے نافذ   العمل ہو چکے ہیں۔  متعلقہ فریقوں نے  ، خصوصی طور پر اہم ترقی پسند دفعات کی ستائش کی ہے  اور حکومت کے اس فیصلے کا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا ہے ،   جس میں صحت کے سالانہ معائنے، خطرے سے دو چار کام کاج کرنے والے کارکنوں  ، حتیٰ کہ ایک ہی کارکن والے اداروں میں بھی    سماجی تحفظ کی فراہمی ، لازمی  طور پر تقرر نامہ   دیا  جانا   اور گریجویٹی کے لیے اہلیت کی مدت کو سابقہ پانچ سال کے بجائے ایک سال تک کم کرنا شامل ہیں ۔   آئندہ،  پیش رفت کے طور پر ، مرکز اور ریاستیں قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں گی تاکہ ان کوڈز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے، جس سے کارکنوں کی فلاح و بہبود اور فوائد میں مساوات اور برابری کو فروغ ملے۔  محنت  سے متعلق ان تاریخی اصلاحات کو بین الاقوامی میڈیا، بشمول گلوبل ٹائمز اور دی اکنومسٹ سے بھی مثبت پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے جاری بات چیت  میں پوری توجہ کے ساتھ  شرکت کریں  تاکہ بروقت غور و خوض اور  لیبر کوڈز کے مؤثر نفاذ کو ممکن بنایا جا سکے۔

 

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  ، محنت و روزگار  کی وزارت میں مرکزی سکریٹری محترمہ وندنا گُرنا نی نے بتایا کہ چار لیبر کوڈز کو 29 موجودہ  لیبر قوانین کو معقول بنا کر نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد تعمیل کو آسان بنانا اور کارکنوں کی فلاح و بہبود کو مضبوط کرنا ہے۔ ان کوڈز میں کئی ترقی پسند اقدامات شامل ہیں، جیسے ویب پر مبنی معائنے کا  نظام اور سماجی تحفظ کا مشترکہ نفاذ۔ مرکزی حکومت نے 30 دسمبر  ، 2025  ء کو  ضابطوں کا مسودہ پہلے ہی شائع کر دیا تھا ، جب کہ  وہ دفعات  ، جن کے لیے  ضابطے درکار نہیں تھے، 21   نومبر  ، 2025  ء سے نافذالعمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنے متعلقہ ضوابط جلد از جلد  اپنے  محکمۂ قانون سے مشاورت کے بعد نوٹیفائی کریں۔ نفاذ کو مزید ہموار بنانے کے لیے وزارت نے ایک عمومی سوالات  ( ایف اے کیوز )   ہینڈ بُک جاری کی ہے، وی وی گیری نیشنل لیبر انسٹی ٹیوٹ  ( وی وی جی این ایل آئی )   کے ذریعے استعدادِ کار میں اضافے کے پروگرام شروع کیے ہیں اور ایک مسودہ معائنہ اسکیم تیار کی ہے تاکہ اسے ریاستوں کے ساتھ شیئر کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شَرَم  سُویدھا اور  سَمادھان پورٹلز کے ذریعے بڑے ڈیجیٹل  اقدامات کئے گئے ہیں، جن کے لیے  بلا رکاوٹ  اے پی آئی   انٹیگریشن درکار ہے۔  ریاستوں کو  پی ایم وی بی آر وائی  کے تحت  بیداری پیدا کرنے سے متعلق مہم  میں حصہ لینے، دکان و ادارہ جاتی  قوانین کے ساتھ اوورلیپ کے مسائل کو مزید غور و فکر کے ذریعے حل کرنے اور کوڈز کے تحت  ای ایس آئی سی  کے توسیع شدہ دائرہ کار سے  فائدہ  حاصل کرنے کی بھی ترغیب دی جا رہی ہے، جس میں گِگ اور پلیٹ فارم کارکن بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، کنٹریکٹ اور آؤٹ سورس کردہ کارکنوں کو بھی  ای ایس آئی   کے تحت شامل کرنے کے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ بطور نمونہ آجر ایک مثال قائم کی جا سکے۔

 

 

یہ کانفرنس اصول  و ضوابط پر غور و خوض کرنے، کمیوں اور اختلافات کی نشاندہی کرنے، قانونی نوٹیفکیشنز  جاری کرنے میں تیزی لانے اور بورڈز، فنڈز اور متعلقہ ادارہ جاتی ڈھانچوں کی تشکیل پر  تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔ چار لیبر کوڈز کے تحت تشکیل دی جانے والی اسکیموں پر بھی مشاورت کی گئی، ساتھ ہی مؤثر نفاذ کے لیے آئی ٹی نظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گفتگو بھی ہوئی۔ کانفرنس کا مزید فوکس فیلڈ سطح کے اہلکاروں کی  صلاحیت سازی میں اضافہ کرنے اور ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور دیگر شراکت داروں میں لیبر کوڈز کے مقاصد اور نفاذ کے فریم ورک سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے پر ہوگا۔

 

 

وزارت کے سینئر افسران اور ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اہلکاروں نے کانفرنس میں شرکت کی اور فعال طور پر حصہ لیا۔

 

 ...................................................

) ش ح –    ا ع خ   -  ع ا )

U.No. 240

 


(रिलीज़ आईडी: 2212167) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil