PIB Headquarters
مشن 100 فیصد برقی کاری: بھارتی ریلوے کے مستقبل کو توانائی فراہم کرنا
प्रविष्टि तिथि:
06 JAN 2026 11:35AM by PIB Delhi
|
کلیدی اقدامات
|
- ہندوستانی ریلویز نے نومبر 2025 تک اپنے نیٹ ورک کا تقریباً 99.2فیصد کی بجلی کاری کردی ہے، جس سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر برقی نظام میں سے ایک ہے۔
- برقی کاری کی رفتار 1.42 کلومیٹر فی دن (2004-2014) سے بڑھ کر 2019-2025 میں 15 کلومیٹر فی دن سے زیادہ ہو گئی ہے، جس سے جدید کاری میں بڑے پیمانے پر تیزی آئی ہے۔
- نومبر 2025 تک، ہندوستانی ریلوے نے اپنی شمسی توانائی کی صلاحیت کو 898 میگاواٹ تک بڑھا دیا، جو کہ 2014 میں 3.68 میگاواٹ سے بڑھ کر قابل تجدید توانائی کو اپنانے میں تبدیلی کی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
|
|
ریل پٹریوں پر ایک خاموش انقلاب
|
بھارت کی ریلوے، جو کبھی زیادہ تر ڈیزل سے چلتی تھی، اب تیزی سے برقی ٹرینوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ یہ ایک جدید اور پائیدار مستقبل کی جانب بڑا قدم ہے۔ مشن 100 فیصد برقی کاری کے تحت پورے نیٹ ورک میں بجلی کی تاریں بچھائی جا رہی ہیں، جس سے ریلوے نظام تیز تر اور زیادہ مؤثر بنتا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی بھارت کے فضائی آلودگی میں کمی کرنے کے مضبوط عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف صاف ماحول کو یقینی بنایا جا رہا ہے بلکہ تیز رفتار اور موثر نقل و حمل بھی ممکن ہو رہا ہے۔
آج تقریباً پورا ریلوے نیٹ ورک برقی ٹریکشن پر چل رہا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، جیسے شمسی توانائی، کو بھی اسٹیشنوں اوردیگرکام کاج میں شامل کیا جا رہا ہے۔ توجہ بالکل واضح ہے: زیادہ ماحول دوست ٹرینیں، قابلِ اعتماد بجلی اور صاف ستھرا ماحول۔
|
ترقی کی ایک صدی: بھارت میں ریلوے کی برقی کاری کا سفر
|
بھارتی ریلوے کی برقی کاری کی کہانی 1925 میں شروع ہوئی، جب ملک کی پہلی برقی ٹرین 1500 وولٹ ڈی سی نظام سے چلتی ہوئی بمبئی وکٹوریہ ٹرمینس سے کرلا ہاربر کے درمیان دوڑی۔ یہ فاصلہ مختصر تھا مگرتاریخ ساز اہمیت کاحامل تھا۔ بھارت میں پہلی بار برقی ٹریکشن کے عملی استعمال نے زیادہ توانائی مؤثر اور زیادہ گنجائش والے ریل سفر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
ابتدائی دہائیوں میں پیش رفت محتاط رفتار سے جاری رہی۔ جب بھارت کو آزادی ملی تو صرف 388 روٹ کلو میٹر (آر کے ایم) ریل لائن کی برقی کاری ہوئی تھی، جب کہ پٹریوں پر اب بھی کوئلے اور ڈیزل کے انجنوں کی حکمرانی تھی۔ وقت کے ساتھ برقی کاری کا دائرہ بتدریج بڑھتا رہا، لیکن اصل تبدیلی گزشتہ دہائی میں آئی جب بھارتی ریلوے نے زیادہ صاف اور مؤثرنقل وحمل کے لیے اپنی کوششوں میں نمایاں تیزی پیدا کی۔
اس کا اثر غیر معمولی رہا۔ برقی کاری کی رفتار 2004 سے 2014 کے درمیان روزانہ تقریباً 1.42 کلو میٹر سے بڑھ کر 2019 سے 2025 کے درمیان اوسطاً 15 کلو میٹر یومیہ سے بھی زیادہ ہو گئی۔ یہ رفتار ظاہر کرتی ہے کہ اس نیٹ ورک کی کس قدر تیزی سے جدت طرازی کی جارہی ہے۔ برقی کاری کی گئی پٹریوں کا حصہ 2000 میں 24 فیصد سے بڑھ کر 2017 میں 40 فیصد ہوا، اور 2024 کے آخر تک 96 فیصد سے تجاوز کر گیا۔ آج ایک صدی پر محیط یہ سفر اپنے اختتامی مرحلے کے قریب ہے۔ نومبر 2025 تک بھارت نے تقریباً 69,427 روٹ کلو میٹر کی برقی کاری مکمل کر لی ہے، جو اس کے ریلوے نیٹ ورک کا تقریباً 99.2 فیصدحصہ بنتا ہے، جن میں سے 46,900 روٹ کلو میٹرکی 2014 سے 2025 کے درمیان برقی کاری کی گئی ۔


جو سفر سو سال پہلے بمبئی کے ایک مختصر مضافاتی حصے سے شروع ہوا تھا، وہ آج دنیا کے سب سے وسیع اور تقریباً مکمل برقی شدہ ریل نظاموں میں سے ایک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ برقی کاری اب بھارتی ریلوے کے اس مشن کے مرکز میں ہے جس کا مقصد مضر گیسوں کے اخراج میں کمی، کارکردگی میں اضافہ، اور ملک کے لیے زیادہ سرسبز اور تیز رفتار مستقبل فراہم کرنا ہے۔
|
موجودہ صورتحال کی جھلک: آخری مرحلوں کی برقی کاری
|
بھارت کے 70,001 رُوٹ کلو میٹر براڈ گیج نیٹ ورک کا 99.2 فیصد حصہ کی پہلے ہی برقی کاری کی جاچکی ہے۔ بھارتی ریلوے مکمل برقی کاری کی دہلیز پر کھڑا ہے، جو پائیدار، موثر اور مستقبل کے لیے تیار ریل ٹرانسپورٹ کے میدان میں ایک انقلابی کامیابی ہے۔ ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
ریاستوں میں ریلوے کی برقی کاری
25 ریاستوں/مرکزی زیر انتظام علاقوں کی مکمل طور پر برقی کاری کی جاچکی ہے، جہاں کوئی بھی براڈ گیج روٹ کلو میٹر باقی نہیں رہ گیا ہے۔
- صرف 5 ریاستوں میں برقی کاری کا کچھ حصہ باقی ہے، جو مجموعی طور پر صرف 574 روٹ کلو میٹر بنتا ہے — یعنی پورے براڈ گیج نیٹ ورک کا صرف 0.8 فیصد۔
وہ ریاستیں جہاں برقی کاری کا کام باقی ہے
|
ریاست
|
مجموعی بی جی آر کے ایم
|
برقی کاری شدہ بی جی آر کے ایم
|
برقی کاری فیصد
|
باقی ماندہ ا ٓر کے ایم
|
|
راجستھان
|
6,514
|
6,421
|
99فیصد
|
93
|
|
تمل ناڈو
|
3,920
|
3,803
|
97فیصد
|
117
|
|
کرناٹک
|
3,742
|
3,591
|
96فیصد
|
151
|
|
آسام
|
2,578
|
2,381
|
92فیصد
|
197
|
|
گوا
|
187
|
171
|
91فیصد
|
16
|
ریلوے کی برقی کاری، بھارت کی پائیدار نقل و حمل اور معاشی ترقی کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ صرف ماحولیاتی منفی اثرات کو کم نہیں کرتی بلکہ توانائی کے تحفظ کو موثر بناتی ہے، آپریشنل کارکردگی کو بہتر کرتی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں جامع ترقی کو بڑھاوا دیتی ہے۔ برقی کاری کے فوائد تیز تر اور زیادہ مؤثر ٹرین نقل وحمل سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں—یہ ریلوے کاریڈورز کے ساتھ صنعتی اور دیہی ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے، جس سے یہ قومی ترقی کا ایک طاقتور محرک بن جاتی ہے۔

|
عالمی تقابلی جائزہ: ہندوستان کا مقام
|
ریلوے کی 99.2 فیصد برقی کاری حاصل کرکے، بھارتی ریلوے نے خود کو دنیا کے سرِفہرست ریل نیٹ ورکس میں مضبوطی سے قائم کر لیا ہے۔ بڑے بین الاقوامی ریلوے نظاموں کے ساتھ تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر برقی کاری کی سطحیں مختلف ہیں اور یہ بھارت کی پیش رفت کے پیمانے اور اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔انٹرنیشنل یونین آف ریلوے(یو آئی سی) کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق اہم ممالک میں ریلوے کی برقی کاری کی صورتحال درج ذیل ہے:
|
ملک
|
ریلوے کی برقی کاری (فیصد)
|
|
سوئٹزرلینڈ
|
100فیصد
|
|
چین
|
82فیصد
|
|
سپین
|
67فیصد
|
|
جاپان
|
64فیصد
|
|
فرانس
|
60فیصد
|
|
روس
|
52فیصد
|
|
برطانیہ
|
39فیصد
|
یہ عالمی تقابلی جائزہ ترقی یافتہ ریلوے نظاموں میں بھارت کی حیثیت کو واضح کرتا ہے اور کارکردگی، پائیداری اور بین الاقوامی مسابقت کے حصول میں مسلسل برقی کاری کی کلیدی اہمیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔
|
شمسی توانائی پرمبنی ریلویز: روشن مستقبل کی راه
|
پائیدار اور مؤثر ٹرانسپورٹیشن پر بڑھتی ہوئی توجہ کے ساتھ، بھارتی ریلوے تیزی سے برقی ٹریکشن کو ترجیح دے رہی ہے، کیونکہ یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیزل ٹریکشن کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ کفایتی بھی ہے۔ بھارتی ریلوے کے 100 فیصد برقی کاری کے مشن کے سلسلے میں دو اہم مثبت پیش رفتیں سامنے آئی ہیں:
- پورے براڈ گیج نیٹ ورک کو مشن کی طرز پر برقی بنانے کا عزم، جس سے عوام کے لیے ماحول دوست، صاف اور سرسبز نقل و حمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
- قابلِ تجدید توانائی خصوصاً شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانے کا اسٹریٹجک فیصلہ، جس کے لیے ریلوے پٹریوں کے ساتھ وسیع و عریض دستیاب آراضی کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
شمسی صلاحیت کی اہم تنصیب
بھارتی ریلوے کا قابلِ تجدید توانائی کی طرف سفر ایک زیادہ سرسبز اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کی تشکیل میں فیصلہ کن قدم ہے۔ نیٹ ورک بھر میں شمسی توانائی کو اپنانے کے پیمانے اور رفتار اس عزم کو واضح کرتی ہے۔
- صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ: نومبر 2025 تک بھارتی ریلوے نے 898 میگاواٹ (ایم ڈبلیو) شمسی توانائی نصب کر لی ہے، جو 2014 میں محض 3.68 میگاواٹ تھی—یوں شمسی صلاحیت میں تقریباً 244 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- ملک گیر سطح پر صاف توانائی کی نقشِ راہ: آج یہ شمسی توانائی 2,626 ریلوے اسٹیشنوں پر نصب ہے، جو مختلف خطوں اور آپریشنل زونز میں صاف توانائی کے وسیع استعمال کو ظاہر کرتی ہے۔
شمسی توانائی کس طرح ریلوے کی برقی کاری میں مدد کرتی ہے
شمسی توانائی برقی کاری کے ہدف میں کئی طریقوں سے کردار ادا کرتی ہے:
- برقی ٹرین آپریشنز کی معاونت: کمیشن شدہ مجموعی 898 میگاواٹ شمسی صلاحیت میں سے 629 میگاواٹ (تقریباً 70فیصد) ٹریکشن کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے، یعنی یہ توانائی براہِ راست برقی ٹرینوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور روایتی گرڈ بجلی پر انحصار کم کرتی ہے۔
- غیر ٹریکشن توانائی کی ضروریات کی تکمیل: باقی 269 میگاواٹ صلاحیت غیر ٹریکشن مقاصد—جیسے اسٹیشن لائٹنگ، سروس بلڈنگز، ورکشاپس اور ریلوے کوارٹرز—کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان ضروریات کو شمسی توانائی سے پورا کر کے بھارتی ریلوے روایتی توانائی کے استعمال اور بجلی کے اخراجات میں کمی لا رہی ہے اور پورے نیٹ ورک میں توانائی کے تحفظ اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے۔

برقی کاری کے مستقبل کی تعمیر
بھارتی ریلوے برقی کاری کے منصوبوں میں کارکردگی، سلامتی اور رفتار کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی تعمیراتی طریقوں کو تیزی سے اپنا رہی ہے۔ دستی محنت پر انحصار کم کرکے اور مشینی طریقوں کو اختیار کرکے منصوبوں پر عمل درآمد زیادہ تیز، زیادہ قابلِ اعتماد اور یکساں معیار کا ہو گیا ہے۔
سلنڈریکل مشینی فاؤنڈیشن
روایتی اوور ہیڈ الیکٹریفیکیشن(او ایچ ای) فاؤنڈیشن کے لیے گہری دستی کھدائی درکار ہوتی تھی جس سے منصوبے کی رفتار کم ہو جاتی تھی۔ مشینی آگرنگ کے ذریعے نصب کی جانے والی سلنڈریکل فاؤنڈیشن کے رواج نے اس عمل کو بہت ہموار بنا دیا ہے، جس سے محنت میں کمی آئی ہے اور وقت کی نمایاں بچت ہوئی ہے۔

جدید خودکار وائرنگ ٹرین
خودکار وائرنگ ٹرین ایک ہی وقت میں کیٹینری اور کانٹیکٹ وائرز کی تنصیب کو ممکن بناتی ہے، وہ بھی درست تناؤ کے کنٹرول کے ساتھ۔ یہ جدید نظام وائرنگ کے عمل کو تیز تر بناتا ہے اور برقی کاری کے کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بناتا ہے۔

برقی کاری بھارتی ریلوے کی توانائی کے ڈھانچےکو نئی شکل دے رہی ہے، ایک قدیم نظام کو جدید پاورہاؤس میں بدل رہی ہے۔ جو نظام کبھی ڈیزل پر چلنے والا تھا، وہ اب تیزی سے ایک دلکش، برقیدہ نیٹ ورک میں ڈھل رہا ہے جو کروڑوں لوگوں کو کم شور، کم لاگت اور کم کاربن کے ساتھ سفرکی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف جدید کاری نہیں، بلکہ ایک طاقتور مہم ہے۔ بھارت میں ریلوے کی برقی کاری اب محض تکنیکی اپ گریڈ نہیں رہی؛ یہ ایک قومی داستان ہے جہاں بنیادی ڈھانچہ خوابوں سے جڑتا ہے اور جہاں ہر نیا برقی شدہ راستہ زیادہ تیز، زیادہ سرسبز اور زیادہ مربوط سفر کا وعدہ بن کر اُبھرتا ہے۔
وزارتِ ریلوے
https://core.indianrailways.gov.in/view_section.jsp?lang=0&id=0,294,302
https://core.indianrailways.gov.in/view_section.jsp?lang=0&id=0,294,302,530
https://indianrailways.gov.in/railwayboard/uploads/directorate/ele_engg/2025/Status%20of%20Railway%C2%A0Electrification%20as%20on%C2%A030_11_2025.pdf
https://nfr.indianrailways.gov.in/railwayboard/uploads/directorate/secretary_branches/IR_Reforms/Mission%20100%25%20Railway%20Electrification%20%20Moving%20towards%20Net%20Zero%20Carbon%20Emission.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2078089
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2205232
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204797
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2203715
100 فیصد برقی کاری کامشن: بھارتی ریلوے کے مستقبل کو توانائی فراہم کرنا
***
(ش ح ۔ش ب ۔ف ر)
U. No. 220
(रिलीज़ आईडी: 2211991)
आगंतुक पटल : 8