امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے بی آئی ایس میں  ضابطہ کاری سے سہولت کاری کی جانب تبدیلی پر روشنی ڈالی کیونکہ بی آئی ایس ہندوستان کے معیار کے منظر نامے کو تبدیل کررہا ہے


بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کا یوم تاسیس اہم اقدامات کے آغاز اور اجرا کے ساتھ منایا گیا

प्रविष्टि तिथि: 06 JAN 2026 7:18PM by PIB Delhi

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کا 79واں یومِ تاسیس آج نئی دہلی میں کلیدی اقدامات کے آغاز اور اجرا کے ساتھ منایا گیا۔اس موقع پر صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی کے علاوہ صارفین کے امور اور سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے وزیرِ مملکت جناب بی ایل ورما نے بھی شرکت کی۔

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس)، جو وزارتِ صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے تحت صارفین کے امور کے محکمے کے زیرِ انتظام ہندوستان کا قومی معیار سازی ادارہ ہے، اختراع، ڈیجیٹل تبدیلی اور جامع رسائی کے ذریعے ملک کے معیار اور کوالٹی کے ماحولیاتی نظام کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔23,300 سے زائد ہندوستانی معیارات کے ساتھ، بی آئی ایس مختلف شعبوں میں مصنوعات اور خدمات کی حفاظت، قابلِ اعتماد ہونے اور عالمی مسابقت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے بی آئی ایس کی تبدیلی اور عالمی کردار کو اجاگر کیا

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب پرہلاد جوشی نے کہا کہ بی آئی ایس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بہترین طریقوں کی تشکیل اور ان کے نفاذ کے ذریعے معیار سازی کے شعبے میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیارات اب روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ قابلِ تجدید توانائی، برقی نقل و حرکت، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، پائیداری، سبز مصنوعات کے ساتھ ساتھ بم ناکارہ بنانے کے نظام اور برقی زرعی ٹریکٹر جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کا بھی احاطہ کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران عزت مآب وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بی آئی ایس نے ایک بنیادی تبدیلی سے گزر کر ضابطہ جاتی نقطۂ نظر سے سہولت کاری اور تعمیل سے معیار کی ثقافت کی جانب پیش رفت کی ہے۔
کاروبار کرنے میں آسانی پر حکومت کی توجہ کے مطابق، بی آئی ایس نے تعمیلی طریقۂ کار کو معقول بنایا ہے، ایم ایس ایم ایز اور لیبارٹریوں کے لیے فیس میں نرمی فراہم کی ہے، بڑی صنعتوں کے لیے اندرونِ خانہ لیبارٹری کی شرط کو اختیاری بنایا ہے، اور صارفین تک پہنچنے والی مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے مارکیٹ نگرانی کو مزید مضبوط کیا ہے۔

ایم ایس ایم ایز کی معاونت کے لیے، بی آئی ایس نے مائیکرو اداروں کے لیے سالانہ کم از کم مارکنگ فیس میں 80 فیصد، چھوٹے اداروں کے لیے 50 فیصد اور درمیانے درجے کے اداروں کے لیے 20 فیصد رعایت فراہم کی ہے۔
وزیر موصوف نے کوالٹی کنٹرول اہلکاروں کی صلاحیت سازی کے لیے ای۔لرننگ ماڈیولز کے آغاز کو بھی اجاگر کیا۔

ہال مارکنگ اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب جوشی نے کہا کہ یکم ستمبر 2025 سے شروع کی گئی سلور ایچ یو آئی ڈی ہال مارکنگ اسکیم صارفین کے تحفظ اور شفافیت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
نئے نظام کے تحت اب تک 21 لاکھ سے زائد چاندی کی اشیا کو ہال مارک کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ سلور ہال مارکنگ رضاکارانہ ہے، تاہم یکم ستمبر 2025 سے ایچ یو آئی ڈی پر مبنی مارکنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر نے بی آئی ایس اسٹینڈرڈائزیشن پورٹل کے بیٹا لانچ، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مانک سے مہیلا شکتی مہم، اور سالانہ امتیازی اعترافی اسکیم بی آئی ایس–سکشم کے آغاز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بی آئی ایس کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے حالیہ بین الاقوامی الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن (آئی ای سی) کی جنرل میٹنگ کی میزبانی کا ذکر کیا، جس میں صارفین سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔

آگے کی راہ

مستقبل کے لائحۂ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب جوشی نے بی آئی ایس لیبارٹریوں کی مسلسل اپ گریڈیشن، قومی ترجیحی شعبوں کے لیے تیز رفتار معیار سازی، اور بین الاقوامی معیار سازی میں ہندوستان کی مضبوط قیادت پر زور دیا۔
انہوں نے سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس کے وژن کے مطابق میڈ اِن انڈیا کو ہندوستان میں قابلِ اعتماد اور دنیا میں قابلِ اعتماد میں تبدیل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

 

اس موقع پر شروع کی گئی اہم اسکیمیں اور اقدامات

بی آئی ایس اسٹینڈرڈائزیشن پورٹل کا بیٹا لانچ
نئے بی آئی ایس اسٹینڈرڈائزیشن پورٹل کا بیٹا ورژن ایک مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جو معیارات کی تیاری کے پورے لائف سائیکل کو ایک ہی انٹرفیس میں یکجا کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم تجویز سے لے کر اشاعت تک، معیارات کی تیاری، جائزہ اور ماہرین کے اشتراک کے لیے مخصوص ماڈیولز کے ذریعے مکمل ورک فلو کو ہموار بناتا ہے۔
جدید ڈیٹا پر مبنی ڈیش بورڈز اور رول پر مبنی رسائی کی سہولت کے ذریعے، یہ پورٹل معیارات کی تیاری سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے زیادہ شفافیت، شمولیت اور تیز رفتاری کو یقینی بناتا ہے۔

ہندوستانی معیارات کے ذریعے سیلف ہیلپ گروپس کی حساسیت کے ذریعہ خواتین کو بااختیار بنانا

شائن – معیارات بااختیار خواتین کو مطلع کرتے ہیں اور ان کی پرورش میں مدد دیتے ہیں بی آئی ایس کی ایک نئی اسکیم ہے، جو خواتین کو ہندوستان کے معیاری سفر کے مرکز میں رکھتی ہے۔
منظم تربیت، این جی اوز اور سیلف ہیلپ گروپس کے ساتھ نچلی سطح کی شراکت داری، اور عملی و مقامی سطح پر فراہم کردہ پروگراموں کے ذریعے، یہ اسکیم خواتین کو ایسے علم سے بااختیار بناتی ہے جو نہ صرف خاندانوں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے بلکہ ذریعۂ معاش کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

یہ پہل خواتین کو محض صارفین کے طور پر نہیں بلکہ تبدیلی کے محرک کے طور پر دیکھتی ہے، جو گھروں، سیلف ہیلپ گروپس اور برادریوں میں معیارات، تحفظ اور معیار سے متعلق آگاہی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

راشٹریہ ای۔پستکلے پر بی آئی ایس کا تعلیمی ادب

بچوں میں معیارات، معیار، تحفظ اور جعلی مصنوعات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے، بی آئی ایس نے اپنی تعلیمی سیریز کے تحت دل چسپ مزاحیہ کتابیں تیار کی ہیں، جو پرنٹ اور ٹو ڈی اینیمیٹڈ دونوں فارمیٹس میں دستیاب ہیں۔
سادہ زبان اور بصری کہانی گوئی کے ذریعے، اس پہل کا مقصد کم عمری ہی سے معیار کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

یہ کتابیں اب راشٹریہ ای۔پستکلے پلیٹ فارم پر مفت مطالعے کے لیے دستیاب ہیں، جو وزارتِ تعلیم کے اسکولی تعلیم اور خواندگی کے محکمے کی ایک فلیگ شپ ڈیجیٹل لائبریری پہل ہے۔
خاص طور پر بچوں اور نوعمروں کے لیے تیار کی گئی اس قومی ڈیجیٹل لائبریری کے 3.17 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ صارفین ہیں۔ یہ اشتراک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سائنس آف اسٹینڈرڈز ہر طالب علم کے تعلیمی سفر کا ایک قابلِ رسائی اور لازمی حصہ بن جائے۔

آئی آئی آئی ٹی دھارواڑ، آئی آئی ٹی پلکڑ اور این آئی ٹی اروناچل پردیش کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

بی آئی ایس نے ہندوستانی معیارات کو تعلیمی نصاب میں ضم کرنے، معیارات سے پہلے کے آر اینڈ ڈی منصوبوں کو فروغ دینے اور انجینئرنگ کے طلبہ کو معیارات سے واقف پیشہ ور افراد میں تبدیل کرنے کے لیے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) طے کی ہیں۔
اس دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے آئی آئی آئی ٹی دھارواڑ، آئی آئی ٹی پلکڑ اور این آئی ٹی اروناچل پردیش کو بھی ایم او یو پارٹنرز کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

ایم او یو شراکت داروں کے طور پر بی آئی ایس اسٹوڈنٹس چیپٹرز کی پہل کو بھی وسعت دی جائے گی۔ اس وقت 21,000 سے زائد انجینئرنگ طلبہ ملک بھر میں 400 سے زیادہ طلبہ چیپٹرز میں اندراج شدہ ہیں۔
بی آئی ایس نے 27 تعلیمی اداروں کے نصاب میں براہِ راست معیارات سے متعلق تصورات کو شامل کرنے کے لیے ماہرینِ تعلیم کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور 17 معیاری چیئرز قائم کی ہیں۔

بی آئی ایس–سکشم سالانہ ایکسیلنس ریکگنیشن اسکیم کا آغاز

اس موقع پر بی آئی ایس–سکشم (علم، ہنر اور اعلیٰ اثر والی قابلیت کو تسلیم کرنے کی اسکیم) کے تحت سالانہ ایکسیلنس ریکگنیشن اسکیم کا بھی آغاز کیا گیا، جو تنظیم کے اندر علم، مہارت اور اعلیٰ اثر رکھنے والی صلاحیتوں کے منظم اعتراف کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔

بین الاقوامی اعزاز

جناب امان دیپ سنگھ (ڈی جی ایم، پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ) کو ہندوستانی یو ایچ وی ٹرانسمیشن لائن انجینئرنگ کے تجربات سے آئی ای سی ورکنگ گروپس کے کام میں ان کی غیر معمولی شراکت کے اعتراف میں 1906 کے باوقار آئی ای سی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

صارفین کا اعتماد، مواصلات اور تعلیمی مشغولیت

صارفین کے امور کے محکمے کے ایڈیشنل سکریٹری جناب بھارت کھیرا نے اس بات پر زور دیا کہ بی آئی ایس صارفین کا اعتماد بڑھانے اور آتم نربھر بھارت کے وژن کی حمایت کے ذریعے ملک کے معیار سازی کے ڈھانچے میں ایک مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے بی آئی ایس کی ڈیجیٹل تبدیلی، بالخصوص آن لائن اسٹینڈرڈ ڈیولپمنٹ ماڈیول کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ٹائم لائنز کو کم کرتا ہے اور شفافیت و شرکت میں اضافہ کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معیارات محض ریگولیٹری آلات نہیں بلکہ معیار کی ثقافت کو فروغ دینے کے ایسے ذرائع ہیں جو وقت کے ساتھ فطری عادت بن جاتے ہیں۔
صارفین کو بااختیار بنانے کے تناظر میں، انہوں نے بی آئی ایس کیئر ایپ جیسے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے عام فہم اور متعلقہ زبان میں معیارات کی معلومات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

بی آئی ایس کی کامیابیاں اور ڈیجیٹل تبدیلی

اپنے خطاب میں بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے ڈائریکٹر جنرل جناب سنجے گرگ نے کہا کہ سال 2025 بی آئی ایس کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا ہے۔ اس دوران بی آئی ایس نے 600 سے زائد نئے معیارات تیار کیے، جس کے نتیجے میں معیارات کی مجموعی تعداد 23,293 تک پہنچ گئی۔ یہ معیارات آیوش، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، ماحولیات اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمیت متنوع شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فاسٹ ٹریک سرٹیفیکیشن اسکیم کے تحت مصنوعات کی تعداد میں 758 سے بڑھ کر 1,288 تک اضافہ ہوا، جس سے پروڈکٹ سرٹیفیکیشن میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ صرف 2025 کے دوران تقریباً 9,700 نئے لائسنس 30 دنوں کے اندر جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں پروڈکٹ سرٹیفیکیشن لائسنسوں کی مجموعی تعداد 51,500 سے تجاوز کر گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلی مرتبہ 2025 میں 124 نئی مصنوعات کو لازمی بی آئی ایس سرٹیفیکیشن کے دائرۂ کار میں لایا گیا، جس سے تصدیق شدہ مصنوعات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 1,437 سے زائد ہو گئی۔ ان میں قابلِ ذکر اضافوں میں کرنسی نوٹ چھانٹنے والی مشینیں (ریزرو بینک آف انڈیا کے تعاون سے) اور آئی ایس او معیارات کے مطابق مشینری کی حفاظت کے لیے انجیکشن مولڈنگ مشینیں شامل ہیں۔

جناب گرگ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بی آئی ایس نے مانک آن لائن پورٹل، لائسنسنگ کے آسان طریقۂ کار، فاسٹ ٹریک ٹرائل لائسنس، کلسٹر پر مبنی جانچ کی سہولیات اور جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے جیسے اقدامات کے ذریعے ڈیجیٹلائزیشن سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں آسان طریقۂ کار کے تحت 98 فیصد لائسنس اور عام طریقۂ کار کے تحت 85 فیصد لائسنس 30 دنوں کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں۔

بی آئی ایس کے یومِ تاسیس کی تقریب میں مختلف اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جن میں صنعتی انجمنیں، صارفین کے امور کے محکمے کے افسران، تعلیمی ادارے اور دیگر نمائندے شامل تھے۔
اس موقع پر محکمۂ صارفین کے امور (ڈی او سی اے) کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشیرِ خزانہ جناب سنجیو شنکر، جناب ایچ۔جے۔ایس پسریچا، ڈی ڈی جی (سرٹیفیکیشن) لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) کمار شانتانو اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

***


 

UR-214

(ش ح۔اس ک  )

 


(रिलीज़ आईडी: 2211892) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Kannada