پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سالانہ جائزہ 2025: پنچایت راج کی وزارت


سوامتوا  اسکیم نے ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا اور 2.75 کروڑ سے زائد دیہی جائیداد کے کارڈز تیار کیے

ورلڈ بینک سے لے کر جیو اسمارٹ انڈیا تک: بھارت نے ارضیاتی حکمرانی اور پنچایت سطح پر جغرافیائی مقامی منصوبہ بندی میں قیادت کا مظاہرہ کیا ہے

نیشنل پنچایتی ایوارڈز–2025 نے ماحولیاتی –اسمارٹ اور مالی طور پر خودمختار پنچایتوں کو سراہا

ا ے آئی  پر مبنی ٹول‘سبھا سار’ متعارف کرایا گیا تاکہ گرام سبھا کے اجلاس کے ریکارڈ رکھنے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے

‘فلیرا کا پنچایتی راج’: او ٹی ٹی پروگرام کے ذریعے پراکسی نمائندگی پر توجہ دی گئی، ڈیجیٹل گورننس اور پنچایت کی مالی اعانت کو فروغ دیا گیا

نیشنل ماڈل یوتھ گرام سبھا کی شروعات کی گئی تاکہ نوجوانوں کی مقامی جمہوریت میں شمولیت کو فروغ دیا جاسکے

پی ای ایس اے مہوتسو کو سالانہ پروگرام بنایا گیا؛ اگلا ایڈیشن چھتیس گڑھ میں منعقد ہوگا

‘میری پنچایت’ پلیٹ فارم نے عالمی سطح پر شناخت حاصل کی اور ڈبلیو ایس آئی ایس چیمپئن ایوارڈ 2025 جیتا

متعدد اقدامات کیے گئے تاکہ پنچایت کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے، خواتین کے لیے دوستانہ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے اور مالی خودمختاری کو مضبوط بنایا جا سکے

प्रविष्टि तिथि: 29 DEC 2025 6:41PM by PIB Delhi

سال 2025 پنچایتی راج  کی وزارت کی مسلسل کوششوں میں ایک اہم مرحلہ تھا، جس کا مقصد پنچایتی راج اداروں کو مضبوط کرنا اور دیہی بھارت میں زمینی سطح کی حکمرانی کو فروغ دینا تھا۔ اس سال وزارت نے صلاحیت سازی، تربیت، ڈیجیٹل گورننس، ادارہ جاتی مضبوطی، اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کمیونٹی کی شرکت کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ زور اس بات پر رہا کہ پنچایت سطح کی منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جائے، منتخب نمائندوں کو بااختیار بنایا جائے، خواتین کی شمولیت کو فروغ دیا جائے اور شہری شرکت کو بڑھایا جائے۔ یہ اقدامات مقامی سطح پر پائیدار ترقی کے مقاصد کی ترویج اور وکست بھارت کے وژن کے ساتھ ہم آہنگ تھے، اور ان کے ذریعے پنچایتوں کے دیہی پائیدار ترقی میں مرکزی کردار کو مزید مضبوط کیا گیا۔ سال کے دوران کیے گئے بڑے اقدامات اور حاصل شدہ پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

 

1. سوامتوا جائیداد کارڈ کی تقسیم – 2.75 کروڑ سے زائد کارڈز تیار کرنے کا سنگِ میل حاصل کیا گیا

وزیر اعظم، جناب نریندر مودی نے 18 جنوری 2025 کو سوامتوا اسکیم کے تحت جائیداد کارڈز کی تقسیم سے متعلق پروگرام کی صدارت کی، جس کے تحت 65 لاکھ دیہی شہریوں کو ایک دن میں قانونی ملکیت کے دستاویزات فراہم کیے گئے۔کارڈ تقسیم کی یہ تقریب 10 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 50,000 سے زائد دیہاتوں میں منعقد ہوئی، جس سے سوامتوا کے تحت کل جائیداد کارڈز کی تعداد 2.25 کروڑ تک پہنچ گئی۔اس تقریب میں مرکزی وزراء، وزرائے اعلیٰ، گورنرز، لیفٹیننٹ گورنرز اور 237 اضلاع کے نمائندگان نے شرکت کی۔

 سوامتوا اسکیم: دیہی بھارت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانا

سوامتوا (دیہی علاقوں میں بہتر ٹکنالوجی کے ساتھ دیہی علاقوں کا سروے اور اس کا نقشہ سازی)  اسکیم کے تحت، 16 دسمبر 2025 تک، 3.28 لاکھ دیہاتوں میں ڈرون کے ذریعے سروے مکمل ہو چکا ہے اور تقریباً 2.76 کروڑ پراپرٹی کارڈز 1.82 لاکھ دیہاتوں کے لیے تیار کیے جا چکے ہیں۔ ڈرون سرویز مدھیہ پردیش، اتر پردیش، چھتیس گڑھ، دہلی، اروناچل پردیش، لداخ، اور آسام میں مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ اسکیم ہریانہ، اتراکھنڈ، پڈوچیری، دادر  و نگر حویلی اور دمن و دیو، اور انڈمان و نکوبار جزائر میں مکمل طور پر نافذ ہو چکی ہے۔

 

1.2 بین الاقوامی شناخت اور علم کی منتقلی

ورلڈ بینک لینڈ کانفرنس (5 – 8 مئی، 2025): بھارت نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک لینڈ کانفرنس 2025 میں بطور "چیمپئن ملک " شرکت کی، اور جامع ارضیاتی حکمرانی اور دیہی سطح پر بااختیار بنانے میں اپنی قیادت کو اجاگر کیا۔ پنچایت راج  کی وزارت کے سکریٹری جناب وِیویک بھردواج نے ‘‘زمین کی ملکیت اور حکمرانی میں اصلاحات میں اچھے طریقے اور چیلنجز" کے موضوع پر ہائی-لیول پلینری اجلاس سے خطاب کیا، جس میں سوامتوا اسکیم کے اثرات کو نمایاں کیا گیا۔ وزارت نے "گرام مان  چتر" پیش کیا، جو ہندستان کا جی آئی ایس پر مبنی اسپیشل پلاننگ پلیٹ فارم ہے، اور اس کے ذریعے پنچایت سطح پر پائیدار دیہی ترقی کے لیے فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے کا رول دکھایا گیا۔

 

 

 1.3 زمین کی حکمرانی پر بین الاقوامی ورکشاپ (24 – 29 مارچ، 2025)

زمین کی حکمرانی پر چھ روزہ بین الاقوامی ورکشاپ وزارت کی جانب سے ہریانہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (ایچ آئی پی اے)، گروگرام میں منعقد کی گئی، جس میں آئی ٹی ای سی پروگرام کے تحت وزارت خارجہ کی حمایت بھی شامل تھی۔ اس ورکشاپ میں افریقہ، لاطینی امریکہ، اور جنوب مشرقی ایشیا کے 22 ممالک کے سینئر افسران نے شرکت کی، اور اس میں ارضیاتی حکمرانی پر انٹرایکٹو سیشنز اور عملی مظاہرے شامل تھے۔ یہ ورکشاپ علم کے تبادلے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کا کام کرتا ہے، جس میں بھارت نے سوامتوا اسکیم کے تحت ڈرون پر مبنی زمین کے سرویز اور ڈیجیٹل پراپرٹی ریکارڈز جیسی اختراعات کو پیش کیا۔

 2. مقامی منصوبہ بندی اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کا انضمام

2.1 “نوین گرام” بہتر ڈی پی ایس ڈی پی سے متعلق قومی ورکشاپ

 

17–18 جولائی 2025 کو مدھیہ پردیش کے بھوپال میں  مقامی ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بہتر گرام پنچایت پر دو روزہ قومی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس کی صدارت ایم او پی آر کے سکریٹری جناب  وِیویک بھردواج نے کی۔ ورکشاپ میں تقریباً 165 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں گرام پنچایت کے افسران، منصوبہ بندی کے ادارے اور مختلف ریاستوں کے سرکاری اہلکار شامل تھے۔ بہتر ڈی پی ایس ڈی پی بھارت کے 14 ریاستوں کے 36 گرام پنچایتوں میں تیار کیا گیا، جس میں آئی آئی ٹی ایز، سی ای پی ٹی، ایس پی اے ایس، اور اینی آئی ٹیز سمیت 19 قومی شہرت یافتہ شریک اداروں کی مدد شامل تھی۔

 

2.2 –جیو اسمارٹ انڈیا2025

وزارت نے جیو اسمارٹ انڈیا  2025 (1 سے 4 دسمبر 2025) کو جیو اسپیشل ورلڈ کے تعاون سے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ سکریٹری ایم او پی آر جناب وِیویک بھردواج نے‘‘ون نیشنل ون میپ’’ کے موضوع پر اختتامی  سیشن سے خطاب کیا۔ وزارت نے اپنا خصوصی پویلین ‘‘ڈیجیٹل میپ@  گرام پنچایت’’  پیش کیا، جس نے شرکاء کی توجہ حاصل کی اور انہیں سوامتوا، میری پنچایت، ای گرام سوراج ،میری  پنچایت، سبھا سار، پنچایت نرنئے، گرام مان چتر اور جی پی ایس ڈی پی جیسے اہم ڈیجیٹل اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

 

3. قومی پنچایتی راج ڈے کی تقریبات

24 اپریل 2025 کو مدھیہ پردیش کے مدھوبنی ضلع میں لوہنا اُتّر گرام پنچایت میں قومی پنچایتی راج ڈے منایا گیا، جس میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی موجود تھے۔ اس موقع پر، قومی پنچایت ایوارڈز 2025 کی خصوصی زمرے کے تحت چھ گرام پنچایتوں کو موسمیاتی اقدامات اور خود کی آمدنی کے ذرائع کی تشکیل میں ان کی نمایاں کارکردگی پر نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، تین اداروں کو پنچایت کے نمائندوں اور اہلکاروں کی صلاحیت سازی میں ان کی شراکت کے لیے ایوارڈ دیے گئے۔ تقریب میں 13,480 کروڑ روپے سے زائد کی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز اور سنگ بنیاد رکھا گیا، جو ہاؤسنگ، دیہی ترقی، توانائی، نقل و حمل، اور رابطہ کاری کے شعبوں میں شامل ہیں۔

 

 

 4. عوامی شعور کے لیے او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل آگاہی

وزارت نے پنچایتی راج سے متعلق اہم مسائل پر عوامی شعور بڑھانے کے لیے مقبول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کا اقدام اٹھایا۔ "پھلیرا کا پنچایتی راج‘‘، مشہور شو/ویب سیریز ‘‘پنچایت’’ کی ہندی ویب سیریز کی توسیع، تیار کی گئی تاکہ حکمرانی سے متعلق اہم پیغامات کو دلچسپ تفریحی انداز میں پہنچایا جا سکے۔ اس سیریز نے یوٹیوب پر 4 کروڑ سے زائد ویوز حاصل کیے ہیں، اور وزارت کے یوٹیوب چینل پر اضافی 79 لاکھ ویوز بھی ہیں۔ تمام ایپی سوڈ ہندی میں تیار کئے گئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی کے لیے انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں۔

سال 2025 میں تین ایپی سوڈ جاری کئے گئے، جن میں پنچایتی راج کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا، جن میں شامل ہیں:

 

‘‘اصلی پردھان کون؟’’ 4 مارچ 2025 کو جاری کیا گیا یہ ایپی سوڈ پنچایتی راج کی منتخب خاتون نمائندگان کی حقیقی قیادت کو فروغ دیتی ہے اور پراکسی نمائندگی کے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔

 ‘‘پھلیرا میں چوری – 12 مارچ 2025 کو جاری ہوا یہ ایپی سوڈ دکھاتا ہے کہ کس طرح میری پنچایت ایپ اور سوامتوا جیسے ڈیجیٹل سروسز شفاف اور قابل رسائی حکمرانی کو ممکن بناتے ہیں۔

 

 "الہوا وکاس" – 24 اپریل 2025 کو جاری ہوا یہ ایپی سوڈیہ پیغام دیتا ہے کہ شہریوں کی شراکت کے ذریعے گرام پنچایتوں کو خودمختار بنانے کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) کو بڑھانا ضروری ہے۔

 یہ معلوماتی تفریح  کے ذریعے حکمرانی کی آگاہی پھیلانے کا جدید طریقہ شہریوں، خصوصاً نوجوانوں تک اہم پیغامات پہنچانے میں ایک اہم قدم ہے، جو شرکت پر مبنی جمہوریت اور دیہی سطح پر ڈیجیٹل حکمرانی کے بارے میں شعور پیدا کرتا ہے۔

5. سبھا سار: اے آئی  پر مبنی میٹنگ کی دستاویز کاری ٹول

 

وزارت نے سبھا سار متعارف کرایا، جو ایک اے آئی پر مبنی میٹنگ کے خلاصےکا ٹول ہے۔ یہ ٹول گرام سبھاؤں کی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ سے خودکار طور پر منظم منٹس تیار کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ کے ذریعے یہ ٹول 13 علاقائی زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے، اور اے آئی  پر مبنی ترجمہ انجنز حکومت کے قومی زبان ترجمہ پلیٹ فارم بھاشینی کے ساتھ مربوط ہیں۔10 دسمبر 2025 تک، 30 ریاستوں/یو ٹی میں 92,869 گرام پنچایتوں نے 1,43,124 میٹنگز منعقد کیں اور سبھا سار ٹول کے ذریعے خودکار منٹس تیار کیے، جس سے دستاویز کاری کا بوجھ کافی کم ہوا اور مقامی حکمرانی میں شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوا۔

 

 

 6. ای گرام سوراج : مالی انتظام کو مضبوط بنانا

ای گرام سوراج ، کام کی بنیاد پر اکاؤنٹنگ ایپلیکیشن، جو اب 22 بھارتی زبانوں میں دستیاب ہے، پنچایتوں کے مالی انتظام کو بہتر بنانے میں مسلسل کردار ادا کر رہی ہے:

  • 2.52 لاکھ گرام پنچایتوں اور 5,400 بلاک پنچایتوں نے اپنے ترقیاتی منصوبے(جی پی ڈی پی اور بیپی ڈی پی ) اپلوڈ کیے۔
  • 2.52 لاکھ گرام پنچایتوں نے سال 2025-26 کے لیے ای گرام سوراج-پی ایف ایم ایس انٹیگریشن کو فعال کیا۔
  • 2.25 لاکھ گرام پنچایتوں نے 2025-26 میں آن لائن ادائیگیاں شروع کیں، جس کے ذریعے تقریباً 34,573 کروڑ روپے مستفیدین اور وینڈرز کو منتقل کیے گئے۔
  • 93فیصد گرام پنچایتوں نے سال 2024-25 کے لیے اپنی سالانہ کتابیں بند کیں۔

 

  • 87فیصد گرام پنچایتوں نے 2025-26 کے لیے ماہانہ کتابیں بند کیں۔
  • وہ تمام گرام پنچایتیں جو مرکزی مالی کمیشن کی گرانٹس حاصل کر رہی ہیں، 100فیصد ایل جی ڈی کے  مطابق ہیں۔

 

7. آڈٹ آن لائن: مالی جوابدہی کو یقینی بنانا

 

آڈٹ ا ٓن لائن  ایپلیکیشن گرام پنچایت اکاؤنٹس کے شفاف آن لائن آڈٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ سال 2024-25 کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

 

سرگرمی

نمبرس

آٓڈیٹرس کو لسٹ میں شامل کیا گیا

12,136

آڈیٹیز لسٹ میں شامل کیا گیا

2,62,329

آڈٹ کی منصوبہ بندی کو تیار کیا گیا

1,67,218 گرام  پنچایت

آڈٹ رپورٹس کوجنریٹ کیا گیا

55,318

 

8. بین الاقوامی شناخت

“میری پنچایت – بھارت کی پنچایتوں کے لیے ایم گورننس پلیٹ فارم” کو جنیوا میں ڈبلیو ایس آئی ایس  ہائی لیول ایونٹ (7–11 جولائی 2025) میں ڈبلیو ایس آئی ایس  چمپیئن ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا، جو دیہی ای-گورننس میں بھارت کی جدت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ اقدامات حکومت کے ڈیجیٹل انڈیا، اچھے حکمرانی، اور آتم نربھر بھارت کے وژن کے مطابق ہیں، اور دیہی اداروں کو شرکت پر مبنی جمہوریت اور شفاف حکمرانی کے لیے ڈیجیٹل ٹولز فراہم کرتے ہیں۔

9. صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی مضبوطی

پنچایت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا

وزارت نے پنچایت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور پنچایتی راج اداروں کے ذریعے خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ بنیادی ڈھانچے کے کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مکمل تکمیل کے نقطہ نظر کو اپنایا گیا ۔ 1,638 مقامات پر گرام پنچایت بھونوں کی تعمیر کے لیے فنڈز منظور کیے گئے، تاکہ 3,000 سے زائد آبادی والے تمام گرام پنچایتوں کے لیے مخصوص دفتری جگہیں دستیاب ہوں۔

 

نمبر شمار

ریاست/مرکزکے زیر انتظام علاقے

پنچایت بھون کی منظوری دی گئی

1

اوڈیشہ

500

2

پنجاب

500

3

اتراکھنڈ

200

4

اتر پردیش

200

5

چھتیس گڑھ

70

6

مغربی بنگال

87

7

تریپورہ

61

8

ہماچل پردیش

18

9

انڈمان اور نکوبار جزائر

2

کل

1,638

بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے علاوہ وزارت نے دفتری عمارتوں کے ساتھ گرام پنچایتوں کے لئے 19472 کمپیوٹر کی فراہمی کو منظوری دے کر ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کی پہل کو ترجیح دی ہے

نمبر شمار

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

کمپیوٹر  کو منظوری دی گئی

1

چھتیس گڑھ

4,585

2

پنجاب

4,000

3

اتراکھنڈ

3,000

4

بہار

2,000

5

تلنگانہ

1,834

6

مغربی بنگال

1,600

7

مہاراشٹر

680

8

کیرالہ

200

9

اوڈیشہ

200

10

آسام

868

11

ناگالینڈ

344

12

ہماچل پردیش

75

13

گجرات

43

14

گوا

25

15

تریپورہ

18

کل

19,472

 

 

10. خواتین کی قیادت میں ترقی کے اقدامات

10.1 ‘سشکت پنچایت نیتری ابھیان’ کا آغاز

 

منتخب خاتون نمائندگان کی قومی ورکشاپ (4–5 مارچ، نئی دہلی): وگیان بھون میں 1200 سے زائد خواتین پنچایت قائدین کے اجتماع میں ایک خصوصی تربیتی ماڈیول کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد قیادت، بات چیت اور فیصلہ سازی کی مہارتوں کو مضبوط بنانا تھا۔ بھارت بھر سے آئی ہوئی ممتاز خواتین قائدین کو ان کی دیہی سطح پر حکمرانی میں شراکت کے لیے اعزازات سے نوازا گیا۔

 

 

 

 ماڈل خواتین دوست گرام پنچایتوں پر قومی کنونشن (5 مارچ):ہر ضلع میں ایک ماڈل خواتین دوست گرام پنچایت قائم کرنے کے وژن کے تحت منعقد ہونے والے اس کنونشن میں 300 شرکاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر 1,200 منتخب خاتون نمائندگان اور اہلکاروں کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا۔

 

 

بین الاقوامی یومِ خواتین کی سرگرمیاں (8 مارچ):ماڈل خواتین دوست گرام پنچایت  کے تحت منتخب گرام پنچایتوں میں تربیتی اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔ مہیلا سبھائیں ملک بھر میں منعقد کی گئیں تاکہ گرام سبھا کے عمل میں خواتین کی شرکت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

 

10.2 منتخب خاتون نمائندگان کی صلاحیت سازی

سشکت پنچایت نیتری ابھیان کے آغاز کے بعد ، ٹرانسفارمنگ رورل انڈیا (ٹی آر آئی) فاؤنڈیشن کے تعاون سے ‘‘چیمپئننگ چینج: امپاورنگ ویمن لیڈرز ان لوکل گورننس’’ پر ٹرینرز کی تربیت (ٹی او ٹی) پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ۔  2025-26 کے دوران ، وزارت نے اپریل سے اگست تک آئی آئی پی اے نئی دہلی (پانچ بیچ) اور لکھنؤ ، گوہاٹی اور تمل ناڈو میں ایس آئی آر ڈی سمیت اہم اداروں میں صلاحیت سازی کے آٹھ بیچوں کا کامیابی سے انعقاد کیا ۔  مجموعی طور پر 252 ریاستی سطح کے ماسٹر ٹرینرز کو بہتر قیادت ، حکمرانی اور شراکت دار منصوبہ بندی کی صلاحیتوں سے آراستہ کیا گیا ۔  ان 252 ٹرینرز نے 8,408 ضلع/بلاک سطح کے ماسٹر ٹرینرز (ڈی ایل ایم ٹی/بی ایل ایم ٹی) کو مزید تربیت دی ، جنہوں نے بعد میں 30 نومبر 2025 تک 44,421 منتخب خاتون نمائندوں کو تربیت دی ، جو زمینی سطح کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور پنچایتی راج اداروں میں جامع شرکت کو فروغ دینے کے وزارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔

11. پنچایتوں کو مالی طور پر خودمختار بنانا-اپنے ذرائع سے آمدنی پیدا کرنے سے متعلق تربیتی ماڈیول

 

وزارت نے وکست بھارت کے وژن کے مطابق "سکشَم پنچایتیں" اقدام کو فروغ دیا تاکہ منتخب نمائندگان اور پنچایت اہلکاروں کے لیے اپنے ذرائع سے آمدنی پیدا کرنے سے متعلق پہل کی تربیت دی جا سکے۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منجمنٹ، آحمد آباد نے گرام پنچایتوں کے لیے اوایس آر  پیدا کرنے کا جامع ماڈیول تیار کیا۔او ایس آر تربیت میں شامل تھا: او ایس آر اور اس کا قانونی فریم ورک، او ایس آر بڑھانے کی حکمت عملی، ریونیو اکٹھا کرنے کے لیےرویے پر مبنی سائنس، ایل ایس  ڈی جی سے منسلک ترقی کے لیے او ایس آر کا استعمال، جدید مالیاتی اور پراجیکٹ مینجمنٹ کے طریقے، اور عملی ٹولز و کیس اسٹڈیز۔مرکزی سطح پر، آئی ئی پی ے نئی دہلی (دو بیچز) اور این آئی آر ڈی پی آر (ایک بیچ) میں جون سے اگست 2025 کے دوران تین ٹی او ٹی  پروگرامز منعقد کیے گئے، جن میں 32 ریاستوں/یو ٹی سے 170 ریاستی ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی گئی۔یہ ٹرینرز 4,879 ضلع/بلاک ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دیتے ہیں، جنہوں نے بعد میں 1,10,524 منتخب نمائندگان، اہلکار، اور پنچایت افسران کو تربیت دی، جس سے ملک بھر میں پنچایتوں کی مالی خودمختاری میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔

12. راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے) کا نفاذ

وزارت نے تجدید شدہ راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے) کی مرکزی اعانت یافتہ اسکیم کو نافذ کیا جس کے تحت 2025-26 کے دوران 32 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سالانہ ایکشن پلان کو منظوری دی گئی ۔

آر جی ایس اے کے تحت اہم کامیابیوں میں شامل ہیں:

  • یکم جنوری 2025 سے 30 نومبر 2025 کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو صلاحیت سازی اور تربیت ، ادارہ جاتی مضبوطی ، گرام پنچایت بھونوں اور کمپیوٹر سمیت قابل قبول سرگرمیوں کے لیے 911.52 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ۔
  • 30 نومبر 2025 تک اس اسکیم کے تحت کل اخراجات 25 کروڑ روپے تھے جس میں مرکزی اور ریاستی حصے سمیت 1,316.27 کروڑ روپے تھے۔
  • یکم جنوری 2025 سے 30 نومبر 2025 کے دوران تقریبا 33.25 لاکھ شرکاء کو منتخب نمائندوں ، عہدیداروں اور پنچایتوں کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کی صلاحیت سازی کے لیے تربیت فراہم کی گئی ۔
  • 2025-26 کے دوران آر جی ایس اے کے تحت 1638 گرام پنچایت بھونوں اور 19,472 کمپیوٹرز کو منظوری دی گئی

 

12.2 ادارہ جاتی ماہر اداروں کے ذریعے قیادت/انتظامی ترقیاتی پروگرام

وزارت نے پنچایتی راج نظام میں انتظامی اور قیادت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیےمنجمنٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (ایم ڈی پی)  تربیت پروگرامز کا انعقاد کیا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران، اپریل سے نومبر 2025 کے درمیان آئی آئی ایم روہتک، آئی آئی ٹی  دھنباد،آئی آر ایم اے آنند، آئی آئی ایم جموں، اور آئی آئی ایم بودھ گیا جیسے اعلیٰ قومی اداروں میں پانچ تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ان تربیتوں میں مجموعی طور پر 160 شرکاء نے حصہ لیا۔اس سے پنچایتی راج ڈھانچے میں انتظامی مہارت اور ادارہ جاتی مؤثریت کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا ہوا، اور یہ وزارت کے دیہی سطح پر صلاحیت سازی کے لیے بھارت کے ممتاز تعلیمی اداروں کے استعمال پر زور دینے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

 

12.3 ماڈل یوتھ گرام سبھا کا قومی آغاز


ہندوستان کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کو زمینی سطح کی جمہوریت میں شامل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے ، وزارت نے محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی (ڈی او ایس ای ایل) اور قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) کے تعاون سے ماڈل یوتھ گرام سبھا (ایم وائی جی ایس) کا آغاز کیا ۔ یہ پہل ماڈل گرام سبھا/گرام پنچایت میٹنگوں کا انعقاد کرتی ہے جس میں جواہر نوودیہ ودیالیہ (جے این وی) اور ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کے 9 ویں اور 10 ویں جماعت کے طلباء شامل ہوتے ہیں ۔ ماڈل یوتھ گرام سبھا (ایم وائی جی ایس) پہل کے قومی آغاز کے لیے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں ایک روزہ تقریب کا انعقاد 30 اکتوبر 2025 کو کیا گیا ۔ افتتاحی تقریب میں جے این وی اور ای ایم آر ایس کے طلباء ، ہریانہ ، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے منتخب نمائندوں اور پنچایت کے عہدیداروں سمیت تقریبا 800 شرکاء نے شرکت کی ۔

یہ اقدامات حکومت کے ڈیجیٹل انڈیا ، گڈ گورننس اور آتم نربھر بھارت کے وژن کے مطابق ہیں ، جو شراکت دار جمہوریت اور شفاف حکمرانی کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے ساتھ دیہی اداروں کی مدد کرتے ہیں ۔ آر جی ایس اے کے تحت وزارت کی کوششیں موثر ، جوابدہ اور شراکت دار مقامی حکمرانی کو فروغ دینا جاری رکھے ہوئے ہیں ، جو ہندوستان کو بااختیار ، خود کفیل اور ترقی پر مبنی پنچایتوں کے ذریعے وکست بھارت کے وژن کے قریب لاتے ہیں ۔

 

13. پی ای ایس اے کے نفاذ کے ذریعے قبائلی برادریوں کو بااختیار بنانا

13.1 پی ای ایس اے سے متعلق عمدگی کا مرکز


پی ای ایس اے کے نفاذ کو ادارہ جاتی بنانے کے لیے اندرا گاندھی نیشنل ٹرائبل یونیورسٹی (آئی جی این ٹی یو) امرکنٹک میں پی ای ایس اے (سی او ای-پی ای ایس اے) سے متعلق ایک سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیا گیا ہے ، جس پر 24 جولائی 2025 کو ایم او پی آر ، حکومت مدھیہ پردیش اور آئی جی این ٹی یو کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے تھے ۔ پروگرام ایڈوائزری بورڈ نے 2025-26 کے ورک پلان کی منظوری دی ، جس میں روایتی طریقوں کی دستاویزات ، پی ای ایس اے گرام سبھاؤں کے ماڈل کی ترقی ، قبائلی زبانوں میں آئی ای سی اور تربیتی مواد کی تیاری ، اور بہترین طریقوں کی دستاویزات پر توجہ دی گئی ہے ۔
پنچایتوں کی دفعات (درج فہرست علاقوں تک توسیع) ایکٹ ، 1996 (پی ای ایس اے ایکٹ) آئین کے حصہ IX کی دفعات کی وسعت 10 ریاستوں کے درج فہرست علاقوں تک ہے جس میں 77,564 گاؤں ، 22,040 پنچایتیں ، اور 45  مکمل طور پرکور کئے گئے 664 بلاک ہیں۔ اور جزوی طور پر احاطہ کیے گئے 63 اضلاع شامل ہیں ۔ وزارت نے 2025 میں پی ای ایس اے کے نفاذ کو مضبوط بنانے اور منظم صلاحیت سازی ، ادارہ جاتی تعاون اور علم کے تحفظ کے ذریعے قبائلی برادریوں کو بااختیار بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ۔ سی او ای-پی ای ایس اے پی ای ایس اے کے موثر نفاذ کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہونے والا ہے ۔
13.2 راشٹریہ گرام سوراج ابھیان کے تحت ، وزارت ریاست ، ضلع ، بلاک اور گرام پنچایت کی سطحوں پر پی ای ایس اے کے نفاذ کے لیے وقف عملے کی تقرری کے لیے تمام 10 پی ای ایس اے ریاستوں کی مدد کر رہی ہے ۔ زمینی سطح پر پی ای ایس اے کو نافذ کرنے کے لیے ریاستوں میں 16,000 سے زیادہ مخصوص عملہ کام کر رہا ہے ۔
13.3 وزارت نے 13-14 مئی 2025 کو یشادا ، پونے ، مہاراشٹر میں دو روزہ رائٹ-شاپ کا انعقاد کیا ، جس میں ماہرین ، پی ای ایس اے کے عہدیداروں اور پی ای ایس اے کی تمام ریاستوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ پی ای ایس اے کی تمام 10 ریاستوں کے 40 بہترین طریقوں کا مجموعہ "پی ای ایس اے ان ایکشن: اسٹوریز آف اسٹرینتھ اینڈ سیلف گورننس" انگریزی اور ہندی دونوں زبانوں میں شائع کیا گیا اور اسے 24 جولائی 2025 کو بھوپال ، مدھیہ پردیش میں جاری کیا گیا ۔ یہ کامیابی کی کہانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ پی ای ایس اے کے علاقوں میں گرام سبھا ریاستی پی ای ایس اے کے قوانین کے ذریعے انہیں دیے گئے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں ۔ ان کامیابی کی کہانیوں پر مبنی چھ مختصر فلمیں/ویڈیوز تیار کی گئیں اور وسیع تر بیداری کے لیے وزارت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کی گئیں ۔

 

13.4 پی ای ایس اے کے تحت صلاحیت سازی اور تربیت
منتخب نمائندوں ، عہدیداروں اور کمیونٹی اسٹیک ہولڈرز کی صلاحیت سازی 2025 کے دوران ایک اہم فوکس ایریا رہا ۔ پنچایتی راج کی وزارت کے ٹریننگ مینجمنٹ پورٹل پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 (30 نومبر 2025 تک) کے دوران پی ای ایس اے پر کی جانے والی ٹریننگ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:


پی ای ایس اے ریاستوں میں 594 تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے ۔


کل 32,892 شرکاء کو تربیت دی گئی ۔


اس میں ریاستی سطح پر 401 ، ضلعی سطح پر 2863 اور بلاک سطح پر 29,628 شرکاء شامل تھے ۔


اکیلے جھارکھنڈ نے 31,434 شرکاء کو تربیت دی ، جو درج فہرست علاقوں میں زمینی سطح پر صلاحیت سازی کی وسیع کوششوں کامظہر ہے ۔

اس کے علاوہ ، پی ای ایس اے کے کلیدی موضوعات جیسے گرام سبھا کو مضبوط بنانا ، چھوٹے پیمانے کے جنگلاتی پیداوار ، چھوٹی معدنیات ، زمین سے علیحدگی کی روک تھام ، قرضے پر قابو ، نشہ آور اشیاء کا ضابطہ اور روایتی تنازعات کے حل پر ریاستی سطح کے ماسٹر ٹرینر پروگراموں کا دوسرا دور ستمبر-نومبر 2025 کے دوران میزبان ریاستوں میں منعقد کیا گیا ۔



13.5 تربیتی دستورالعمل کا ترجمہ


وزارت پی ای ایس اے سے متعلق تربیتی دستورالعمل کا مقامی اور قبائلی زبانوں میں ترجمہ کر رہی ہے ۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ نے تمام سات دستورالعمل کا تیلگو میں ترجمہ مکمل کیا ، جبکہ مہاراشٹر نے مراٹھی میں چار دستورالعمل کا ترجمہ مکمل کیا ۔ وزارت نے گجراتی ، مراٹھی ، اوڈیہ اور سنتھالی میں ترجمے کے لیے بھاشنی کے ساتھ اور آدی وانی پورٹل کے ذریعے سنتھالی ، منڈاری ، گونڈی اور بھیلی سمیت قبائلی زبانوں میں ترجمے کے لیے قبائلی امور کی وزارت کے ساتھ تعاون کیا ۔ گونڈی ، بھیلی اور منڈاری میں ترجمے مکمل ہو چکے ہیں اور ریاستوں کو پروف ریڈنگ کے لیے بھیجے گئے ہیں ۔



13.6 قومی سطح کی رسائی اور ثقافتی انضمام



2025 کے دوران ، پنچایتی راج کی وزارت (ایم او پی آر) نے پنچایتوں (درج فہرست علاقوں تک توسیع) ایکٹ ، 1996 (پی ای ایس اے) کے نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے مرکوز اقدامات کیے جن میں گرام سبھاؤں کو بااختیار بنانے اور قبائلی خود مختاری کے نظام کے تحفظ پر زور دیا گیا ۔
ایم او پی آر کے تصور اور تعاون سے ، ‘‘ہماری پرمپرا ، ہماری وراثت" مہم 26 جنوری 2025 کو محکمہ پنچایتی راج ، حکومت جھارکھنڈ کے ذریعہ شروع کی گئی تھی اور اس میں 3000 سے زیادہ دیہاتوں نے روایتی خود مختاری کے نظام ، ثقافتی ورثے اور روایتی طریقوں کے تحفظ کے عزم کا عہد کیا ہے ۔ یہ پہل پی ای ایس اے ایکٹ کے مقاصد کے ساتھ قریب سے ہم آہنگ ہے ، جو گرام سبھاؤں کو قبائلی رسوم و رواج ، روایات اور سماجی اداروں کی حفاظت کا کام سونپتا ہے ۔
نئی دہلی میں 4 اپریل 2025 کو سرحد مہوتسو 2025 کے ساتھ مل کر ‘‘ہماری پرمپرا ، ہماری وراثت’’ پروگرام کے تحت ایک خصوصی قومی سطح کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ بھگوان برسا منڈا (جنجاتیہ گورو ورش) کی 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد ہونے والی اس تقریب کا اہتمام ایم او پی آر نے حکومت جھارکھنڈ کے تعاون سے کیا تھا اور جھارکھنڈ کے 560 سے زیادہ قبائلی نمائندوں کی موجودگی میں قومی سطح پر قبائلی ورثے کا جشن منایا تھا ۔

13.7 پیسا مہوتسو 2025



پنچایتی راج کی وزارت نے 23-24 دسمبر 2025 کو آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں تمام دس پی ای ایس اے ریاستوں کی شرکت کے ساتھ دو روزہ پی ای ایس اے مہوتسو کا انعقاد کیا ۔ مہوتسو میں پنچایت کے نمائندوں ، قبائلی برادریوں ، نوجوانوں ، کاریگروں اور ثقافتی گروپ کے نمائندے اکٹھا ہوئے ، جو قبائلی کھیلوں ، ثقافت ، کھانے ، دستکاری اور روایتی طریقوں کی نمائش کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔ پی ای ایس اے ڈے (24 دسمبر) کے موقع پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں پی ای ایس اے پورٹل ، نفاذ کی سمت میں ریاستوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے پی ای ایس اے انڈیکیٹرز ، قبائلی زبانوں میں پی ای ایس اے پر تربیتی ماڈیولز ، اور ہماچل پردیش کے کنور ضلع پر ای بک ، قبائلی خطے کے بھرپور ثقافتی ورثے کی دستاویز سازی سمیت کلیدی اقدامات کا آغاز کیا گیا ۔ مہوتسو کے دوران منعقد ہونے والے کھیلوں کے مقابلے ، نمائشیں ، ثقافتی پروگرام اور گرام سبھا کی سرگرمیاں درج فہرست علاقوں میں لوگوں کی شرکت اور زمینی سطح کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں ۔

 

پی ای ایس اے مہوتسو کا اختتام ایک مرکزی قومی پہل کے طور پر ہوا جس میں قبائلی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا اور زمینی سطح پر پی ای ایس اے ایکٹ کے موثر نفاذ پر توجہ مرکوز کی گئی ۔  یہ اعلان کیا گیا کہ پی ای ایس اے مہوتسو ہر سال منعقد کیا جائے گا ، اور ٹرافی (بیٹن) کو باضابطہ طور پر اگلی میزبان ریاست کے طور پر چھتیس گڑھ کے حوالے کر دیا گیا ۔  

 

13.8 چھتیس گڑھ میں ثقافتی دستاویز کاری منصوبہ

 

وزارت نے ریاست کی تمام 42 قبائلی برادریوں کی ثقافت کو منظم طریقے سے دستاویز کرنے ، ڈیجیٹائز کرنے اور محفوظ رکھنے کے لیے حکومت چھتیس گڑھ کو ‘‘میری پرمپرا ، میری وراثت’’ کے عنوان سے ایک منفرد پروجیکٹ سے نوازا ۔  اس پروجیکٹ نے تفصیلی ویڈیو دستاویزی فلمیں بنانے ، خطرے میں مبتلا روایات کی حفاظت ، مقامی آوازوں کو بااختیار بنانے ، نسل در نسل علم کی ترسیل کو مضبوط بنانے ، اور برادریوں ، محققین ، پالیسی سازوں اور عوام کے لیے قابل رسائی ایک ذو لسانی (ہندی-انگریزی) ڈیجیٹل ذخیرہ تیار کرنے کے لیے کمیونٹی اور گرام سبھا کی قیادت میں شراکت دارانہ نقطہ نظر کو اپنایا ہے۔

 

***

ش ح۔ ع ح۔ ج

UNO-188


(रिलीज़ आईडी: 2211825) आगंतुक पटल : 21
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Malayalam , Khasi , English , हिन्दी , Odia , Kannada