PIB Headquarters
متوازن کھاد کی معاونت: ربیع 2026-2025 کے لیے غذائیت پر مبنی سبسڈی کی شرحیں
‘‘ہندوستانی زراعت میں کم خرچ اور پیداواری صلاحیت کو یقینی بنانا’’
प्रविष्टि तिथि:
05 JAN 2026 12:00PM by PIB Delhi
|
کلیدی نکات
- حکومت نے یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک ربیع 2026-2025 کے لیے غذائیت پر مبنی سبسڈی(این بی ایس) کی شرحوں کی منظوری دی، جس میں فاسفیٹک اور پوٹاسک(پی اینڈ کے) کھادیں شامل ہیں، بشمول ڈی اے پی اور این پی کے ایس گریڈز۔
- ربیع 2026-2025 کے لیے درکار عارضی بجٹ تقریباً 37,952 کروڑ روپےہے، جو کہ خریف 2025 کے سیزن کی بجٹ کی ضرورت سے تقریباً 736 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
- سال 2023-2022 اور 2025-2024 کے درمیان کھادوں تک کم خرچ رسائی کو یقینی بناتے ہوئے،این بی ایس سبسڈی کے لیے 2.04 لاکھ کروڑ سے زیادہ مختص کیے گئے۔
- این بی ایس نے گھریلو کھاد کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے، پی اینڈ کے (ڈی اے پی اور این پی کے ایس) کھاد کی پیداوار 2014 میں 112.19 ایل ایم ٹی سے بڑھ کر 2025 (30.12.25 تک) میں 168.55ایل ایم ٹی تک پہنچ گئی ہے، جو اس مدت کے دوران 50فیصد سے زیادہ کی نمو کو ظاہر کرتی ہے۔
|
تعارف
مٹی کی صحت کو برقرار رکھنے، فصل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور طویل مدتی زرعی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے متوازن کھاد بہت ضروری ہے۔ اس کے اعتراف میں، حکومت ہند غذائیت پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم کو ترجیح دیتی ہے، جو کہ ایک اہم پالیسی مداخلت ہے جو کسانوں کو سستی قیمتوں پر اہم غذائی اجزا تک رسائی میں مدد دے کر کھاد کے متوازن ہ استعمال کو فروغ دیتی ہے۔ ربیع کے سیزن 2026-2025 کے لیے، این بی ایس) کی تازہ ترین شرحوں کا اعلان کسانوں کے لاگت اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے غذائی اجزاء کے انتظام کو بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومت ہند نے غذائیت پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم متعارف کرائی، جو 1 اپریل 2010 سے لاگو ہوئی۔ یہ اسکیم کھاد کے شعبے میں ایک اہم پالیسی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جو کسانوں کو سبسڈی، سستی اور مناسب قیمتوں پر کھاد فراہم کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کے متوازن اور قابل استعمال ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
این بی ایس فریم ورک کے تحت، سبسڈی کا تعین کھاد کے غذائی اجزاء کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، بنیادی طور پر این پی کے ایس: نائٹروجن(این) ، فاسفورس(پی) پوٹاشیم(کے) ، اور سلفر (S)۔ یہ نقطہ نظر نہ صرف متوازن غذائیت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ کسانوں کو معلومات پر مبنی انتخاب کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے جو ان کی مٹی اور فصلوں کی مخصوص ضروریات کے مطابق ہوں۔ ثانوی اور مائیکرو تغذیہ بخش اجزاء کے استعمال کو فروغ دے کر، یہ اسکیم مٹی کے انحطاط اور غذائیت کے عدم توازن کے مسائل کو بھی حل کرتی ہے جو کھاد کے کئی سالوں کے استعمال کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
غذائیت پر مبنی سبسڈی اسکیم کے نتائج اور پالیسی ترجیحات
کیمیکل اور کھاد کی وزارت کی غذائیت پر مبنی سبسڈی(این بی ایس) اسکیم کا مقصد ضروری غذائی اجزاء جیسے نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم اور سلفر کے متوازن استعمال کو فروغ دینا ہے، اس طرح کسانوں کو کسی ایک کھاد پر زیادہ انحصار سے بچنے اور مٹی کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے میں مدد کرنا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کسانوں کو کھاد وقت پر اور سستی، رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہو، جو فصل کی ہموار منصوبہ بندی کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ اسکیم کھاد بنانے والی کمپنیوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو بھی فروغ دیتی ہے، کھاد کی مارکیٹ میں معیار، اختراعات اور کارکردگی میں بہتری لاتی ہے۔ نئی اور اختراعی کھادوں کو متعارف کرانے میں معاونت کرتے ہوئے، بشمول جدید اور مائیکرو غذائی اجزاء سے بھرپور مصنوعات، این بی ایس اسکیم زرعی طریقوں کو جدید بنانے میں مدد کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ کھادوں اور خام مال کی عالمی قیمت کے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ کرکے سبسڈی کو معقول بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، کسانوں کی مدد اور مالی ذمہ داری دونوں کو یقینی بناتی ہے۔

این بی ایس اسکیم کی اہم دفعات اور نمایاں خصوصیات
غذائیت پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم کے تحت، حکومت فاسفیٹ اور پوٹاش والی(پی اینڈ کے) کھادوں پر، بشمول ڈی اے پی ، پر ایک مقررہ سبسڈی فراہم کرتی ہے، جو سالانہ یا دو بار نظر ثانی کی جاتی ہے۔ سبسڈی کی رقم ہر کھاد کے گریڈ کے غذائی اجزاء سے منسلک ہے۔
ربیع 2024-2023 تک، این بی ایس اسکیم میں 25 پی اینڈ کے کھاد کے درجات جیسے ایم او پی، ڈی اے پی اور ایس ایس پی شامل تھے۔ خریف 2024 کے بعد سے کھاد کے تین اضافی درجات کو اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔
1. این پی کے (11:30:14) میگنیشیم، زنک، بوران اور سلفر کے ساتھ مقوی بنایا گیا
2. یوریا – ایس ایس پی(5:15:0:10)
3. ایس ایس پی (0:16:0:11) میگنیشیم، زنک، اور بوران کے ساتھ مقوی بنایا گیا
نئے درجات کے اضافے کے ساتھ، حکومت اب کسانوں کو مجاز مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے ذریعے رعایتی نرخوں پر 28 اقسام کی پی اینڈ کے کھاد فراہم کر رہی ہے۔ کسانوں پر مبنی اپنے نقطہ نظر کے مطابق، حکومت مسابقتی قیمتوں پر ان کھادوں کی سستی دستیابی کو ترجیح دیتی ہے۔
این بی ایس اسکیم کے تحت، پی اینڈ کے کھاد کا شعبہ ایک غیر کنٹرول شدہ نظام کے تحت کام کرتا ہے، جس سے کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت(ایم آر پی) کو مناسب سطح پر مقرر کرنے کی اجازت ملتی ہے، جو حکومت کی زیر نگرانی ہے۔ نتیجے کے طور پر، کسانوں کو سبسڈی کا فائدہ براہ راست ملتا ہے جب وہ ان کھادوں کو خریدتے ہیں۔
ربیع 2026 -2025 کے لئے این بی ایس کی شرحیں
بین الاقوامی مارکیٹ اور کھادوں اور دیگر زرعی اجزاء کی مقامی مارکیٹ میں حالیہ رجحانات کے پیش نظر، حکومت نے ڈی اے پی اور این پی جی آر اے سمیت فاسفیٹ اور پوٹاش والی (پی اینڈ کے) کھادوں کے لیے یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک، ربیع 2026-2025 کے لیے این بی ایس کی شرحوں کی منظوری دے دی ہے۔ کھاد بنانے والی کمپنیوں کو نوٹیفائیڈ نرخوں پر سبسڈی فراہم کی جائے گی، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کسانوں کو مناسب قیمتوں پر کھاد دستیاب ہو۔ ربیع سیزن 2026-2025 کے لیے عارضی بجٹ کی ضرورت تقریباً 37,952.29 کروڑ روپے ہے، جو کہ خریف سیزن 2025 کی ضرورت سے تقریباً 736 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
ربیع 2026-2025 کے لیے پی اینڈ کے کھادوں میں موجود غذائی اجزاء، یعنی نائٹروجن(این) ، فاسفیٹ (پی)، پوٹاش (کے)، اور سلفر (ایس) پر فی کلو سبسڈی درج ذیل ہے:
|
نمبرشمار
|
غذائی اجزاء
|
این بی ایس )فی کلو غذائیت)
|
|
1
|
این
|
43.02
|
|
2
|
پی
|
47.96
|
|
3
|
کے
|
2.38
|
|
4
|
ایس
|
2.87
|
ربیع 2026-2025 کے لیے پی اینڈ کے کھادوں کے 28 درجات پر مصنوعات کے لحاظ سے سبسڈی درج ذیل ہے:
|
S. No.
|
کھادوں کا نام
|
این بی ایس نر خ ( روپے ایم ٹی)
|
|
1
|
DAP 18-46-0-0
|
29,805
|
|
2
|
MOP 0-0-60-0
|
1,428
|
|
3
|
SSP 0-16-0-11
|
7,408
|
|
4
|
NPS 20-20-0-13
|
18,569
|
|
5
|
NPK 10-26-26-0
|
17,390
|
|
6
|
NP 20-20-0-0
|
18,196
|
|
7
|
NPK 15-15-15
|
14,004
|
|
8
|
NP 24-24-0-0
|
21,835
|
|
9
|
AS 20.5-0-0-23
|
9,479
|
|
10
|
NP 28-28-0-0
|
25,474
|
|
11
|
NPK 17-17-17
|
15,871
|
|
12
|
NPK 19-19-19
|
17,738
|
|
13
|
NPK 16-16-16-0
|
14,938
|
|
14
|
NPS 16-20-0-13
|
16,848
|
|
15
|
NPK 14-35-14
|
23,142
|
|
16
|
MAP 11-52-0-0
|
29,671
|
|
17
|
TSP 0-46-0-0
|
22,062
|
|
18
|
NPK 12-32-16
|
20,890
|
|
19
|
NPK 14-28-14
|
19,785
|
|
20
|
NPKS 15-15-15-09
|
14,262
|
|
21
|
NP 14-28-0-0
|
19,452
|
|
22
|
PDM 0-0-14.5-0
|
345
|
|
23
|
Urea-SSP Complex (5-15-0-10)
|
9,088
|
|
24
|
NPS 24-24-0-8
|
21,835
|
|
25
|
NPK 8-21-21
|
14,013
|
|
26
|
NPK 9-24-24
|
15,953
|
|
27
|
NPK 11-30-14
|
19,453
|
|
28
|
SSP 0-16-0-11
|
7,408
|
| |
|
|
|
نمبرشمار
|
تغذیہ بخش اجزاء
|
فورٹیفائیڈ/کوٹیڈ فرٹیلائزرز کے لیے مندرجہ بالا ٹیبل میں بتائے گئے نرخوں سے زیادہ اضافی سبسڈی (ایم ٹی/ روپے)
|
|
1
|
بورون( بی)
|
300
|
|
2
|
زنک (زیڈ این)
|
500
|
ربیع 2026-2025 کے لیے، ڈائی امونیم فاسفیٹ(ڈی اے پی) کے لیے سبسڈی کو نمایاں طور پر بڑھا کر 29,805 روپے فی میٹرک ٹن کر دیا گیا ہے، جو کہ ربیع 2025-2024 کے دوران 21,911 روپے فی میٹرک ٹن کے مقابلے میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ امونیم سلفیٹ (ملکی اور درآمدی دونوں) کو این بی ایس اسکیم برائے ربیع 2026-2025 کے تحت شامل کیا گیا ہے۔
این بی ایس اسکیم کے تحت شامل کوئی بھی پی اینڈ کے کھاد جو بوران یا زنک کے ساتھ تغذیہ بخش یا کوٹیڈ ہے (جیسا کہ فرٹیلائزر کنٹرول آرڈر میں بیان کیا گیا ہے) سبسڈی حاصل کرنا جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ، ان مقوی یا کوٹیڈ کھادوں کو فی میٹرک ٹن(ایم ٹی) اضافی سبسڈی ملے گی تاکہ ان کے استعمال کو اہم غذائی اجزاء کے ساتھ مل کر فروغ دیا جا سکے۔
این بی ایس کی آپریشنل منجمنٹ اور عمل آوری کی نگرانی
ربیع 2026-2025 کے لیے غذائیت پر مبنی سبسڈی(این بی ایس) اسکیم کے نفاذ میں شفافیت، جوابدہی اور منصفانہ قیمتوں کے تعین کو یقینی بنانے کے لیے، کھاد بنانے والی کمپنیوں کو درج ذیل ریگولیٹری اور آپریشنل اقدامات کی تعمیل کرنے کی ضرورت ہے:
- رپورٹنگ، اور پی اینڈ کے کھادوں کی لاگت اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت(ایم آر پی) کی نگران۔
فرٹیلائزر کمپنیوں کو پی اینڈ کے کھادوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت(ایم آر پی) کی معقولیت کا تعین کر کے موجودہ رہنما خطوط کے مطابق آڈٹ شدہ لاگت کا ڈیٹا جمع کرانا ہوگا۔ یہ محکمہ کھاد(،ی او ایف) کو یہ جانچنے کے قابل بناتا ہے کہ آیا اعلان کردہ ایم آر پیز جائز ہیں یا نہیں۔ کمپنیوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ کھاد کے محکمے کو پی اینڈ کے کھاد کے تمام گریڈوں کے ایم آر پیز کی باقاعدگی سے اطلاع دیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ قیمتیں نوٹیفائیڈ سبسڈی کی شرحوں سے ہم آہنگ ہوں، اور اس بات کی ضمانت دیں کہ کمپنیاں مناسب ایم آر پیز پر کھاد فروخت کریں۔
موجودہ رہنما خطوط کے مطابق، مقررہ حد سے زیادہ کمائے گئے کسی بھی منافع کو غیر معقول سمجھا جائے گا اور متعلقہ کمپنی سے وصول کیا جائے گا (آخری پی اینڈ کے پروڈکٹ کی پیداواری لاگت پر درآمد کنندگان کے لیے 8فیصد، مینوفیکچررز کے لیے 10فیصد اور مربوط مینوفیکچررز کے لیے 12فیصد تک منافع کا مارجن مناسب سمجھا جاتا ہے۔)
- ایم آر پی اور سبسڈی کی تفصیلات کا اظہار
کھاد کے ہر تھیلے میں واضح طور پر 1. زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) اور 2. قابل اطلاق سبسڈی فی بیگ اور فی کلوگرام لکھا ہونا چاہیے۔
پرنٹ شدہ ایم آر پی سے زیادہ چارج کرنا ایک جرم ہے اور ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت قابل سزا ہے۔
- پیداوار، نقل و حرکت اور درآمدات کی نگرانی
آن لائن، ویب پر مبنی کھاد کی نگرانی کا مربوط نظام آئی ایف ایم ایس) کھاد کی تقسیم، نقل و حمل اور درآمدات، اور گھریلو مینوفیکچرنگ یونٹس کی پیداواری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی فراہم کرتا ہے۔
- ترسیل اور نقل و حمل کی ذمہ داری
پی اینڈ کے کھادوں کے تمام مینوفیکچررز، مارکیٹرز، اور درآمد کنندگان، بشمول سنگل سپر فاسفیٹ(ایس ایس پی) مینوفیکچررز، اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھاد کو خوردہ مقام تک فریٹ آن روڈ (ایف او آر) کی ترسیل کی بنیاد پر پہنچایا جائے۔
- فرٹیلائزر کی تقسیم میں ڈیجیٹل ٹریکنگ اور تال میل
تشخیص شدہ ضرورت کی بنیاد پر، ڈی او ایف ماہانہ سپلائی پلان کے ذریعے کھاد کی مناسب مقدار مختص کرتا ہے اور تمام خطوں میں ان کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ تمام بڑے سبسڈی والی کھادوں کی نقل و حرکت کو آن لائن، ویب پر مبنی انٹیگریٹڈ فرٹیلائزر مینجمنٹ سسٹم(آئی ایف ایم ایس) پورٹل کے ذریعے ٹریک کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو اور ڈی او ایف ریاستی زراعت کے افسران کے ساتھ ہفتہ وار ویڈیو کانفرنسز کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ موثر تال میل کو یقینی بنایا جا سکے اور سپلائی کے کسی بھی ابھرتے ہوئے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
|
انٹیگریٹڈ فرٹیلائزر مینجمنٹ سسٹم ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو کھاد کی تقسیم اور انتظام سے متعلق آن لائن خدمات کی ایک رینج فراہم کرتا ہے۔ اس میں ڈیلر کی رجسٹریشن، اسٹاک کی دستیابی سے باخبر رہنے، ڈیلر کی تلاش، اور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور فائدے براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) رپورٹس تک رسائی شامل ہے۔ شفافیت کو قابل بنا کر، کارکردگی کو بہتر بنا کر، اور کھاد کی سپلائی چین میں ریئل ٹائم ٹریکنگ کی حمایت کرتے ہوئے، آئی ایف ایم ایس اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ کسانوں اور شراکت داروں کو اعلیٰ معیار کی کھادوں تک بروقت رسائی حاصل ہو۔
|
ایک نظر میں اہم سنگ میل اور کامیابی
پی اینڈ کے کھادوں کی پیداوار میں اضافہ
این بی ایس سکیم کے تحت، گھریلو پیداوار کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے پالیسی اقدامات کے نتیجے میں پی اینڈ کے (ڈی اے پی اور این پی کے ایس) کھاد کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
ڈی اے پی اور این پی کے ایس کھادوں کی ملکی پیداوار 2014 میں 112.19 ایل ایم ٹی سے 2025 میں 168.55 ایل ایم ٹی( 30 دسمبر 2025 تک) 50فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ نمایاں نمو دیسی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے، پلانٹ کے ضروری غذائی اجزاء کی مستقل دستیابی کو یقینی بنانے اور کھاد کے شعبے میں آتم نربھرتا کے لیے حکومت کے عزم کو آگے بڑھانے میں این بی ایس اسکیم کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

مٹی کی صحت اور کھیت کی پیداواری صلاحیت میں بہتری
این بی ایس کے نفاذ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ فاسفیٹ اور پوٹاش والی(پی اینڈ کے) کھادوں کا استعمال کھیتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور مٹی میں کثیر غذائی اجزاء کی کمی کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب سے اسکیم شروع ہوئی ہے، بڑی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اناج کی پیداوار 2010-11 میں 1,930 کلوگرام فی ہیکٹر سے بڑھ کر 2024-25 میں 2,578 کلوگرام فی ہیکٹر ہو گئی ہے۔

این بی ایس کے تحت مالی مدد
سال 2023-2022 اور 2025-2024 کے درمیان، حکومت ہند نے غذائیت پر مبنی سبسڈی (این بی ایس ) اسکیم کے تحت دیسی اور درآمدی فاسفیٹ اور پوٹاش (پی اینڈ کے) کھادوں کے لیے 2.04 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سبسڈی مختص کی ہے۔ یہ مسلسل مالی امداد کھادوں کی سستی، دستیابی اور متوازن استعمال کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔
نتیجہ
غذائیت پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم ہندوستان کی کھاد کی پالیسی کی بنیاد کے طور پر ابھری ہے، جو متوازن کھاد، مٹی کی صحت اور پائیدار زراعت کو فروغ دیتی ہے۔ مربوط پالیسی اقدامات کے ذریعے، حکومت نے گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط کیا ہے، کھاد کے درجات کی تعداد 25 سے بڑھا کر 28 کر دی ہے، اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے سنگل سپر فاسفیٹ(ایس ایس پی) پر فریٹ سبسڈی اور مولسیس (پی ڈی ایم) سے حاصل کردہ پوٹاش کی شمولیت جیسے اقدامات متعارف کروائے ہیں کھادوں کے بندوبست کے مربوط نظام ( آئی ایف ایم ایس) کے ذریعے نگرانی کی ڈیجیٹل کاری اور ریاستوں کے ساتھ باقاعدہ تال میل نے تمام خطوں میں شفافیت، جوابدہی اور بروقت فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔
سال 2023-2022 اور 2025-2024 کے درمیان 2.04 لاکھ کروڑ روپےسے زیادہ کی مستقل مالی مدد کسانوں کے لیے کم خرچ اور دستیابی کے لیے حکومت کے عزم کو واضح کرتی ہے۔ این بی ایس اسکیم نے نہ صرف گھریلو پی اینڈ کے پیداوار (ڈی اے پی اور این پی کے ایس) میں اضافہ کیا ہے - 2014 میں 112.19 ایل ایم ٹی سے 2025 میں 168.55 ایل ایم ٹی تک (30.12.2025 تک) - بلکہ اس نے غذائی اجناس کی زیادہ پیداوار میں بھی مدد دی ہے، مٹی میں توازن پیدا کیا ہے اور خوراک کے شعبے میں خود کفیل بننے کے عمل میں توازن پیدا کیا ہے۔ مجموعی طور پر ، یہ نتائج پیداواریت، پائیداری، اور کسانوں کی فلاح و بہبود میں اسکیم کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔
حوالہ جات:
بھارت حکومت
لوک سبھا
کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت
وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود
پی آئی بی پریس ریلیز
پی آئی بی پس منظر
Download in PDF
********
(ش ح ۔ش ب۔رض)
U. No. 176
(रिलीज़ आईडी: 2211739)
आगंतुक पटल : 8