وزارت دفاع
وزیر دفاع نے آلودگی پر قابو پانے والے بحری جہاز ‘سمدر پرتاپ’ کو آئی سی جی میں شامل کرنے سے پہلے کہا کہ جی ایس ایل اور دیگر ہندوستانی یارڈز کے ذریعے بنائے گئے بحری جہاز ہندوستان کی خودمختاری کی تیرتی ہوئی علامت ہیں
’’دفاع کے شعبے میں بھارت کو آتم نربھر بنانا ایک آسائشی عمل نہیں ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے‘‘
’’ بحری جہازوں کو جدید ترین آلات سے لیس کرنا، مصنوعی ذہانت پر مبنی دیکھ ریکھ کا نظام سے چلنے والے اور سائبر سیکیور پلیٹ فارمز دشمنوں پر برتری حاصل کرنے کی کلید ہیں‘‘
’’ہندوستان ایک فعال سمندری ملک ہے، جو بحر ہند کے پورے خطے میں استحکام، تعاون اور اصول پر مبنی نظام کو یقینی بناتا ہے‘‘د
प्रविष्टि तिथि:
04 JAN 2026 8:36PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 04 جنوری 2026 کو آلودگی پر قابو پانے والے جہاز (پی سی وی) سمدر پرتاپ کو آئی سی جی میں شامل کرنے کے موقع پر جی ایس ایل کے اپنے دورے کے دوران کہا ، "گوا شپ یارڈ لمیٹڈ (جی ایس ایل) اور ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی کوسٹ گارڈ (آئی سی جی) کے لیے دیگر ہندوستانی یارڈز کے ذریعے بنائے گئے بحری جہاز ہندوستان کی خودمختاری کی تیرتی ہوئی علامتیں ہیں ، جو گہرے سمندروں پر ہماری موجودگی ، صلاحیت اور عزم کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ جی ایس ایل کے ذریعے بنائے گئے دو پی سی وی میں سے پہلا سمدر پرتاپ 5 جنوری 2026 کو گوا میں وزیر دفاع کی موجودگی میں کام کرنا شروع کرے گا ۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاع کے شعبے میں آتم نر بھربھارت کی تشکیل کو آسائشی عمل نہیں ہے بلکہ حکمت عملی کے تحت ایک اہم ضرورت قرار دیا، اس ضرورت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے جی ایس ایل جیسے اداروں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ایل صلاحیتوں کو بروئے کار لارہا ہے، ٹیکنالوجی کو اپنا رہا ہے، اور ملک میں تیار کردہ ڈیزائن کو مستحکم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مسلح افواج کو بروقت آلات کی فراہمی ہوئی ہے اور اس نے ملک کو خود کفیل بنانے کی رفتار کو تیز کر دیا ہے۔
آج کے پیچیدہ سیکورٹی ماحول میں ہندوستانی شپ یارڈز کی طرف سے ادا کیے گئے اہم رول کو اجاگر کرتے ہوئے، رکشا منتری نے زور دے کر کہا کہ بحری محاذ پر روایتی چیلنجوں کے ساتھ ساتھ غیر روایتی خطرات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہاہمیں سمندر میں متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے، جیسے کہ منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی ماہی گیری، انسانی اسمگلنگ، ماحولیاتی جرائم اور گرے زون کے چیلنجز۔ ایسی صورت حال میں شپ یارڈز کا رول اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ جی ایس ایل ایک ایسے شہر میں واقع ہے جو ملک کی سمندری تاریخ، بحری ورثے کا مرکز ہے، اور حکمت عملی اور پیش بینی کے لحاظ سے جی ایس ایل بھارت کے دفاعی ایکو نظام کا اہم ستون ہے۔ جو، بحری سلامتی کی ذمہ داری انجام دے رہا ہے’’۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ جہاز صرف اسٹیل، مشینری اور ٹیکنالوجی کا امتزاج نہیں ہے، بلکہ یہ لوگوں کے اعتماد اور مسلح افواج کی توقعات اور ضروریات کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ایل نے برسوں سے اس اعتماد اور توقعات کو پورا کیا ہے۔
رکشا منتری نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ایک فعال سمندری ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، اور بحر ہند کے پورے خطے میں استحکام، تعاون اور اصول پر مبنی نظام کو یقینی بنانے میں اس کا کردار مسلسل اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے جی ایس ایل جیسے اداروں کو مستقبل میں ہندوستان کی ساکھ کی مزید حمایت کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ‘‘ دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر، ہمیں اس بدلتے ہوئے منظر نامے کے مطابق خود کو ڈھالنا ہو گا۔ ہمیں اپنے بحری جہازوں کو جدید ترین آلات، مصنوعی ذہانت سے چلنے والی دیکھ بھال، اور سائبر محفوظ پلیٹ فارمز سے لیس کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اپنے مخالفین پر برتری حاصل کی جا سکے۔ مجھے یقین ہے کہ جی ایس ایل قیادت کے طور پر اس تبدیلی کا مظاہرہ کرے گا۔’’
بیلجیئم کے لیے ایک اعلی ٹیکنالوجی ڈریجر بنانے کے لیے جی ایس ایل کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے، جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی برآمدات کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی توثیق کی جس کا مقصد ہندوستان کو ایک خود انحصار ملک بنانے کے ساتھ ساتھ ایک خالص دفاعی برآمد کنندہ بنانا ہے۔ انہوں نے جی ایس ایل جیسے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت کے مکمل تعاون کو بڑھاتے ہوئے کہا۔ ‘‘وکست بھارت @ 2047کے وژن کو پورا کرنے کے لیے، ہمیں سخت محنت اور عزم کے ذریعے مسلسل ترقی کو یقینی بنانا چاہیے،’’
اس موقع پر دفاعی سکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ، ڈائریکٹر جنرل، آئی سی جی کے ڈی جی پرمیش سیوامانی، جی ایس ایل کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب برجیش کمار اپادھیائے اور شپ یارڈ کے اہلکار موجود تھے۔
********
(ش ح ۔ش ب۔رض)
U. No. 122
(रिलीज़ आईडी: 2211372)
आगंतुक पटल : 10