ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این بی اے نے لال صندل کے کسانوں کو 45 لاکھ روپے تقسیم کیے، جس سے کسانوں کی دوہری آمدنی اور لال صندل کے استعمال کو فروغ ملا

प्रविष्टि तिथि: 02 JAN 2026 11:22AM by PIB Delhi

حیاتی تنوع سے متعلق قومی اتھارٹی(این بی اے) نے آندھرا پردیش ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ کے ذریعے آندھرا پردیش کے کسانوں کو 45 لاکھ روپے (50,000 امریکی ڈالر) کی رقم جاری کر کے رسائی اور منافع کے اشتراک(اے بی ایس) کے تحت اپنی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس رقم کی تقسیم کے ساتھ ہندوستان کی جانب سے جاری کردہ کل رسائی اور منافع کی تقسیم کی رقم اب 143.5 کروڑ روپے (16 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ ہو گئی ہے۔

یہ پہل لال صندل کے کاشتکاروں کے لیے دستیاب معاشی مواقع کی نشاندہی کرتی ہے ، جو دوہری آمدنی کے فوائد حاصل کرتے ہیں: پہلا  لال صندل کی لکڑی/لٹھوں کی کاشت کی قانونی فروخت کے ذریعے ؛ اور دوسرا ، حیاتیاتی تنوع ایکٹ ، 2002 کے تحت لازمی اے بی ایس میکانزم کے تحت مالیاتی فوائد کے ذریعے ۔ اس طرح اے بی ایس فریم ورک کسانوں کو عالمی سطح پر قابل قدر مقامی نسلوں کے تحفظ اور مستقل استعمال کے لیے براہ راست انعام  نوازتا ہے ۔

اب تک قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی(نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی) نے آندھرا پردیش ریاست کو لال صندل کے تحفظ، حفاظت اور منافع کے حقداروں کے لیے 104 کروڑ روپے (11.5 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ اور تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، اوڈیشہ اور تلنگانہ سمیت دیگر ریاستوں کو 15 کروڑ روپے (1.66 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ کی رقم جاری کی ہے۔

زشتہ تین مہینوں کے دوران قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) نے اے بی ایس کے تحت  آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور تلنگانہ کے 220 سے زائد لال صندل کے کسانوں کو 5.35 کروڑ روپے کی رقم فراہم کی ہے۔

این بی اے کا اے بی ایس ڈھانچہ نہ صرف منافع کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو یقینی بناتا ہے ،بلکہ فعال طور پر پائیدار استعمال کے طریقوں کو فروغ دیتا ہے، غیر قانونی تجارت اور حد سے زیادہ استحصال کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ تحفظ کے نتائج کو ٹھوس حیاتیاتی و اقتصادی فوائد سے جوڑ کر، یہ ڈھانچہ لال صندل کو ایک محفوظ نوع سے زرعی کمیونٹی کے لیے روزگار فراہم کرنے والی اثاثہ میں تبدیل کرتا ہے۔

این بی اے کی مسلسل کوششوں کے ذریعے اے بی ایس رقم کے  مستفدین تک پہنچنے سے تحفظ، سائنسی تحقیق اور کسانوں و کمیونٹی کی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔ این بی اے مستقبل کی نسلوں کے لیے لال صندل کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم ہوتے ہیں بلکہ ہندوستان کی عالمی حیاتیاتی تنوع میں قیادت کو بھی مدد ملتا ہے۔

*****

UR-0058

(ش ح۔  م ع ن-ن ع)


(रिलीज़ आईडी: 2210793) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Marathi , Tamil