امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے مدھیہ پردیش کے ریوا میں منعقدہ کرشک سمیلن سے خطاب کیا


بساون ماما گوونش ون وہار قدرتی کاشتکاری کے ذریعے چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والے کسانوں کو بااختیار بنانے کا ایک کامیاب تجربہ ہے

قدرتی کاشتکاری سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، پانی کا تحفظ ممکن ہوگا اور صارفین کو مختلف بیماریوں سے تحفظ حاصل ہوگا

وزارتِ تعاون نے نامیاتی پیداوار کی تصدیق، جانچ، پیکیجنگ، مارکیٹنگ اور برآمدات کے لیے دو بڑی کوآپریٹیوز قائم کی ہیں

ریوا خطے میں قائم ماڈل فارم نہ صرف لاکھوں کسانوں کی رہنمائی کرے گا بلکہ قدرتی کاشتکاری کے فروغ میں بھی ایک پیش رو کردار ادا کرے گا

ہر شخص کو فطرت کی خدمت کا عہد کرنا چاہیے اور کم از کم پانچ پیپل کے درخت لگانے چاہیے، جو سب سے زیادہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں

آج ملک بھر میں چالیس لاکھ کسان قدرتی کاشتکاری کو اپنا چکے ہیں اور ان کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

آنے والے دنوں میں ملک بھر میں چار سو سے زائد لیبارٹریاں کسانوں کے کھیتوں اور ان کی پیداوار کے قدرتی ہونے کی تصدیق کریں گی، جس کے نتیجے میں ان کی آمدنی میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوگا

اٹل جی جیسے رہنما نایاب ہوتے ہیں، جن کے الفاظ اور عملی زندگی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں

اٹل جی نے نہ صرف ہماری پارٹی میں بلکہ پورے ملک کی عوامی زندگی میں بھی دیانت داری اور شفافیت کو غیر معمولی اہمیت دی

प्रविष्टि तिथि: 25 DEC 2025 7:15PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے آج مدھیہ پردیش کے ریوا میں منعقدہ کرشک سمیلن سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سمیت کئی دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھے۔

 

مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے کہا کہ بساون ماما گوونش ون وہار قدرتی کاشتکاری کے ذریعے چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والے کسانوں کو بااختیار بنانے کا ایک کامیاب اور قابلِ تقلید تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریوا خطے میں قائم یہ ماڈل فارم نہ صرف لاکھوں کسانوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا بلکہ قدرتی کاشتکاری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم قدرتی کاشتکاری کے روایتی طریقوں کو کہیں نہ کہیں فراموش کر چکے ہیں، حالانکہ قدرتی کاشتکاری ایک ایسا نظام ہے جس میں گائے کے گوبر اور پیشاب کو استعمال کر کے ایک متوازن زرعی ڈھانچہ قائم کیا جاتا ہے، جو نہ صرف کسانوں کی آمدنی کو برقرار رکھتا ہے بلکہ خالص اور صحت بخش فصلیں بھی پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک دیسی نسل کی گائے کے ذریعے، کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے بغیر، اکیس ایکڑ زمین پر قدرتی کاشتکاری کی جا رہی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ قدرتی کاشتکاری سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، پانی کا تحفظ ممکن ہوگا اور صارفین کو مختلف بیماریوں سے تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک میں چالیس لاکھ کسان قدرتی کاشتکاری کو اپنا چکے ہیں اور ان کی زرعی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے قائم کردہ وزارتِ تعاون کے تحت قدرتی کاشتکاری کی مصنوعات کی تصدیق کے لیے دو بڑی کوآپریٹیوز تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ کوآپریٹیوز نامیاتی مصنوعات کی تصدیق، دنیا کی جدید ترین لیبارٹریوں میں سائنسی جانچ، پیکیجنگ، مارکیٹنگ اور برآمدات کے تمام مراحل کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ملک بھر میں چار سو سے زائد لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی، جو کسانوں کو ان کے کھیتوں اور پیداوار دونوں کے قدرتی ہونے کے سرٹیفکیٹ فراہم کریں گی، جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوگا۔
جناب شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں نامیاتی مصنوعات کی ایک وسیع اور تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی موجود ہے، اور آج پوری دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ نامیاتی غذا صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہمارے کسانوں کی نامیاتی مصنوعات مؤثر طریقے سے عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں، ہمیں تصدیق، سائنسی جانچ، پرکشش پیکیجنگ اور مضبوط مارکیٹنگ کے ایک جامع نظام کی ضرورت ہے، اور حکومت ان تمام ذرائع کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
انہوں نے اپیل کی کہ ہر شخص کو فطرت کی خدمت کا عہد کرنا چاہیے اور کم از کم پانچ پیپل کے درخت ضرور لگانے چاہئیں، کیونکہ پیپل کے درخت سب سے زیادہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔

مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی نے کہا کہ مدھیہ پردیش کا ریوا خطہ بتدریج ایک خوشحال اور ترقی یافتہ علاقے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایشیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا پلانٹ ریوا میں قائم ہے، اور ریوا کو پریاگ راج اور جبل پور سے جوڑنے والی بہترین چار لین والی شاہراہیں بھی تعمیر کی جا چکی ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج سابق وزیرِ اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کا یومِ پیدائش بھی ہے، اور ریوا ان کے پسندیدہ مقامات میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اٹل جی نے نہ صرف اپنی جماعت بلکہ پورے ملک کی عوامی زندگی میں دیانت داری اور شفافیت کو غیر معمولی اہمیت دی۔
انہوں نے کہا کہ اٹل جی ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اٹل جی جیسے رہنما تاریخ میں شاذ و نادر ہی پیدا ہوتے ہیں، جن کے الفاظ اور عملی زندگی ایک دوسرے کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں۔

 

 ***

UR-3923

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2208603) आगंतुक पटल : 25
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Punjabi , Gujarati , Kannada