امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے گوالیار میں ابھیودیہ مدھیہ پردیش گروتھ سمٹ سے خطاب کیا
میں جناب اٹل جی کو ان کے یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں—وہ ایک عظیم مقرر، ایک حساس شاعر، عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہنما اور جدید بھارت کے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے والی عظیم شخصیت تھے
مودی جی کی قیادت میں ریاستوں کی ترقی کے لیے منظم صنعتی سربراہ اجلاسوں کی روایت کا آغاز کیا گیا
اسی سمٹ میں، ریاست کی متوازن ترقی کے لیے موہن یادو جی نے علاقائی سرمایہ کاری اجلاسوں کی روایت قائم کی ہے
آنے والے وقت میں اس نوعیت کے علاقائی سرمایہ کاری اجلاس ریاستوں کی متوازن ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے
پی ایم مِترا پارک کے ذریعے مدھیہ پردیش کے کسانوں کے لیے کپاس ایک مرتبہ پھر منافع بخش فصل بن گئی ہے
یہ ہماری ہی پارٹی ہے جس نے حقیقی معنوں میں مدھیہ پردیش کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے
اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں نے مدھیہ پردیش کو ایک بیمارو ریاست بنا دیا تھا؛ شیوراج سنگھ جی نے اس بدنام داغ کو ختم کیا، اور اب موہن یادو جی نئی توانائی کے ساتھ ریاست کو آگے بڑھا رہے ہیں
پی ایم مِترا پارک پانچ ایف وژن پر مبنی ہے: فارم سے فائبر، فائبر سے فیکٹری، فیکٹری سے فیشن، اور فیشن سے فارن، جو کسانوں کو ان کی پیداوار کی منصفانہ قیمتیں یقینی بنا رہا ہے
آج مدھیہ پردیش میں تقریباً 50 فیصد اسٹارٹ اپس خواتین کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جو خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک درخشاں مثال ہے
صرف ایک سال میں 4 لاکھ 57 ہزار نئے ایم ایس ایم ای یونٹس کے قیام کے ساتھ، مدھیہ پردیش ایم ایس ایم ایز کے لیے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے
بھارت نے سیمی کنڈکٹر صنعت میں بھی ایک زوردار قدم رکھا ہے؛ اس شعبے میں بھارت نہ صرف خود کفیل بنے گا بلکہ برآمدات بھی شروع کرے گا
موبائل مینوفیکچرنگ، دفاعی پیداوار(مینوفیکچرنگ) اور جدید بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مودی جی نے بھارت کو دنیا کی صفِ اوّل کی ملکوں میں شامل کر دیا ہے
اٹل جی نے نہ صرف ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ کیا بلکہ اپنی پوری زندگی قوم کے ’’خود شعور‘‘ کو بیدار کرنے اور سوراج (خود اختیاری) سے سوشاسن (اچھی حکمرانی) تک کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے وقف کر دی
کارگل جنگ میں ہر ایک درانداز کو باہر نکال کر فتح حاصل کرنا اٹل جی کی مضبوط، ثابت قدم اور پُرعزم قیادت کا واضح ثبوت ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 DEC 2025 6:22PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے آج گوالیار میں منعقدہ ابھیودیہ مدھیہ پردیش گروتھ سمٹ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، مرکزی وزیر برائے مواصلات جناب جیوترادتیہ سندھیا اور متعدد دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ملک میں منظم صنعتی کانکلیوز کا آغاز گجرات سے ہوا، جب جناب نریندر مودی جی ریاست کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی نے سائنسی انداز میں وائبرینٹ گجرات کے نام سے صنعتی سربراہ اجلاس کی بنیاد رکھی، جو نہایت کامیاب ثابت ہوا اور گجرات میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری لے کر آیا۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ریاست کی متوازن ترقی کے لیے علاقائی سرمایہ کاری کانفرنسوں کا آغاز کیا ہے۔ اب مدھیہ پردیش کے تمام خطوں میں سرمایہ کاری سے متعلق سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں، جو دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہوں گی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ہونے والی دو لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری بظاہر کم محسوس ہو سکتی ہے، لیکن کسی ایک خطے کے لیے یہ ایک نہایت بڑی اور اہم کامیابی ہے۔ اس خطے کے عوام کے لیے یہ سرمایہ کاری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر کسی ریاست میں متوازن ترقی نہ ہو تو وہ ترقی نہیں کر سکتی، کیونکہ ہر خطے میں بے پناہ امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالوا اور چمبل کے علاقوں میں کپاس کسانوں کی ایک قدیم فصل رہی ہے، لیکن مناسب قیمتیں نہ ملنے کے باعث کپاس کی کاشت میں نمایاں کمی آ گئی تھی۔ اب پی ایم مترا پارک کے ذریعے کپاس ایک بار پھر منافع بخش فصل بن چکی ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ یہاں سے کم لاگت پر ملک کے تقریباً نصف حصے کو اشیاء فراہم کی جا سکتی ہیں، لیکن اس صلاحیت کا مکمل استعمال اسی وقت ممکن ہے جب ریاست میں صنعتیں متوازن اور ہمہ گیر انداز میں قائم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں سے متصل اضلاع، دہلی کے قریب واقع علاقوں جیسے گوالیار، اور مغربی سرحد سے متصل علاقوں مثلاً دھار اور جھبوا میں بھی صنعتوں کا قیام ضروری ہے، تبھی جغرافیائی محلِ وقوع کے فوائد پوری طرح حاصل کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں منعقد ہونے والے علاقائی سرمایہ کاری اجلاسوں نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ گوالیار میں گوالیار سے متعلق 14 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے مدھیہ پردیش کو ایک بیمارو ریاست میں تبدیل کر دیا تھا، جس کا داغ شیوراج سنگھ جی نے مٹایا، اور اب موہن یادو جی نئی توانائی کے ساتھ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مدھیہ پردیش یقینی طور پر ایک ترقی یافتہ ریاست بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں معیاری شاہراہوں کی تعمیر کی گئی ہے، دریائے نرمدہ سے زیادہ سے زیادہ علاقوں تک پانی کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، آبپاشی کے رقبے میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور پنجاب و ہریانہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مدھیہ پردیش نے مسلسل سات مرتبہ ’کرشی کرمن‘ ایوارڈ حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی ہماری پارٹی ہے جس نے مدھیہ پردیش کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے جغرافیائی محلِ وقوع سے مکمل استفادہ کرنے کے لیے اندور میں ایک کثیر النوع لاجسٹک پارک تیار کیا جا رہا ہے، جو ملک بھر میں پیداوار سے وابستہ کمپنیوں کو وہاں اپنے گودام یا مراکز قائم کرنے کی جانب راغب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مدھیہ پردیش کو بجلی کے شعبے میں ایک منفی ریاست سمجھا جاتا تھا، لیکن آج ریاست میں ضرورت سے زائد بجلی دستیاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ صفائی کے شعبے میں بھی مدھیہ پردیش نے دیگر ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میٹرو خدمات کی عملیاتی لاگت کے اعتبار سے مدھیہ پردیش ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے کم ہے۔ ریاست نے نوخیز صنعتوں (اسٹارٹ اپس) کے شعبے میں بھی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، خوراک کی تیاری و پروسیسنگ، معدنیات، معدنیات پر مبنی صنعتیں، قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس، ٹیکسٹائل، دواسازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت ہر شعبے میں صنعتیں اور نوخیز کاروبار قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً پچاس فیصد نوخیز صنعتیں خواتین کے زیرِ انتظام ہیں، جو خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک بہترین مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش نے صرف ایک سال کے اندر چار لاکھ ستاون ہزار نئے خرد، چھوٹے اور متوسط صنعتی یونٹس قائم کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں درمیانی، چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے شعبے میں مدھیہ پردیش پورے ملک کے لیے ایک اہم مرکز بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور نوخیز صنعتوں اور اختراع کے ذریعے نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ پی ایم مترا پارک کو پانچ ایف وژن کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمتیں حاصل ہوں۔ اس وژن میں فارم سے فائبر، فائبر سے فیکٹری، فیکٹری سے فیشن، اور فیشن سے غیر ملکی منڈی تک کا مکمل انتظام شامل ہے، یعنی پی ایم مترا پارک میں برآمدات تک کا پورا نظام موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا پی ایم مترا پارک مدھیہ پردیش میں قائم کیا گیا ہے، جس سے کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور سیاحت وہ شعبے ہیں جو سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں، اور مدھیہ پردیش میں ان دونوں شعبوں کے لیے موزوں بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کے اشاریے میں بھی مدھیہ پردیش نے نہایت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کئی نئے شعبوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں بھارت کو ان شعبوں میں عالمی قیادت کا موقع فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زرِ مبادلہ کے ذخائر سات سو ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح کو عبور کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے سیمی کنڈکٹر صنعت میں اگرچہ قدرے تاخیر سے، لیکن نہایت مؤثر انداز میں قدم رکھا ہے، اور بہت جلد ہم نہ صرف اس شعبے میں خود کفیل ہوں گے بلکہ اس کی برآمدات بھی شروع کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے ذریعے بھارت نے کم ترین وقت میں تیز ترین ترقی حاصل کی ہے۔ جب مودی جی وزیرِ اعظم بنے، اس وقت ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد صرف سات کروڑ تھی، جو ستمبر 2025 میں بڑھ کر ایک سو ایک کروڑ ہو گئی۔ اب براڈ بینڈ صارفین کی تعداد بھی تقریباً ننانوے کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے پچانوے فیصد حصے میں چوتھی نسل (فور جی) کنیکٹیویٹی دستیاب ہے، جبکہ ننانوے فیصد علاقوں میں پانچویں نسل (فائیو جی) کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس کے ذریعے بھارت نے ڈیجیٹل لین دین اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک غیر معمولی چھلانگ لگائی ہے۔ مالی سال 2024–25 میں دنیا کے تقریباً پچاس فیصد ڈیجیٹل لین دین بھارت میں انجام پائے۔ اگست 2025 میں تقریباً دو ہزار کروڑ ڈیجیٹل لین دین، جن کی مجموعی مالیت پچیس لاکھ کروڑ روپے کے لگ بھگ تھی، انجام دے کر بھارت نے دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ کووِڈ۔19 کے خلاف جدوجہد کے دوران ویکسین کی تیاری اور تحقیق و ترقی کے لیے ایک وسیع بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا، اور آج دنیا کی ساٹھ فیصد ویکسین بھارت میں تیار کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی بھارت نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اور آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک ہے۔ دفاعی برآمدات اور دفاعی پیداوار کے نظام کو بھی ازسرِ نو منظم کیا گیا ہے۔
کاروبار کرنے میں آسانی کے اشاریے میں بھارت کا درجہ 2014 میں ایک سو بیالیسواں تھا، جو اب بہتر ہو کر تریسٹھویں مقام پر آ گیا ہے۔ دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن کے ضابطے نے ملک میں ایک منظم اور شفاف معاشی نظام کی تشکیل کی ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کی قیادت میں بھارت کو بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں دنیا میں سرفہرست بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پچھلی حکومت کے دور میں ملک میں نوے ہزار کلومیٹر شاہراہیں تھیں، جبکہ اب ڈیڑھ لاکھ کلومیٹر نئی شاہراہیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔
چار لین والی شاہراہوں کی لمبائی پہلے اٹھارہ ہزار کلومیٹر تھی، جو اب بڑھ کر چھیالیس ہزار کلومیٹر ہو گئی ہے۔ دیہی سڑکوں کی لمبائی تین لاکھ اکیاسی ہزار کلومیٹر سے بڑھ کر سات لاکھ چوراسی ہزار کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
پہلے ملک میں صرف چوہتر ہوائی اڈے تھے، جبکہ اب ان کی تعداد ایک سو تریسٹھ ہو چکی ہے۔ پہلے ایک بھی وندے بھارت ٹرین نہیں تھی، جبکہ اب ایک سو چونسٹھ وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں، اور ان ٹرینوں کے پرزوں کی تیاری بھی مدھیہ پردیش میں شروع ہو چکی ہے۔
اسی طرح پہلے ایک بھی امرت بھارت اسٹیشن موجود نہیں تھا، جبکہ اب ایک ہزار تین سو سینتیس اسٹیشن تعمیر ہو چکے ہیں۔ ریلوے لائنوں کی برق کاری پہلے صرف بائیس ہزار کلومیٹر تھی، جو اب بڑھ کر اڑسٹھ ہزار کلومیٹر ہو گئی ہے۔
میٹرو سے منسلک شہروں کی تعداد پہلے پانچ تھی، جو اب بڑھ کر تئیس ہو گئی ہے۔ اس سے قبل صرف سو گرام پنچایتوں میں آپٹیکل فائبر دستیاب تھا، جبکہ اب یہ سہولت دو لاکھ چودہ ہزار گرام پنچایتوں تک پہنچ چکی ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی نے مدھیہ پردیش کے نوجوانوں اور ریاست میں سرمایہ کاری کے لیے آئے ہوئے صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش کا جغرافیائی محلِ وقوع اس قدر پرکشش ہے کہ یہاں کہیں بھی بیج بوئے جائیں تو فصلیں اگ سکتی ہیں، لیکن مدھیہ پردیش کی زمین اتنی زرخیز ہے کہ یہاں روپے کی بوائی سے کروڑوں کی کمائی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ریاست علاقائی توازن کے ساتھ ترقی کرتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ریاست کے عوام اور صنعتی شعبے کو پہنچتا ہے، کیونکہ علاقائی خصوصیات پر مبنی صنعتیں پائیدار ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے کامیاب ثابت ہوتی ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے ایک سو ایکویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج پورا ملک اپنے عہد کی ایک عظیم شخصیت، ایک دور اندیش رہنما اور جدید بھارت کے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے والے اٹل جی کا یومِ پیدائش منا رہا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ وہ خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ آج وہ اس سرزمین پر موجود ہیں جہاں اٹل جی نے اپنی ابتدائی زندگی گزاری۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وہ اسی دھرتی پر کھڑے ہیں جس کی مٹی نے نوجوان اٹل کو اٹل بہاری واجپئی کی صورت میں نکھارا۔
انہوں نے کہا کہ اٹل جی نے نہ صرف اس ملک کے ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اپنی پوری زندگی قوم کے خود شعور کو بیدار کرنے اور سوراج (خود اختیاری) سے سوشاسن (اچھی حکمرانی) تک کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے وقف کر دی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ جب ہر شعبے پر انگریزی کا غلبہ تھا، اس وقت اٹل جی نے اقوامِ متحدہ میں ہندی زبان میں خطاب کر کے ہر ہندوستانی کا دل جیت لیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش بڑی حد تک قبائلی علاقوں پر مشتمل ریاست ہے۔ اٹل جی کے وزیرِ اعظم بننے سے قبل مرکز میں قبائلیوں کے لیے کوئی علیحدہ محکمہ موجود نہیں تھا، لیکن ان کے دورِ حکومت میں حکومتِ ہند نے قبائلی امور کی وزارت قائم کی، جس سے قبائلی فلاح و بہبود کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جب اٹل جی وزیرِ اعظم بنے تو ملک کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو انتخابات جیتنے کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اٹل جی نے اس فرسودہ سوچ کو ختم کیا کہ “انتخابات بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے نہیں جیتے جا سکتے”، اور گولڈن کواڈری لیٹرل منصوبہ نافذ کیا۔ اس منصوبے کے تحت ملک کو چاروں سمتوں سے جوڑنے والی چھ بڑی قومی شاہراہیں تعمیر کی گئیں، جس سے بھارت کے مضبوط اور جدید بنیادی ڈھانچے کی راہ ہموار ہوئی۔
مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی نے کہا کہ اٹل جی ہی وہ رہنما تھے جنہوں نے پوری دنیا کے سامنے یہ اصول قائم کیا کہ ایک قوم امن کے تحفظ کے لیے بھی جوہری طاقت بن سکتی ہے۔ دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود انہوں نے بھارت کو جوہری صلاحیت سے لیس ملک بنایا۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کارگل تنازع کے دوران جب دراندازوں نے سرحد پار کی تو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھارت پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ وہ عالمی فورمز پر جا کر پاکستان سے مذاکرات کرے، لیکن اٹل جی نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ہم پہلے ہی امن کے لیے کوششیں کر چکے ہیں، ہمیں دھوکہ دیا گیا ہے، اور اب اس وقت تک پاکستان سے کوئی بات چیت ممکن نہیں جب تک ہر ایک درانداز کو بھارتی سرزمین سے باہر نہ نکال دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کارگل میں حاصل ہونے والی فتح اٹل جی کی مضبوط، بااصول اور غیر متزلزل قیادت کا زندہ ثبوت ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اٹل جی ایک عظیم مقرر، ایک حساس شاعر اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہنے والے رہنما تھے۔ انہیں اپنی پوری زندگی میں ایک “اجاتشَترو” (یعنی دشمنوں کے بغیر رہنے والا شخص) کے طور پر جانا گیا، اور سیاست کی دنیا میں دشمن بنائے بغیر جینا اور دنیا سے رخصت ہونا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اٹل جی کے مخالفین نے بھی کبھی ان کے بارے میں نازیبا یا منفی کلمات ادا نہیں کیے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ امدادِ باہمی نے کہا کہ آج مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ جی کا یومِ پیدائش بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنڈت مالویہ جی نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے قیام سے لے کر گاندھی جی کے قریبی رفیق کے طور پر اپنے کردار تک، اور بعد ازاں ہندو مہاسبھا کے قیام کے ذریعے، بلا خوف و تردد ہندو فکر کو—جو اس ملک کی بنیادی فکری اساس ہے—پورے ملک میں پھیلایا۔
انہوں نے کہا کہ بعد کے برسوں میں اسی بنارس ہندو یونیورسٹی نے ملک کو ایسے متعدد قائدین فراہم کیے جنہوں نے اسی فکر کو آگے بڑھایا۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ آج بھارت رتن جناب سی راجگوپالاچاری کی برسی بھی ہے، اور انہوں نے انہیں بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
***
UR-3922
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2208597)
وزیٹر کاؤنٹر : 40