صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت نے سردیوں کے موسم میں انفلوئنزا کے پھیلاؤ کو روکنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا
مرکزی وزارت صحت ملک میں موسمی انفلوئنزا سمیت سانس کی بیماریوں کی صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھ رہی ہے
بھارت سانس کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، نگرانی میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں دیکھا گیا
प्रविष्टि तिथि:
02 DEC 2025 6:30PM by PIB Delhi
موسم سرما کے ساتھ آنے والے انفلوئنزا کے موسم کے پیش نظر ، مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکل اور کیمیکل و فرٹیلائزرزجناب جے پی نڈا کی صدارت میں ایک اعلی سطحی جائزہ میٹنگ منعقد کی گئی ۔ مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سریواستو ، ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) مرکزی وزارت صحت ڈاکٹر سنیتا شرما ، جوائنٹ سکریٹری (پبلک ہیلتھ) محترمہ وندنا جین ، ڈائریکٹر نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) پروفیسر (ڈاکٹر) رنجن داس اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ (ڈی ایم) سیل اور انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام (آئی ڈی ایس پی) کے ماہرین نے میٹنگ میں شرکت کی ۔

کرتویہ بھون 1 میں اجلاس کے دوران، سکریٹری (صحت) نے مرکزی وزیر صحت کو بتایا کہ بھارت میں موسم میں کمی اور زیادتی کے دوران عام طور پر انفلوئنزا کے معاملات سامنے آتے ہیں اور یہ اگست تا اکتوبر (مون سون کے انتہا کے وقت) اور جنوری تا مارچ (شدید سردی کے دوران)ہوتا ہے۔
سال 2014-15 کے دوران موسمی انفلوئنزا کے معاملات میں نمایاں اضافہ کو یاد کرتے ہوئے، جناب نڈا نے موجودہ صورتحال پر تازہ ترین معلومات طلب کیں اور پوچھا کہ اس وقت پائے جانے والے وائرس کی اقسام تاریخی رجحانات سے کسی حد تک مختلف ہیں یا نہیں۔

نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) اور انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام (آئی ڈی ایس پی) کے افسران نے وزیر موصوف کو بتایا کہ عالمی سطح پر اور بھارت میں بھی انفلوئنزا کی سرگرمی کم ہے۔ نگرانی سے پتہ چلتا ہے کہ گردش کرنے والے وائرس کی اقسام عام موسمی شکل ایچ 3 این 2 اور انفلوئنزا اور انفلوئنزا B (وکٹوریہ ہی ہیں، جبکہ ایچ 1 این ۱ کا ایک چھوٹا حصہ موجود ہے۔ وزیر کو تقریباً حقیقی وقت کی نگرانی کے نظام سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں آئی ڈی ایس پی کا انفلوئنزا لائک النیس (آئی ایل آئی) اور سیویر ایکیوٹ ریسپائریٹری النیس (ایس اے آر آئی) نگرانی نیٹ ورک، میڈیا اسکیننگ کے ذریعے اے آئی پر مبنی واقعہ جاتی نگرانی، اور سانس کے جراثیم کے لیے آئی سی ایم آر کی نگرانی شامل ہیں۔ تمام نظام فی الحال انفلوئنزا کے معاملات میں کسی غیر معمولی اضافے کے کوئی اشارے نہیں دکھاتے ہیں ۔
این سی ڈی سی کے ڈائریکٹر پروفیسر (ڈاکٹر) رنجن داس نے یہ بھی بتایا کہ این سی ڈی سی اس ماہ کے آخر میں انفلوئنزا پر دو روزہ قومی 'چنتن شیور' کا انعقاد کرے گا ، جس میں اہم وزارتیں ، محکمے اور ریاستی حکومتیں شامل ہوں گی تاکہ انفلوئنزا کی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا جا سکے اور آگے کی منصوبہ بندی کی جا سکے ۔
جناب نڈا نے جاری تیاریوں کی تعریف کی اور تمام ریاستوں کے نوڈل افسران کے ساتھ انفلوئنزا کی تیاریوں کا جائزہ لینے اور تمام مرکزی حکومت کے اسپتالوں کی تیاری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ضلع اسپتالوں اور میڈیکل کالجز میں تیاریوں کا جائزہ اگلے پندرہ دنوں کے اندر مکمل کر لیا جائے۔ وزیر نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورے جاری کرنے اور صحت کی سہولیات پر باقاعدگی سے ماک ڈرلز کرنے کی بھی ہدایت دی۔
****
ش ح۔ ش آ ۔ ن م
U. No-2258
(रिलीज़ आईडी: 2198028)
आगंतुक पटल : 37