وزارت دفاع
آتم نربھر بھارت: وزیر دفاع اور یوپی کے وزیر اعلی نے لکھنؤ میں یوپی ڈیفنس کوریڈور کے تحت برہموس انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ فیسلٹی سینٹر میں تیار کردہ برہموس میزائلوں کی پہلی کھیپ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
پاکستان کا ہر انچ علاقہ اب برہموس کی پہنچ میں ہے: جناب راج ناتھ سنگھ
"آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ فتح ہماری عادت بن چکی ہے ؛ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مزید بڑھانا چاہیے"
"ہمیں ہر قسم کی دیسی ساخت کی ٹیکنالوجیز تیار کرنی چاہئیں تاکہ ہماری سپلائی چین ہندوستان کے اندر ہی رہے"
प्रविष्टि तिथि:
18 OCT 2025 1:45PM by PIB Delhi
دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خود کفالت کے وژن کوتقویت بخشتے ہوئے، وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ اور اترپردیش کے وزیر اعلی جناب یوگی آدتیہ ناتھ نے 18 اکتوبر 2025 کو مشترکہ طور پر لکھنؤ میں برہموس انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ فیسلٹی سینٹر میں تیار کردہ برہموس میزائلوں کی پہلی کھیپ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ جدید ترین سہولت ، جو یوپی ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کا ایک اہم جزو ہے ،اس کا ورچوئل طور پر افتتاح وزیر دفاع نے 11 مئی 2025 کو کیا تھا اور پانچ ماہ کے اندر ، میزائلوں کی پہلی کھیپ تعیناتی کے لیے تیار ہو گئی تھی ۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے برہموس کو نہ صرف ایک میزائل بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں کی علامت قرار دیا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس میزائل میں روایتی وار ہیڈ اور جدید گائیڈڈ سسٹم ہے اور یہ سپر سونک رفتار سے طویل فاصلے تک مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ رفتار ، درستگی اور طاقت کا یہ امتزاج برہموس کو دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک بناتا ہے ۔ یہ ہماری مسلح افواج کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے ۔
آپریشن سندور میں برہموس کے کردارکو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میزائل نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ آزمائش سے بہت آگے بڑھ گیا ہے اور قومی سلامتی کا سب سے بڑا عملی ثبوت بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر انچ علاقہ اب برہموس کی پہنچ میں ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ "آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ فتح ہماری عادت بن چکی ہے ، اور اب ہمیں اپنی صلاحیتوں کو مزید بڑھانا چاہیے ۔ آپریشن محض ایک ٹریلر تھا ۔ اس سے پاکستان کو احساس ہوا ہے کہ اس کے بعد کیا ہو سکتا ہے ۔ "

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ آج ہندوستان ایک ایسے مقام پر ہے جہاں وہ اپنی سلامتی کو مضبوط کر رہا ہے اور دنیا کو دکھا رہا ہے کہ وہ دفاع اور ٹیکنالوجی میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ برہموس جیسی کامیابیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ میڈ ان انڈیا اب کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک عالمی برانڈ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ "چاہے وہ فلپائن کو برہموس کی برآمد ہو یا مستقبل میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون ہو ، ہندوستان اب صرف سازوسامان لینے والے کا نہیں بلکہ دینے والے کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ یہ ایک آتم نربھر بھارت کی حقیقی شناخت ہے ، جس وژن کے ساتھ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے 2014 میں اپنا سفر شروع کیا تھا ۔ وزیر اعظم مودی نے ہمیں ایک ایسے ہندوستان کا وژن دیا ہے جو مکمل طور پر ترقی یافتہ ، خود کفیل اور 2047 تک دنیا کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہو ۔ اس کوشش میں دفاعی شعبے کا کردار فیصلہ کن ہوگا ۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ برہموس کی ٹیم نے گزشتہ ایک ماہ میں دو ممالک کے ساتھ تقریبا 4000 کروڑ روپے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں کئی ممالک کے ماہرین لکھنؤ کا دورہ کریں گے ، جس سے یہ شہرمعلومات کا مرکز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک لیڈر بن جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے مالی سال سے برہموس کے لکھنؤ یونٹ کا کاروبار تقریبا 3,000 کروڑ روپے ہوگا اور جی ایس ٹی کی وصولیابی تقریبا 500 کروڑ روپے ہوگی ۔

کل 380 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے 200 ایکڑ کے برہموس انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ فیسلٹی سینٹر کے بارے میں وزیر دفاع نے کہا کہ یہ پروجیکٹ نہ صرف ایک دفاعی سہولت ہے بلکہ روزگار اور ترقی کا ایک نیا ذریعہ بھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ "پیداوار کے لحاظ سے ، ہر سال اس سہولت میں تقریبا 100 میزائل نظام تیار کیے جائیں گے ۔ اتر پردیش میں آنے والی سرمایہ کاری اور ریاست میں ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خطہ ترقی اور دفاع دونوں کے نئے دور کی علامت بننے کے لیے تیار ہے ۔
کچھ ممالک کی جانب سے دفاعی اسپیئر پارٹس سپلائی چین سے متعلق مسائل سے متعلق رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے چھوٹی صنعتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ہتھیاروں کے بڑے نظام کے انضمام کے لیے درکار ہزاروں اجزاء اور ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہیں جس سے دوسروں پر انحصار کم ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ "جیسے جیسے تکنیکی ترقی ہوتی ہے ، سپلائی چین بھی متنوع ہوتی جاتی ہے ۔ یہ سپلائی چین اکثر دوسرے ممالک سے مربوط ہوتی ہیں ۔ اگر وہ شخص ، کمپنی ، یا ملک اس اسپیئر پارٹ کی فراہمی سے انکار کرتا ہے ، تو آپ کی مصنوعات تیار نہیں کی جاسکے گی ۔ اپنی چھوٹی صنعتوں کو اتنا مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اسپیئر پارٹس کے لیے دوسروں پر انحصار نہ کرنا پڑے ۔ چاہے وہ ایڈوانسڈ سیکرز ہوں یا رام جیٹ انجن ، ہمیں ہر قسم کی ٹیکنالوجیز کو مقامی طور پر تیار کرنا چاہیے تاکہ ہماری سپلائی چین ہندوستان کے اندر ہی رہے ۔
وزیر دفاع نے چھوٹے کاروباریوں کو دفاعی ماحولیاتی نظام میں ضم کرنے کے لیے ایک مناسب پروجیکٹ روڈ میپ پر زور دیا ۔ انھوں نے کہا کہ "اتر پردیش ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور تب ہی مکمل طور پر کامیاب ہوگا جب چھوٹی صنعتیں بڑی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ترقی کریں گی ۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں یوپی نہ صرف مینوفیکچرنگ کا مرکز بنے گا بلکہ چھوٹے اور بڑے دونوں کاروباریوں کے لیے اختراع اور روزگار کا ایک نیا مرکز بھی بنے گا ۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ برہموس انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ فیسیلٹی سینٹر جیسی سہولیات نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ معیشت کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ حکومت کو فراہم کیے جانے والے میزائلوں کے بیچ سے جی ایس ٹی کی خاطر خواہ آمدنی حاصل ہو رہی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ ہر نظام نہ صرف ملک کی حفاظت کرتا ہے بلکہ معیشت کو بھی تقویت دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ "صرف ایک میزائل کی تیاری سے وصول ہونے والے ٹیکس کے ساتھ ، حکومت متعدد اسکول بنا سکتی ہے ، متعدد اسپتال قائم کر سکتی ہے ، اور ایسی اسکیموں کو نافذ کر سکتی ہے جن سے لوگوں کو براہ راست فائدہ ہوتا ہے" ۔
اپنے خطاب میں ، یوپی کے وزیر اعلی نے برہموس کو آتم نربھرتا کا میزائل قرار دیا ، جو ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کر رہا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے لکھنؤ کو برہموس میزائلوں کی تیاری کا مرکز بنا کر دفاع میں خود کفالت کی تحریک کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا ۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ لکھنؤ میں تیار کردہ میزائل ملک کے لوگوں کی سلامتی اور خوشحالی کی یقین دہانی ہیں ۔ انہوں نے یوپی ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کے تمام چھ نوڈس میں ہونے والی پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں 15,000 سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملا ہے ۔
برہموس سہولت اتر پردیش ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کے تحت سب سے اہم پروجیکٹوں میں سے ایک ہے ۔ یہ اعلی ترین تکنیکی معیارات کے مطابق اسمبلی ، انضمام اور جانچ کے مکمل عمل کو انجام دیتا ہے ۔ اپنی پہلی میزائل کھیپ کو روانہ کرنے کے ساتھ ، اتر پردیش قومی 'میک ان انڈیا ، میک فار دی ورلڈ' پہل میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے ۔ لکھنؤ یونٹ کوریڈور میں پہلا یونٹ ہے جس نے پوری مینوفیکچرنگ اور ٹیسٹنگ کے عمل کو مقامی طور پر منظم کیا ہے ، جس سےکلیدی خود مختاری اور صنعتی ترقی دونوں کو تقویت ملی ہے ۔
جناب راج ناتھ سنگھ اور جناب یوگی آدتیہ ناتھ نے بوسٹر بلڈنگ کا بھی افتتاح کیا اور بوسٹر ڈاکنگ کے عمل کا براہ راست مظاہرہ دیکھا ۔ انہوں نے برہموس سمیلیٹر آلات کے ساتھ ایئر فریم اور ایوینکس ، پری ڈسپیچ انسپیکشن ، اور وار ہیڈ بلڈنگز میں پریزنٹیشنز کا بھی جائزہ لیا ۔ موبائل خودکار لانچر کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ۔



ڈی جی (برہموس) ڈاکٹر جے تیرتھ آر جوشی نے جی ایس ٹی کا بل اور تقریبا40 کروڑ روپے کا چیک یوپی کے وزیر اعلی کے سپرد کیا، جو ریاست کے لیے آمدنی پیدا کرنے کی علامت ہے ۔ یوپی کے نائب وزیر اعلی جناب برجیش پاٹھک اور محکمہ دفاع کے تحقیق و ترقی کے سکریٹری اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر وی کامت بھی اس موقع پر موجود معززین میں شامل تھے ۔
*****
ش ح-ا ع خ ۔ر ا
U-No- 64
(रिलीज़ आईडी: 2180726)
आगंतुक पटल : 51