صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے نئی دہلی میں فکی ہیل2025 کے 19 ویں ایڈیشن کے دوران؛ صحت کی دیکھ بھال میں اہم لمحات‘‘کیئر@ 25- کے موضوع کے تحت منعقدہ کانفرنس سے خطاب کیا


مرکزی وزیر صحت نے ادارہ جاتی زچگیوں میں89فیصد اضافے کو اُجاگر کیا ، جس کا سہرا آشا کارکنوں اور صف اول کے صحت اہلکاروں کو جاتا ہے

ہندوستان میں تپ دق (ٹی بی)کے واقعات میں17.7 فیصد کمی ، جو عالمی اوسط میں 8.3 فیصد کی کمی سے دوگنا سے زیادہ ہے:مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود

प्रविष्टि तिथि: 09 OCT 2025 4:52PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے آج  فکی(ایف آئی سی سی آئی) فیڈریشن ہاؤس، نئی دہلی میں فکی ہیل2025 کے 19ویں ایڈیشن سے خطاب کیا۔ دو روزہ کانفرنس، جس کا اہتمام فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف آئی سی سی آئی)نے وزارت صحت اور خاندانی بہبود اور نیتی آیوگ کے تعاون سے کیا ہے، اس کا انعقاد‘‘کیئر@ 25- صحت کی دیکھ بھال میں تعین کن لمحات’’ کے عنوان سے کیا جا رہا ہے۔

کلیدی خطبہ دیتے ہوئے، مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے گزشتہ 25 سالوں میں ہندوستان کے صحت کے شعبے میں نمایاں تبدیلی کو اُجاگرکیا اور سب کے لیے قابل رسائی، کم خرچ اور معیاری صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی ثابت قدمی کے عزم پر زور دیا۔

0001.jpg

اپنے خطاب میں، مرکزی وزیر نے باور کرایا کہ 2017 میں، حکومت ہند نے صحت کی دیکھ بھال کی اصلاحات میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ، جس کا مقصد ایک جامع اور جامع صحت کے نظام کی تشکیل کرنا ہے، جو نگہداشت کے تسلسل کو یقینی بنا سکے ۔  انہوں نے کہا کہ ‘‘قابل رسائی اور جامع صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت نے ملک بھر میں 1.7 لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر (اے اے ایم) قائم کیے ہیں، جو شہریوں کے لیے طبی رابطے کے پہلے مقام کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کی بنیاد کو مضبوط بنا رہے ہیں۔’’  نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس)کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ، مرکزی وزیر صحت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آشا کارکنوں اور فرنٹ لائن ہیلتھ اہلکاروں کی سرگرم کوششوں کی وجہ سے ہندوستان میں ادارہ جاتی زچگی 79فیصدسے بڑھ کر 89فیصد ہو گئی ہے۔

صحت کے کلیدی اشاریوں میں ہندوستان کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے ، مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ ، سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس)کے مطابق زچگی کی شرح اموات (ایم ایم آر)130 سے کم ہو کر 88 فی لاکھ زندہ پیدائشوں پر آ گئی ہے، جبکہ بچوں کی شرح اموات (آئی ایم آر)39 سے کم ہو کر 27 فی ہزار زندہ پیدائشوں پر آ گئی ہے ، جو زچگی اور بچوں کی صحت میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔  پانچ سال سے کم عمر کی شرح اموات (یو 5 ایم آر) میں42فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، جو عالمی اوسط 14فیصدکی کمی کو پیچھے چھوڑ رہی ہے اور نوزائیدہ اموات کی شرح (این ایم آر) میں عالمی سطح پر 11فیصد کی کمی کے مقابلے میں 39فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔

مزید برآں، مرکزی وزیر صحت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے اعداد و شمار کے مطابق ، ہندوستان میں تپ دق (ٹی بی)کے واقعات میں17.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ عالمی اوسط میں8.3 فیصد کی کمی سے دوگنا سے زیادہ ہے ۔  لینسیٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ ٹی بی کے علاج کا آغاز اب تشخیص کے 10 سے 15 دنوں کے اندر شروع ہو جاتا ہے، جو جلد پتہ لگانے ، دیکھ بھال اور کیس مینجمنٹ میں خاطر خواہ بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیرموصوف نے صحت کی دیکھ بھال میں مالی تحفظ اوراستطاعت پر حکومت کی توجہ کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ جی ایس ٹی 2.0 فریم ورک کے تحت، حکومت نے صحت بیمہ پر 0فیصد جی ایس ٹی کی طرف ایک ترقی پسند قدم اٹھایا ہے، جس کا مقصد شہریوں کے لیے علاج کو کم خرچ، بہتر بنانا اور کوریج کو مزیر وسیع کرنا ہے۔

0002.jpg

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت کے نتائج اور اختراع میں پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے سرکاری-نجی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ فکی ہیل جیسے پلیٹ فارم پالیسی سازوں، صنعت کے قائدین اور ماہرین کو ایک ساتھ آنے اور ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال میں تبدیلی کے ایجنڈے کو چلانے کے قابل بناتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، پروفیسر وی کے پال، نیتی آیوگ کے ممبر نے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں‘وکست بھارت 2047’ کے وژن کا اعادہ کیا ۔  انہوں نے بہتر اور معیاری صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے پر بھی زور دیا۔

0003.jpg

اس موقع پر مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے باضابطہ طور پر کئی اہم علمی مقالے جاری کیے،جن کا مقصد ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں پالیسی، اختراع اور معیار کو ترقی دینا ہے۔  ان کاغذات میں ‘فکی-ای وائی رپورٹ: حقیقی ذمہ دارانہ نگہداشت-ہندوستانی صحت کی دیکھ بھال میں معیار اور عملداری کو آگے بڑھانا’ شامل ہے، جس میں صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں جوابدہی اور کارکردگی کو مستحکم کرنے کی حکمت عملیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ‘فکی پیپر:ہندوستان میں طویل عمر تک صحتمند رہنے-ہندوستان میں فعال اور صحت مند بڑھاپے’ ، ہندوستان کی عمر رسیدہ آبادی میں صحت اور تندرستی کو فروغ دینے کے اقدامات کا خاکہ اور ‘فکی-کے پی ایم جی پیپر: صحت کی دیکھ بھال میں اے آئی-اے آئی پر مبنی تبدیلی میں نگہداشت کا از سر نو تصور’ ، صحت کی دیکھ بھال کے نتائج کو بہتر بنانے اور مریضوں کے تجربے کو تقویت عطا کرنے میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی کی صلاحیت کے امکانات  تلاش کرتا ہے۔

0004.jpg

جناب ہرش وردھن اگروال، صدر ، فکی ، ڈاکٹر ہرش مہاجن ، چیئر ، فکی ہیلتھ سروسز کمیٹی اور بانی اور چیئرمین ، محترمہ راججی مہدوان ، منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او-انڈیا اینڈ نیبرنگ مارکیٹس ، روچے فارما ، جناب ورون کھنہ ، شریک چیئر ، فکی ہیلتھ سروسز کمیٹی اور ایم ڈی ، جناب ڈین وہدٹ، بانی اور سی ای او  ہیوما تھیراپیوٹکس بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

*****

ش ح۔ش ب۔ن ع

U-7326


(रिलीज़ आईडी: 2176963) आगंतुक पटल : 43
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Punjabi , Tamil