نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
کھیلوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے بھارت کے سب سے بڑے کھیلوں کے قومی دن (این ایس ڈی) کی تقریبات کی قیادت کی
تیس کروڑ لوگوں نے اولمپک اور پیرالمپکس اقدار کو اپنانے اور فٹنس سرگرمیوں میں حصہ لینے کا عہد لیا
کھیل کے میدان سے بڑا کوئی کلاس روم نہیں، کھیل سے بڑا کوئی استاد نہیں: ڈاکٹر منڈاویا
وزیر موصوف نے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم، نئی دہلی میں پہلے عالمی معیار کے مونڈو ایتھلیٹکس ٹریک کا افتتاح کیا
بھارت کے ہر ضلع میں جشن منایا گیا، کھیلوں کے ’جن آندولن‘ میں شہری اور عوامی نمائندے یکجا ہوئے
Posted On:
29 AUG 2025 6:28PM by PIB Delhi
ہاکی کے جادوگر میجر دھیان چند کی 120 ویں جینتی کے موقع پر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تقریباً 30 کروڑ شہریوں نے قومی کھیلوں کا دن 2025 منانے کے لیے جمع ہوکر اپنی تاریخ میں کھیلوں کی سب سے بڑی تحریک کا مشاہدہ کیا۔ نوجوانوں کے امور اور کھیلوں اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے راجدھانی کے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں پھولوں کی چادر چڑھا کر قومی تقریبات کی قیادت کی، جس میں وزارت کھیل، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی)، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے)، پیرالمپکس کمیٹی آف انڈیا (پی سی آئی) کے عہدیداروں سمیت 2000 سے زیادہ شرکا شامل ہوئے۔ نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز (این ایس ایف)، ایتھلیٹس اور کوچز جواہر لال نہرو (جے ایل این) اسٹیڈیم میں کھیلوں کی انٹرایکٹو سرگرمیوں کے لیے صبح سویرے پہنچے۔

ملک گیر تقریبات کا آغاز عہد کے ساتھ ہوا، جس میں لاکھوں شہریوں نے فٹنس اور تندرستی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ موقع بہترین کارکردگی، دوستی اور احترام کی اولمپک اقدار اور بہادری، عزم، ترغیب اور مساوات کی پیرالمپک اقدار سے گونجتا ہے، جس نے اس دن کو کھیل کود کا ایک متحد جذبہ فراہم کیا۔

اسکولوں، یونیورسٹیوں، پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں کمیونٹی ہاکی نمائشوں سے لے کر بڑے پیمانے پر فٹنس مہم تک، یہ دن ایک حقیقی ’’کھیلوں کے جن آندولن‘‘ کے طور پر سامنے آیا۔ بھارت کے ہر ضلع میں تقریبات تین الگ طریقوں سے منعقد کی گئیں – ایس اے آئی، کھیلو انڈیا اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تحت اسپورٹس اکیڈمیوں کے ذریعے۔ اسکولوں، کالجوں، ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز (آر ڈبلیو اے)، کارپوریٹس، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (پی ایس یو) اور سرکاری دفاتر میں تنظیمی شرکت کے ذریعے؛ اور ضلع کی قیادت والی سرگرمیوں کے ذریعے ممبران پارلیمنٹ، قانون سازوں، سینئر رہ نماؤں اور ممتاز کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ اس دن کو کھیلوں کے عوامی تہوار میں تبدیل کرنے کی اجتماعی کوشش میں کوئی بھی تنظیم پیچھے نہیں رہی، جو حقیقی معنوں میں ’ہر گلی، ہر میدان کھیلے سارا ہندوستان‘ کے نعرے کی عکاسی کرتی ہے۔

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن، پیرالمپکس کمیٹی آف انڈیا اور نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز نے ایک بڑا کردار ادا کیا، جنھوں نے کھیلوں میں آنے والے لوگوں کے بجائے کھیلوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے نچلی سطح پر پروگراموں کو فعال کیا۔ عوام پر مرکوز اس تناظر نے اس پیغام کو تقویت دی کہ کھیل صرف مقابلہ نہیں ہے، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔
لکھنؤ (اترپردیش) میں جناب یوگی آدتیہ ناتھ، بنگلورو (کرناٹک) میں جناب سدارامیا، بھونیشور (اوڈیشہ) میں جناب موہن چرن مانجھی، ایٹا نگر (اروناچل پردیش) میں جناب پیما کھانڈو اور دہرادون (اتراکھنڈ) میں جناب پشکر سنگھ دھامی نے اپنی ریاستوں کی قیادت کی۔ نائب وزرائے اعلیٰ نے آندھرا پردیش (وشاکھاپٹنم)، چھتیس گڑھ (رائے پور) اور مہاراشٹر (پونے) میں پروگراموں کی قیادت کی۔ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کھیلوں کے وزراء اور سینئر سیاسی نمائندوں نے اس تحریک کو تقویت بخشی۔ ڈبروگڑھ میں جناب سربانند سونووال، ہمیرپور میں جناب انوراگ سنگھ ٹھاکر، الور میں جناب بھوپندر یادو اور میرٹھ میں جناب ارون گوول سمیت اہم ارکان پارلیمنٹ شہریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے حلقوں میں شامل ہوئے۔


قومی راجدھانی میں ایک تاریخی لمحہ اس وقت رونما ہوا جب ڈاکٹر منڈاویا نے جے ایل این اسٹیڈیم میں بھارت کے پہلے مونڈو ایتھلیٹکس ٹریک کا افتتاح کیا۔ ایس اے آئی کے انجینئرنگ ونگ کے ذریعے ریکارڈ چار ماہ میں مکمل کی گئی اس سہولت کی نقاب کشائی پی سی آئی کے صدر دیویندر جھجھریا، اولمپئن انجو بوبی جارج، سکریٹری کھیل جناب ہری رنجن راؤ، ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس کے سربراہ پال فٹزجیرالڈ، پیرا ایتھلیٹس سمت انٹل، سمرن شرما، پریتی پال، پروین کمار اور کئی دیگر کی موجودگی میں کی گئی۔ اولمپک چیمپیئن نیرج چوپڑا نے اس موقع کو ’’بھارت کے کھیل کے لیے ایک سنگ میل کا لمحہ‘‘ قرار دیا، جب کہ پیرالمپکس گولڈ میڈلسٹ سمت انٹل نے اس ٹریک کو ’’کھیلوں میں عمدگی کے لیے ایک نیا وژن‘‘ قرار دیا جو کھلاڑیوں کی نسلوں کو تحریک دے گا۔

مرکزی وزیر کے ساتھ پی سی آئی کے صدر دیویندر جھجھریا، پیرالمپکس گولڈ میڈلسٹ سمت انٹل، کانسی کی تمغہ جیتنے والی سمرن شرما، ڈبل میڈلسٹ پریتی پال، گولڈ میڈلسٹ پروین کمار اور اولمپئن انجو بوبی جارج بھی شامل تھے۔ صبح کا اختتام منسٹرز الیون اور میڈیا الیون کے درمیان کرکٹ میچ کے ساتھ ہوا جس میں ’ایک گھنٹہ کھیل کے میدان میں‘ کے تصور کو پورا کرنے والے دن کے جشن اور جامع جذبے کو نمایاں کیا گیا۔


ڈاکٹر منڈاویا نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کھیل ہماری زندگی کا لازمی حصہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہماری تاریخ میں کھیلوں کی ایک وسیع قسم کا ذکر کیا گیا ہے۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ٹارگیٹڈ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹی او پی ایس)، کھیلو انڈیا اور فٹ انڈیا جیسے اقدامات کے ذریعے اس جذبے کو واپس لائے۔ کھیلو بھارت نیتی اور نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ نافذ ہونے کے ساتھ ہی بھارت اولمپکس میں سرفہرست پانچ ممالک میں شامل ہونے کے عزائم کے ساتھ وکست بھارت 2047 کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کھیلوں کے میدان سے بڑا کوئی کلاس روم نہیں ہے، اور کھیلوں سے بڑا کوئی استاد نہیں ہے۔
ملک گیر جوش و خروش میں جامع اقدامات بھی شامل تھے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر میں 15 روزہ جشن کا اختتام میجر دھیان چند کو پانی کے اندر خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہوا، جو شرکت کے تنوع کی علامت ہے۔ فٹ انڈیا کے تعاون سے نیشنل اسپورٹس ڈے 2025 کی چھتری تلے ایشا آؤٹ ریچ کے زیر اہتمام بھارت کا سب سے بڑا دیہی کھیلوں کا میلہ ایشا گراموتسوم بھی سات ریاستوں میں منایا گیا۔ اپنے 17 ویں ایڈیشن میں، اس نے 35،000 گاؤوں میں کھیل اور فٹنس کی خوشی لائی ہے جس میں 5،000 ٹیمیں اور 5،000 خواتین سمیت 50،000 کھلاڑی والی بال اور تھرو بال مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا نے کھلاڑیوں اور مشہور شخصیات کے پیغامات کے ساتھ جشن کو بڑھا دیا۔ سچن ٹنڈولکر، پی وی سندھو، پی آر شریجیش، نیرج چوپڑا، یوگیشور دت، میرابائی چانو، سمت انٹل اور انجو بوبی جارج سمیت کئی دیگر کے ساتھ آیوشمان کھرانہ، آر مادھون، شلپا شیٹی کندرا، شروری، سیامی کھیر اور مدھوریما تولی نے نیشنل اسپورٹس ڈے کو ٹاپ ٹرینڈ بنانے میں حصہ لیا۔
تین روزہ جن آندولن کے حصے کے طور پر یہ تقریبات اگلے دو دنوں تک جاری رہیں گی۔ کل 30 اگست کو کھیلو بھارت نیتی 2025 اور نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ 2025 پر کھیلوں کے مباحثے اور کانفرنسیں ہوں گی۔ اس دن ملک بھر میں کھو، کبڈی، والی بال، بوری ریس اور رسہ کشی جیسے دیسی کھیلوں کے مقابلے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ 31 اگست کو یہ تقریبات فٹ انڈیا سنڈے آن سائیکل کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گی، جو ’سودیشی بھارت‘ کے موضوع پر سائیکلنگ کو طرز زندگی کی مشق کے طور پر فروغ دینے کے لیے ایک ملک گیر مہم ہے۔ دریں اثنا، اسپورٹس گڈز مینوفیکچرنگ پر ایک قومی کانفرنس کا کل دہلی میں آتم نربھر بھارت کے موضوع کے تحت افتتاح کیا جائے گا، جس میں گھریلو کھیلوں کی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ریاستوں میں اسی طرح کے کنکلیو منعقد کیے جائیں گے۔

تمل ناڈو اور اوڈیشہ کے گاؤوں سے لے کر دہلی اور ممبئی کے میٹرو تک، ہمالیہ کے قصبوں سے لے کر انڈمان کے سمندروں تک، بھارت نے آج ایک آواز میں بات کی – ’’ایک گھنٹہ، کھیل کے میدان میں‘‘۔ تقریباً ایک چوتھائی آبادی کے متحد ہونے کے ساتھ، کھیلوں کے قومی دن 2025 نے لوگوں کی شرکت کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے اور اولمپک کارکردگی کی طرف بھارت کے کھیلوں کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
***
(ش ح – ع ا)
U. No. 5455
(Release ID: 2162054)
Visitor Counter : 10