ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان اور جاپان نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت جوائنٹ کریڈٹنگ میکنزم (جے سی ایم) پر مفاہمت نامے  پر دستخط  کیے


جے سی ایم  کا مقصد کم کاربن ٹیکنالوجیز پر مبنی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کے بہاؤ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور استعداد کار میں اضافے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے، نیز اس کے تحت پیدا ہونے والے کاربن کریڈٹس کی بین الاقوامی تجارت کو بھی ممکن بنایا جائے گا

Posted On: 29 AUG 2025 5:20PM by PIB Delhi

ہندوستان کی وزارت ماحولیات، جنگلات و ماحولیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی ) نے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے ماحولیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی) کے تحت پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت حکومتِ جاپان کے ساتھ جوائنٹ کریڈٹنگ میکنزم  (جے سی ایم ) پر مفاہمت ناموں (ایم او سی) پر دستخط کیے۔

یہ پیش رفت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے بھارت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے اور پیرس معاہدے کے نفاذ کی سمت ایک اور اہم سنگِ میل کی نمائندگی کرتی ہے۔

یہ  مفاہمت نامہ ، جس پر رواں ماہ کے اوائل میں دستخط کیے گئے، ہند-جاپان تعاون کے ایک اہم شعبے ’’بہتر مستقبل کے لیے سبز توانائی پر مرکوز توجہ‘‘ کا حصہ ہے، جس کا ذکر آج وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جاپان کے اپنے موجودہ دورے کے دوران کیا۔

بھارت اور جاپان کے درمیان معاشی، تجارتی اور ثقافتی تعاون کی ایک مضبوط تاریخ موجود ہے۔ موجودہ مفاہمت نامہ (ایم او سی) کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت، نیشنل ڈیزگنیٹڈ ایجنسی فار ایمپلی مینٹیشن آف آرٹیکل 6 آف پیرس ایگریمنٹ  (این ڈی اے آئی اے پی اے) کے ذریعہ منظور شدہ کم کاربن ٹیکنالوجیز، بھارت کی طویل مدتی کم کاربن ترقیاتی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہیں، جس کا مقصد 2070 تک نیٹ زیرو کا حصول ہے۔

فی الوقت یہ حکمت عملی مہنگی ہے اور اس کی عمل داری کے لیے مالی امداد  (وائبلیٹی گیپ فنڈنگ) کی ضرورت ہے۔ جوائنٹ کریڈٹنگ میکنزم  (جے سی ایم ) اس ضمن میں سرمایہ کاری کے بہاؤ، تکنیکی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے معاونت کو فروغ دے گا تاکہ کم کاربن ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

یہ میکنزم ملک میں ایک ایسا داخلی نظام (ایکو سسٹم) اور شراکت داری تشکیل دے گا جو ان ٹیکنالوجیز کو مقامی سطح پر رائج کرنے میں مدد دے گا، جن میں اعلیٰ تکنیکی حل، مشینری، آلات، نظام اور بنیادی ڈھانچے شامل ہیں، تاکہ ان ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔

یہ مفاہمت نامہ ان منصوبوں کے نفاذ میں بھی مدد دے گی جو گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کے اخراج میں کمی یا ان کے خاتمے اور بھارت میں پائیدار ترقی میں معاون ہوں گے۔ اس کے علاوہ، یہ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت ایسے منصوبوں سے حاصل ہونے والے کاربن کریڈٹس کی بین الاقوامی تجارت کو ممکن بنائے گی، خصوصاً جاپان اور دیگر ممالک کے ساتھ، بغیر اس کے کہ بھارت کی این ڈی سی (قومی سطح پر طے شدہ تعاون) وعدوں پر منفی اثر پڑے۔

مزید برآں، وزارت ماحولیات، جنگلات و ماحولیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) کو مرکزی کابینہ کی جانب سے اجازت حاصل ہو چکی ہے کہ وہ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت دیگر ممالک کے ساتھ اسی طرز پر معاہدے کرنے اور عمل درآمد کے قواعد (رولز آف ایمپلی مینٹیشن   - آر او آئی) کو حتمی شکل دینے کے لیے حکومتِ ہند کی متعلقہ وزارتوں اور وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) سے مشاورت کر سکے۔

*****

ش ح۔ ش ت ۔ ت ح

U. No-5450


(Release ID: 2161957) Visitor Counter : 15
Read this release in: English , Hindi , Gujarati